مناظر اہل سنت و الجماعت علامہ تونسوی مدظلہ - سنی شیعہ…

مناظر اہل سنت و الجماعت علامہ تونسوی مدظلہ

  مولانا عبدالستار تونسوی

الحمدللہ کہ اب مولوی اسماعیل نے تسلیم کر لیا کہ تحریفِ قرآن کی روایتیں متواتر بالمعنیٰ ہیں مگر اس بات کا کوئی معنیٰ سمجھ میں نہیں آتا کہ مولوی عبد الستار صاحبؒ کمی و بیشی کے متعلق بناوٹ کر رہا ہے تحریف کس چیز کا نام ہے؟

لیجیے! یہ آپ کی معتبر کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 140 پر مرقوم ہے سیدنا علیؓ نے فرمایا:  

زَادُوْا فِيْهِ مَا ظَھَرَ تنُاکْرُہُ وَتَنَافُرُہُ۔

ترجمہ: انہوں نے زیادہ کر دیا قرآن مجید میں وہ کچھ جس کا منکر اور نا قابلِ قبول ہونا واضح ہے۔

اور آپ کی کتاب تفسیر صافی صفحہ 11 پر ہے:  

لَوْ لَا أَنَّهُ زِيْدَ وَنُقِصَ فِی الْقُرْآنِ مَا خَفِی حَقُّنَا عَلَى ذِی حِجًی۔ 

ترجمہ: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قرآن کے اندر زیادتی اور کمی کی گئی، تو ہمارا حق کسی عقلمند پر پوشیدہ نہ رہتا۔

مولوی اسماعیل! ذرا گوشِ ہوش سے سنیں اور سوچ سمجھ کر جواب دیں کہ یہ امام معصوم کمی و بیشی قرآن کے متعلق فرما رہے ہیں، یا عبد الستار اپنی طرف سے بناوٹ کر رہا ہے؟

2: آپ نے نہج البلاغہ کی یہ روایت جو سیدنا علیؓ سے پیش کی ہے کہ قرآن دو گتوں کے درمیان لکھا ہوا ہے، اس میں یہ کہاں ہے کہ دو گتوں کے درمیان والا قرآن غیر محرف اور کامل و مکمل ہے؟ بلکہ اسی دو گتوں والے قرآن کے متعلق تو دوسری روایات میں سیدنا علیؓ سے صاف الفاظ میں منقول ہے کہ اس میں کفر کے ستون ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہے، اور منافقوں نے اس میں بہت سی آیتیں گرا دی ہیں۔

3: حضرات! اسی مولوی اسماعیل کو آپ میرے مناظرہ کے لیے لائے ہیں جو اتنی جاہلانہ باتیں کرتا ہے کہ یہ زندیق کی روایت ہے جو قابلِ اعتبار نہیں اس بیچارے اسماعیل کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ یہاں سائل زندیق ہے، قائل اور راوی زندیق نہیں روایت تب نا قابلِ قبول ہوتی جب قائل یا راوی زندیق ہوتا یہاں تو قائل سیدنا علی المرتضیٰؓ ہیں جو زندیق کو اس کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں اور اس کی تسلی کرا رہے ہیں اور اس روایت کے آخر میں ثابت ہے کہ سیدنا علیؓ کے سمجھانے سے اس زندیق کی تسلی ہو گئی اور اس نے سیدنا علیؓ کی امامت اور بزرگی کو مان لیا، یعنی مومن کامل ہو گیا۔

اسماعیل صاحب! ہوش سے بات کرو یہ تم علامہ لکھنؤی کے فیض یافتہ شاگرد تونسوی سے بات کر رہے ہو، کسی جنگل میں ماتم اور نوحہ خوانی نہیں کر رہے۔

علاوہ ازیں اسی احتجاجِ طبرسی کے صفحہ 2 پر ہے کہ ہم نے روایات کی سندیں اس لیے بیان نہیں کیں:  

لِوُجُوْد إِمَّا الِاجْمَاعِ، أَوْ مُوَافَقَتِہ لِمَا دَلَّتِ الْعُقُوْلُ عَلَيْهِ، أَوْ لِا شُّتہْارَہ۔ 

ترجمہ: کیونکہ ان روایاتِ احتجاجِ طبرسی پر یا تو اجماع ہے، یا یہ روایتیں عقل کے موافق ہیں، یا مشہور ہیں۔ مولوی صاحب! اب فرمائیے اگر یہ روایت زندیق کی ہوتی تو صاحبِ احتجاج کیوں درج کرتے یا ایسی زبردست توثیق کیوں کرتے؟

4: مولوی اسماعیل صاحب! آپ کا یہ قول کتنا لغو ہے کہ حضرت علیؓ کے قرآن سے ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹ نکالے گئے یاد رکھیے: ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کو نکالنے کا نام تحریف نہیں رکھا جاتا کیونکہ تحریف اصل قرآن کے الفاظ میں کمی و بیشی جو انسانوں کی طرف سے کی جائے اس کا نام ہے اور ناسخ و منسوخ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں، اور تفسیری نوٹ اصل کتاب اللہ میں شامل اور داخل نہیں ہوتے کہ ان کو تحریف کہا جائے۔

ذرا غور تو کیجیے! امام معصوم فرماتے ہیں کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستون ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہے کیا ناسخ و منسوخ اور تفسیری نوٹوں کو گرانے سے کفر کے ستون قائم ہو جاتے ہیں اور رسول اللہﷺ کی توہین ہو جاتی ہے؟

مولوی اسماعیل صاحب! اگر ہمت ہے تو کسی امام معصوم کی ایک معتبر روایت ایسی پیش کیجیے جس میں عدمِ تحریف کی تصریح کی گئی ہو۔

5: یہ دیکھیے دیباچہ مقبول ترجمہ کے صفحہ 33 پر مرقوم ہے:  

تفسیر عیاشی میں سیدنا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ قرآنِ مجید کی آیتیں تو بہت سی گرا دی گئی ہیں، مگر جو زیادہ کیا گیا ہے وہ کہیں کہیں کوئی حرف بڑھا دیا گیا ہے۔

6: مقبول ترجمہ کے صفحہ 404 پر اصول کافی کے حوالہ سے مرقوم ہے:  

فَسَيَرَى اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۔

سیدنا جعفر صادقؒ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: یوں نہیں ہے، دراصل یہ تھا وَالْمَأْمُوْنُوْنَ۔

مولوی صاحب! اب بتائیے قرآن کی تحریف ہوئی یا نہیں؟

7: اور كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ الخ۔(سورۃ آلِ عمران: آیت 110)

کے متعلق مقبول ترجمہ کے صفحہ 125 پر مرقوم ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ یہ آیت یوں نازل ہوئی تھی: اِنَّكُمْ خَيۡرُ اَئِمَّةٍ اور خَيۡرَ اُمَّةٍ کی سخت تردید فرمائی امام معصوم کا قول ہے، سوچ کر جواب دیجیے۔