مناظر اہل سنت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

مولوی اسماعیل صاحب نے فروعِ کافی سے جو روایت سیدنا باقرؒ کی پیش کی ہے: 

اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوا حُدُوْدَہٗ۔

اس روایت میں تمام قرآنِ مجید کے حروف اور الفاظ کا قائم رکھنا کہاں لکھا ہے؟ اس میں تو مطلق حروف کو قائم رکھنے کا ذکر ہے، نہ تمام کا۔

علاوہ ازیں سیدنا محمد باقرؒ کی اسی روایت میں باقی امتوں کے متعلق بھی بعینہٖ یہی الفاظ سیدنا محمد باقرؒ نے فرمائے ہیں: 

اَنْ اَقَامُوا حُرُوْفَہٗ وَحَرَّفُوا حُدُوْدَہٗ۔

یعنی یہود و نصاریٰ اممِ سابقہ نے تورات و انجیل وغیرہ کے حروف قائم رکھے اور حدود کو محرف کیا۔ اب مولوی اسماعیل صاحب بتائیں، کیا اممِ سابقہ نے تورات و انجیل کے پورے الفاظ و حروف قائم رکھے اور وہ بھی قرآن کی طرح محفوظ ہیں؟ باقی صاحبِ تفسیر صافی کا اَلصَّحِيْحُ مِنْ مَذْھَبِنَا کہنا تقیہ پر محمول ہے دوسرے ائمہ معصومین کے اقوال اس کے خلاف ہیں تیسرے یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جو دلیل صاحبِ تفسیر صافی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اہتمام کے متعلق لکھی ہے، کیا وہ آپ کے نزدیک معتبر ہو سکتی ہے؟ جب کہ آپ کے مذہب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خائن اور غاصب و ظالم بلکہ کافر و مرتد ہیں مولوی اسماعیل صاحب! تونسوی سے مناظرہ کر رہے ہو، کسی جنگل میں ماتم و نوحہ خانی نہیں کر رہے کچھ سوچ سمجھ کر بولیے۔

دیکھیے! امامِ معصوم کا قول اصولِ کافی صفحہ 471:  

عَنْ عَبْدِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: اِنَّ الْقُرْآنَ الَّذِی جَاءَ بِهِ جَبْرَئِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اِلٰى مُحَمَّدٍ مﷺ سَبْعَةَ عَشَرَ اَلْفَ اٰيَۃٍ۔  

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا: بہ تحقیق جو قرآن جبرئیل علیہ السلام محمدﷺ پر لائے تھے وہ سترہ ہزار آیات تھیں۔

دیکھیے! آپ کا قول امامِ معصوم فرما رہے ہیں کہ جو قرآن جبرئیل علیہ السلام حضرت محمدﷺ کی طرف لائے وہ سترہ ہزار آیات تھیں، مگر موجودہ قرآن کی سات ہزار سے بھی کم آیات ہیں اب فرمائیے! قرآن مکمل رہا؟ نیز احتجاجِ طبرسی صفحہ 135 پر ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:  

لَوْ شَرَحْتُ لَكَ كُلَّ مَا اُسْقِطَ وَحُرِّفَ وَ بُدِّلَ مِمَّا يَجْرِی ھٰذَا الْمَجْرٰى لَطَالَ وَ ظَھَرَ مَا تَحْظُرُ التَّقِیَّۃُ اِظْھَارَہٗ۔  

ترجمہ: اگر میں تجھ سے وہ تمام آیتیں بیان کر دوں جو قرآن میں سے نکال ڈالی گئیں اور تحریف کی گئیں اور بدل دی گئیں اور جو اسی قسم کی کاروائیاں ہوئیں، تو بہت طول ہو جائے اور تقیہ جس چیز سے روکتا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔

غور کیجیے کہ آپ کی معتبر کتاب میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کیا آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا صحیح مذہب یہی ہے کہ تحریف نہیں ہوئی؟