مناظر اہل سنت - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

مناظر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

حضرات! میں تو سمجھتا تھا کہ یہاں میرے مناظرے کے لیے شیعہ حضرات لکھنؤ وغیرہ سے کسی اہلِ علم اور اپنے مذہب کو سمجھنے سوچنے کی لیاقت و قابلیت رکھنے والے آدمی کو لائیں گے۔ اب دیکھیے کہ آپ کا مولوی اسماعیل: 

اَمَّا اِعْتِقَادُ مَشَائِخِنَا فِیْ ذٰلِکَ فَالظَّاهِرُ الخ۔

کا ترجمہ ظاہر بینِ علماء کر رہا ہے اس بے چارے کو تو اپنے مذہب کی کتابوں کی خبر تک بھی نہیں یہ تو صرف اہلِ بیتِ رسولﷺ اور خلفاء و صحابہ رسولﷺ پر تبرّا کر سکتا ہے دیکھیے! میں ان کی اسی عبارت کا ترجمہ ان کے مذہب کے علماء سے نقل کرتا ہوں:  

دیباچہ مقبول ترجمہ (شیعہ) صفحہ 47 پر مرقوم ہے:  

اب رہا ہمارے بزرگ علماء کا اس بارے میں اعتقاد، تو یہ کھلی بات ہے کہ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی طاب ثراہ قرآنِ مجید میں تحریف اور کمی کے قائل ہیں چند سطور کے بعد لکھتے ہیں:  

یہی حالت ان کے استاد علی بن ابراہیم قمی کی ہے ان کی تفسیر ان باتوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کا یہ اعتقاد بڑے شد و مد سے ہے، جیسا کہ ہم نے تھوڑا سا اوپر دکھلایا ہے یہی حالت شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی کی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب احتجاج میں انہی دونوں بزرگوں کے انداز پر لکھا ہے۔

دیکھیے حضرات! خود علماءِ شیعہ فَالظَّاهِرُ کے وہی معنیٰ کر رہے ہیں جو ہم نے کیے ہیں، کہ فَالظَّاهِرُ کے معنیٰ یہ تو کھلی بات ہے سے کیا ہے مولوی اسماعیل کی طرح ظاہر بین اس کے معنیٰ کسی نے نہیں کیے یہ خود اس کی شکست اور لاجوابی کا اقرار ہے کہ اب ترجمے بھی غلط کر رہا ہے۔

2: شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ، ابو جعفر طوسی، ابو علی طبرسی تمام شیعہ مذہب والوں میں ان چار مولویوں کے سوا کوئی ایک تنفس بھی ایسا نہیں جو تحریفِ قرآن کا قائل نہ ہو صرف ان چار شخصوں کے اقوال بھی بطورِ تقیہ کے ہیں۔

3: ائمہ معصومین کے اقوال اور متواتر روایاتِ تحریف کے مقابلے میں ان چار مولویوں کے قول کی کیا وقعت ہے؟ مولوی اسماعیل صاحب! آج ائمہ معصومین کو چھوڑ کر غیر معصومین مولویوں کے پیچھے کیوں دوڑے جا رہے ہیں؟ لوگوں کو تو کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ائمہ معصومین والا ہے، آج ائمہ معصومین کا مذہب منظور نہیں ہے؟ دیکھیے! امامِ معصوم کا قول احتجاجِ طبرسی صفحہ 137 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا:  

وَالَّذِی بَدَا فِی الْكِتَابِ مِنَ الْاِزْرَاءِ عَلَى النبیﷺ مِنْ فِرْقَةِ الْمُلْحِدِيْنَ۔ 

ترجمہ: کتاب قرآنِ مجید میں جو برائی نبی کریمﷺ کی ہے یہ ملحدوں کی طرف سے ہے یعنی جامعینِ قرآن کی بڑھائی ہوئی ہے۔

دیکھیے! امامِ معصوم کے قول سے ثابت ہو رہا ہے کہ ملحدوں نے اس قرآن میں نبی کریمﷺ کی برائی کو داخل کر دیا تو آپ کے شیخ صدوق، شریف مرتضیٰ وغیرہ نے اس برائی کو قرآن سے نکال دیا ہے۔

نیز تفسیر صافی صفحہ 13 پر ہے کہ سیدنا علیؓ نے ایک شخص کو آیات کے ربط کے متعلق جواب دیا:  

فَهُوَ مِمَّا قُدِّمَتْ ذِكْرُهُ مِنْ اِسْقَاطِ الْمُنَافِقِيْنَ مِنَ الْقُرْآنِ بَيْنَ الْقَوْلِ فِی الْيَتٰمٰى وَبَيْنَ نِكَاحِ النِّسَاءِ مِنَ الْخِطَابِ وَالْقَصِص اَكْثَرُ مِنْ ثُلُثِ الْقُرْآنِ۔ 

ترجمہ: پس اس کی وجہ وہی ہے جو پہلے بیان کر چکا ہوں کہ منافقوں نے قرآن میں سے بہت کچھ نکال ڈالا فِی الْيَتٰمٰى اور فَانْكِحُوْا کے درمیان میں بہت سے احکام اور قصے تھے جو تہائی قرآن دس پاروں سے زیادہ تھے وہ نکال ڈالے گئے اسی وجہ سے بے ربطی ہو گئی۔

البتہ شیخ صدوق اور شریف مرتضیٰ وغیرہ کا قول تب معتبر ہوتا جب وہ اس کی تائید میں کسی امامِ معصوم کا قول پیش کرتے اب تو ان مولویوں کا یہ قول یقیناً بطورِ تقیہ ہے۔