عقل و خرد
علی محمد الصلابیسیدنا احنف رحمۃاللہ بڑے عقل مند انسان تھے۔ آپ نے ایک مرتبہ فرمایا: جس کے اندر چار خصلتیں ہوں وہ بلا تنازع اپنی قوم کی قیادت و سرداری کرے گا، جس کے پاس دین ہو جو اس کو غلط کاموں سے روکے، جس کے پاس حسب ہو جو اسے رذیل حرکتوں سے باز رکھے، جس کے پاس عقل ہو جو اس کی رہنمائی کرے، جس کے پاس حیا ہو جو اس کو بے حیائی کے کاموں سے باز رکھے۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 306)
اور فرمایا: عقل بہترین ساتھی ہے، اور ادب بہترین میراث، اور توفیق بہترین رفیق ہے۔
(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 19)
اور فرمایا: میرے پاس سے اٹھ کر چلے جانے کے بعد کسی کو میں نے برائی کے ساتھ یاد نہ کیا۔
اور جب آپ کے پاس کسی کا ذکر کیا جاتا تو فرماتے: چھوڑو اس کو اپنی روزی کھانے دو، اس پر اپنی موت آنے دو۔
(تہذیب، ابنِ عساکر: جلد، 7 صفحہ، 21)
اور فرمایا: جب بھی کسی نے میری مخالفت کی اگر وہ مجھ سے بڑا تھا تو میں نے اس کی قدر کو پہچانا، اور اگر مجھ سے چھوٹا تھا تو اپنی قدر کو اس سے بلند کیا، اور اگر وہ میرے برابر تھا تو میں نے اس پر مہربانی کی۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 307)