نماز تراویح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نماز تراویح

  غلام مصطفی ظہیر امن پوری

صفحہ 3 از 3
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں:
وعنِ ابنِ شِهابٍ عن عُرْوَةَ بنِ الزُّبَيرِ عن عبدِالرحمٰنِ بن عبدٍ القارِی أنهُ قال: خرَجتُ معَ عُمرَ بن الخَطّابِ رضی الله عنهُ ليلةً فی رمضانَ إِلى المسجدِ فإِذا الناسُ أوزاعٌ مُتَفَرِّقونَ يُصلِّی الرجلُ لنَفْسِهِ، ويُصلِّی الرجُلُ لنفسه ويُصَلِّی الرَّجُلُ فيُصلِّی بصلاتِهِ الرَّهطُ فقال عمرُ: إِنی أرَى لو جَمعتُ هؤلاءِ على قارىٍء واحدٍ لَكانَ أمْثَلَ ثمَّ عَزمَ فجمَعَهم على أُبی بنِ كعبٍ ثمَّ خَرَجتُ معهُ ليلةً أُخرى والناسُ يُصَلُّونَ بصلاةِ قارِئهم، قال عمرُ: نِعْمَ البِدْعةُ هذهِ، والتی يَنامونَ عنها أفضَلُ منَ التی يَقومونَ يُريدُ آخرَ الليلِ وكان الناسُ يَقُومونَ أوَّلهَ
ترجمہ: ’’میں رمضان کی ایک رات سیدنا عمر بن خطابؓ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا، لوگ مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ کوئی آدمی اکیلا اور کوئی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: میرے مطابق انہیں ایک قاری پر جمع کر دوں، تو بہت اچھا ہو گا۔ آپؓ نے عزم مصمم کر لیا اور لوگوں کو سیدنا ابی بن کعبؓ کی امامت پر جمع کر دیا۔ ایک رات پھر میں آپؓ کے ساتھ نکلا۔ لوگ ایک قاری کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: یہ تجدید تو کیا خوب ہے! البتہ ان سے وہ افضل ہیں، جو اس وقت سو جاتے ہیں اور آخری پہر قیام کرتے ہیں۔
(صحيح البخاری: صفحہ، 2010)
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی بیان کرتے ہیں: 
حدثنا علی ابنِ سعيد التستری أخبرنا الحكم ابن نافع عن شعيب يعنی ابن أبی حمزة عن عبدالله ابن أبی حسين حدثنی عيسى ابن طلحة عن عمرو ابن مرة الجهنی قال: جاء رسولَ الله صلى الله عليه وسلّم رجلٌ من قُضاعَةَ فقال له: يا رسول الله أرأيت إن شهدت أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وصليت الصلوات الخمس، وصمت الشهر، وقمت رمضان، وآتيت الزكاة فقال النبی صلى الله عليه وسلّم: من مات على هذا كان من الصديقين والشهداء
ترجمہ: ’’ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میں کلمہ توحید کی گواہی دوں، آپﷺ کی رسالت کا اقرار کروں، پانچوں نمازیں پڑھوں، زکوٰۃ ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں اور تراویح ادا کروں، تو میرا شمار کن میں ہو گا؟ فرمایا: صدیقوں اور شہیدوں میں‘‘
(مسند البزار: صفحہ، 25 صحیح ابنِ خزيمة: صفحہ، 2212 صحیح ابنِ حبان: صفحہ، 3438 وسنده صحيح)
حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
أرجوا أنه اسناد حسن أو صحيح 
ترجمہ: ’’امید ہے کہ سند حسن یا صحیح ہے۔‘‘
(مجمع الزوائد: جلد، 1 صفحہ، 46)

صفحہ 3 از 3