نماز تراویح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نماز تراویح

  غلام مصطفی ظہیر امن پوری

صفحہ 2 از 3
ترجمہ: مجھے خدشہ ہوا کہ قیام اللیل فرض نہ ہو جائے اور آپ اس سے عاجز آ جائیں۔
(صحيح البخاری: 924، - ح، 178 مسلم: 761)
سیدنا ابوذرؓ بیان کرتے ہیں:
 حدّثنا عبدالله حدَّثنی أبی حدثنا عبد الرزاق أنبانا سفيان عن داود بن أبی هند عن الوليد بن عبدالرحمٰن الجرشی عن جبير بن نفير الحضرمی عن أبی ذر قال: صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلّم رمضان فلم يقم بنا شيئاً من الشهر، حتى بقی سبع فقام بنا حتى ذهب نحو من ثلث الليل، ثم لم يقم بنا الليلة الرابعة وقام بنا الليلة التی تليها حتى ذهب نحو من شطر الليل، قال: فقلنا: يا رسول اللهﷺ، لو نفلتنا بقية ليلتنا هذه؟ قال: إن الرجل إذا قام مع الإمام حتى ينصرف، حسب له بقية ليلته، ثم لم يقم بنا السادسة وقام بنا السابعة وقال: وبعث إلى أهله واجتمع الناس، فقام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قال: قلت: وما الفلاح قال: السحور
ترجمہ: ”ہم نے رسول اکرمﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپﷺ نے قیام نہیں کروایا، تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کروایا۔ چوبیسویں کو قیام نہیں کروایا، پھر پچیسویں کو نصف رات تک قیام کروایا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! کاش کہ آپﷺ پوری رات قیام کرواتے۔ فرمایا: باجماعت قیام کرنے پر پوری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔ چھبیسویں رات قیام نہیں کروایا۔ ستائیسویں شب صحابہ كرام رضی اللہ عنہم کو بمع اہل و عیال قیام کروایا، تا آنکہ ہمیں خدشہ ہوا کہ فلاح‘‘ سے محروم نہ رہ جائیں۔ راوی نے سیدنا ابو ذرؓ سے پوچھا: فلاح سے کیا مراد ہے؟ کہا: سحری۔ پھر بقیہ ایام قیام نہیں کروایا۔“
(مسند الإمام أحمد: جلد، 5 صفحہ، 159 سنن أبی داؤد: صفحہ، 1375 سنن النسائی: صفحہ، 1606 سنن الترمذی: صفحہ، 806، سنن ابنِ ماجہ: صفحہ، 1327 و سندہ صحیح)
سیدنا زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں:
 وَقَالَ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ سَعِيدٍ وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِى سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضى الله عنه قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُجَيْرَةً مُخَصَّفَةً أَوْ حَصِيرًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّى فِيهَا، فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلاَتِهِ، ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمْ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - «مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلاَةِ فِى بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِى بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ
ترجمہ: ’’رسول اکرمﷺ نے چٹائی یا کھجور کی چھال کا خیمہ بنایا، گھر سے نکل کر اس میں قیام اللیل کے لیے داخل ہوئے۔ صحابہ كرام رضی اللہ عنہم آپﷺ کے پیچھے ہو لیے اور آپﷺ کی اقتدا میں قیام کرنے لگے۔ اگلی رات آئے، تو رسول اکرمﷺ نے آنے میں تاخیر کر دی، لوگوں نے شور کیا اور دروازے کو کنکریاں ماریں۔ رسول اللہﷺ غصہ میں باہر آئے اور فرمایا: آپ کا شوق عبادت ایسا ہی رہا، تو مجھے لگا کہ آپ پر یہ نماز (مسجد میں ادا کرنا) فرض کر دی جائے گی۔ گھروں میں نماز پڑھا کرو، فرض نماز کے علاوہ مرد کی سب سے بہترین نماز گھر میں ہی ہے ‘‘
(صحيح البخاری: صفحہ، 731، صحیح مسلم: صفحہ، 781 ح، 213 واللفظ له)
سیدنا ثعلبہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں:
 أنبأ أبو زكريا بن أبی إسحاقَ و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضی و أبو عبدالرحمٰن السُّلَمِی قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوبَ أنبأ بحر بن نصر قال قرىء على عبدالله بن وهْب أخبرك عبدالرحمٰن بن سلمانَ و بكر بن مُضَر عن ابن الهَادِ أنَّ ثَعْلَبَةَ بنَ أبِی مالكٍ القُرَظِی حدثه قالَ: خَرَجَ رسولُ اللّٰهﷺ ذَاتَ ليلةٍ فی رَمَضَانَ فَرَأَى ناساً فی ناحِيَةِ المَسْجِدِ يُصَلُّونَ فقالَ: ما يَصْنَعُ هؤلاءِ، قال قائل: يا رسولَ الله هؤلاءِ ناسٌ ليس مَعَهُم قرآنٌ، وأُبَی بنُ كَعْبِ يَقْرأُ، وَهُم مَعَهُ يُصَلُّونَ بصلاتِهِ، قال: قَدْ أحْسَنُوا أوْ قَدْ أصَابُوا ولم يَكْرَهْ ذلِكَ لَهُمْ
ترجمہ: رسول اکرمﷺ رمضان کی ایک رات تشریف لائے، صحابہ كرام رضی اللہ عنہم کو مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھتے دیکھا، تو دریافت کیا: یہ کیا کر رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! انہیں قرآن یاد نہیں۔ سیدنا ابی بن کعبؓ قرأت کر رہے ہیں اور یہ ان کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ فرمایا: انہوں نے اچھا کیا ہے اور درستی کو پہنچے ہیں۔ آپﷺ نے اسے ناپسند نہیں کیا۔‘‘
(السنن الكبرىٰ للبيہقی: جلد، 2 صفحہ، 495 معرفة السنن والآثار للبيہقی: جلد، 2 صفحہ، 303 ح، 1363 وسنده حسن)
سیدنا نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں:
 حدّثنا عبدالله حدَّثنی أبی حدثنا زيد بن الحبّاب حدثنا معاوية بن صالح حدَّثنی نعيم بن زياد أبو طلحة الأنماری: أنه سمع النعمان بن بشير يقول على منبر حمص: قمنا مع رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلّم ليلة ثلاث وعشرين فی شهر رمضان إلى ثلث الليل الأول ثم قمنا معه ليلة خمس وعشرين إلى نصف الليل ثم قام بنا ليلة سبع وعشرين حتى ظننا أن لا ندرك الفلاح، قال: وكنا ندعو السحور الفلاح، فأما نحن فنقول: ليلة السابعة ليلة سبع وعشرين وأنتم تقولون: ليلة ثلاث وعشرين السابعة، فمن أصوب نحن أو أنتم؟
ترجمہ: ’’ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ رمضان کی تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو نصف رات، ستائیسویں کو اتنا لمبا قیام کیا کہ ہمیں سحری فوت ہونے کا خدشہ ہوا۔‘‘
(مسند الإمام أحمد: جلد، 4 صفحہ، 272 سنن النسائی: جلد، 7 صفحہ، 1607 وسنده صحيح)
امام حاکم رحمتہ اللہ (جلد، 1 صفحہ، 440) نے اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ کی شرط پر صحیح اور حافظ ذہبیؒ نے حسن کہا ہے۔
صفحہ 2 از 3