باب سوم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

باب سوم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

قال الرسولﷺ علمُ القرآن یقینی علم ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 2)

یہ کتاب شک و شبہ سے پاک و منزہ ہے۔

مگر اس کے برعکس علمُ الحدیث، علمُ الاخبار ظنی علم ہے کیونکہ شیعہ و سنی کا یہ متفق علیہ اصولِ کلام ہے کہ: 

الْخَبَرُ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ۔

ترجمہ: یعنی خبر میں صدق و کذب دونوں کا احتمال ہے۔

اس امر سے کسی فریق کو انکار نہیں ہو سکتا کہ جنابِ سرورِ کائناتﷺ کی حیاتِ جسدی میں بھی اور ان کی حیاتِ ابدی میں جلوہ فگن ہونے کے بعد بھی ایک طویل عرصہ تک احادیث انسانی حافظہ کے رحم و کرم پر محفوظ رہتی رہیں اور ایک پشت سے دوسری پشت میں بذریعہ آلہ نطق منتقل ہوتی رہیں۔ 

اگرچہ بعض ائمہ اور مشاہیرِ علماء نے ان کو ایک حد تک ضبط کر لیا، تاہم ان کے باضابطہِ تدوین کہیں جا کر دوسری صدی میں ہوا اور اس عرصے میں نبی کریمﷺ کی دینی و سیاسی مخالفتوں اور مناقشوں کے طوفانِ بے تمیزی کے باعث صحیح احادیث کے علاوہ بے شمار وضعی حدیثیں بھی شامل کر لی گئیں جس کی وجہ سے صدق و کذب میں تمیز کرنا کما حقہ سخت مشکل امر ہے۔

لیکن باوجود اس اشتباہ کے، چونکہ فریقین اپنے مباحثوں اور مناظروں میں روایاتِ احادیث کو بھی قاضی النزاع مقرر کرتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی ان کی طرف رجوع کیے بغیر چارہ نہیں ہے چنانچہ ہم اول شیعوں کی معتبر کتبِ احادیث سے حرمتِ متعہ ثابت کریں گے، اور اس کے بعد سنیوں کی ان احادیث پر تنقید کریں گے جو شیعوں کی طرف سے حلتِ متعہ میں پیش کی جاتی ہیں۔