اس روایت سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
1: شیعوں کے امام قائم یعنی مہدی کی تشریف آوری کسی اور کے حق میں رحمت ہو کہ نہ ہو، مگر شیعوں کے حق میں تو یقیناً زحمت ہی ہوگی پھر نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے ان کی تشریف آوری کا طے شدہ وقت کیوں بدل دیا؟ اگر سیدنا حسینؓ کی شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو غصہ آیا ہو تو تو امام قائم کو 70ھ کی جگہ 71ھ میں بھیج کر سیدنا حسینؓ کا انتقام لینا چاہیے تھا نہ یہ کہ قائم آل محمد کے ظہور کو مزید ملتوی کر دیا جاتا اس کی وجہ شاید یہ ہوگی کہ کوفہ کے بے وفا شیعوں نے خطوط کے بورے بھیج کر سیدنا حسینؓ کوفہ طلب کیا اور جب سیدنا حسینؓ ان کی تحریک پر عازم کوفہ ہوئے تو انہوں نے طوطا چشمی کا مظاہرہ کیا اور سیدنا حسینؓ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور وہ بے کسی و بے بسی کے عالم میں اپنے کنبہ سمیت شہید ہو گئے ایسے غدار، طوطا چشم اور بے وفا شیعوں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو گئے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لائق نہ سمجھا کہ انہیں امام قائم کی نعمت سے سرفراز کیا جائے۔
2: اللہ تعالیٰ کو امام قائم کے بارے میں دو مرتبہ بدا ہوا اور اس کو بھیجنے کا دوبارہ وعدہ کر کے اس کے خلاف کیا حالانکہ وعدہ خلافی ایک ایسا عیب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے قرآن مجید میں:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ۞
(سورۃ آل عمران: آیت 9)
کئی جگہ وارد ہے یعنی اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا نیز وعدہ خلافی جھوٹ ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے شیعوں کا مذہب عجیب ہے کہ امام کو معصوم کہتے ہیں اور خدا کو جھوٹ میں ملوث کرتے ہیں نعوذ باللہ۔ استغفراللہ۔
3: پھر خدا کو کوئی ایسی مجبوری بھی نہیں تھی کہ خواہی نخوائی اس کو وعدہ خلافی کرنا پڑتی اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اماموں کو قائم آل محمد کے ظہور کا وقت نہ بتایا تاکہ وعدہ کی خلاف ورزی نہ کرنی پڑتی اور اگر وعدہ کر ہی لیا تھا تو شیعوں سے غصہ ہو کر اس کو ٹالنا اس کے لطف کے خلاف تھا اور لطف علی اللہ، امامیہ کے نزدیک واجب ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے واجب کا بھی لحاظ نہ رکھا۔
4: اور جو وعدہ دو بار ٹالا جا چکا اس کا کیا اعتبار کہ وہ ضرور پورا ہی ہوگا؟ روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو مٹا دیا چنانچہ امام نے جو آیت پڑھی اس کا یہی مطلب ہے اور اس وعدہ کو مٹا دینے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گیارہویں امام کو لا ولد اٹھا لیا اور امام قائم کا نام لینے کی بھی ممانعت فرما دی تاکہ لوگ انتظار میں نہ رہیں بہرحال یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ منسوخ ہی کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ جب اکابر آئمہ کے شیعوں کی غداری و بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے سبطِ رسولﷺ اور جگر گوشہ بتول کو شہید ہوتا دیکھتے ہیں اور اس سے متاثر نہیں ہوتے تو شر القرون کے شیعوں کا کیا اعتبار؟ لہٰذا قرین مصلحت یہی ہے کہ ظہورِ مہدی کے قصہ کو ہمیشہ کے لیے ختم ہی کر دیا جائے۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ سیدنا حسینؓ کی طرح سیدنا مہدی بھی ان کی بے وفائی کا نشانہ بن جائیں بہر حال اوپر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ آیت شریفہ:
يَمۡحُوۡا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُ الخ۔
(سورۃ الرعد آیت 39)
کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ظہورِ مہدی کو منسوخ ہی کر دیا یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک نہیں آئے اور میری پیش گوئی یاد رکھیں کہ شیعہ حضرات جس نامعلوم شخصیت کو قائم آل محمد کہتے ہیں وہ قیامت تک نہیں آئیں گے ہاں! اہلِ سنت کے مسلمہ سیدنا مہدی ان شاء اللہ اپنے وقت پر تشریف لائیں گے اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق ائمہ کو تو ما كان وما يكون کی ہر لحظہ خبر رہتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو نعوذ باللہ واقعات کی ترتیب بھی یاد نہیں رہتی اور واقعات کا قبل از وقوع علم بھی نہیں ہوتا اگر اسے پہلے سے معلوم ہوتا کہ سیدنا حسینؓ 61ھ میں شہید ہوں گے اور ان کی شہادت کی وجہ سے ظہورِ قائم کا وقت بدلنا پڑے گا یا اسے یہ معلوم ہوتا کہ ائمہ یہ راز اپنے شیعوں کے پاس اگل دیں گے اور شیعہ اس راز کو ساری دنیا میں مشہور کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ ظہور قائم آل محمد کا وقت ہی مقرر نہ کرتا۔ استغفراللہ۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بارہ اماموں کی تجویز خدا و رسول کی طرف سے نہیں، ورنہ یہ کیسے ممکن ہوتا کہ اللہ تعالیٰ قائم آل محمد کا ظہور کا وقت 70ھ یا 140ھ مقرر فرماتے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوگا کہ 70ھ کا زمانہ سیدنا زین العابدین علی بن حسینؓ متوفی 93ھ کی امامت کا زمانہ ہے اور 140ھ سیدنا جعفرؒ کی امامت کا دور ہے اگر اللہ تعالیٰ اپنی تجویز کے مطابق قائم آل محمد کو 70ھ یا 140ھ میں بھیج دیتا تو بارہ اماموں کا سلسلہ دھرے کا دھرا رہ جاتا اس سے معلوم ہوا کہ بارہ اماموں کا سلسلہ منجانب اللہ نہیں بلکہ لوگوں کی اپنی تصنیف ہے۔
سلسلہ امامت میں ایک الجھن یہ پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امام زادے کو امامت کے لیے نامزد کیا جاتا تھا۔ لیکن قضا و قدر کے فیصلہ کے مطابق اس کی موت امام کے سامنے ہو جاتی ناچار اللہ تعالیٰ کو فیصلہ بدلنا پڑتا اور اس کی جگہ دوسرے امام زادے کو امامت کے لیے نامزد کیا جاتا اس قسم کا حادثہ دو مرتبہ پیش آیا پہلی مرتبہ
سیدنا جعفرؒ کے زمانے میں کہ ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیلؒ کو امامت کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان صاحبزادے کا انتقال سیدنا جعفرؒ کی زندگی میں ہو گیا لا محالہ اللہ تعالیٰ کو فیصلہ بدلنا پڑا اور ان کی جگہ دوسرے صاحبزادے کو امامت کے لیے نامزد کیا گیا۔