عبدالمطلب بن ہاشم
علی محمد الصلابیعبدالمطلب بن ہاشم، رسول اللہﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دادا تھے، عبدالمطلب بن ہاشم اپنے چچا ’’مطلب‘‘ کے بعد حجاج کے لیے پینے کا پانی فراہم کرنے، اور ان کی مہمان نوازی کرنے کے منصب پر سرفراز ہوئے، انھوں نے اپنے عہد میں اپنے آباء و اجداد کے نقشِ قدم پر لوگوں کی یہ خدمات بڑی خوبی اور وسعت سے انجام دیں، جس سے لوگوں کے درمیان ان کا رتبہ بلند ہوا، اور ان کو وہ عزت و توقیر، عوام کی عقیدت اور خواص کا احترام حاصل ہوا جو ان کے پیش رو بزرگوں کو بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔
(السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 142)
عبدالمطلب اپنے دادا قصی کی طرح بڑے مال دار، اور قریش کے تنہا مخدوم و مطاع نہیں تھے، بلکہ اس وقت مکہ میں ان سے زیادہ مال دار، صاحب حیثیت و وجاہت لوگ موجود تھے، البتہ اعیان مکہ میں ان کا شمار تھا، کیوں کہ سقایہ و رفادہ کا منصب انھیں حاصل تھا، وہ بئر زمزم کے متولی تھے اور زمزم کا بیت اللہ سے جو تعلق ہے اس کی بنا پر ان کی وجاہت میں اضافہ ہوا۔
(المفصل فی تاریخ العرب قبل الإسلام، جواد علی: جلد 4 صفحہ 78 المرتضیٰ: صفحہ 22)
عبدالمطلب کو بیت اللہ کی عظمت اور اس کے خانۂ خدا ہونے کا یقین اور اس کی نگہبانی و پاسبانی کا پختہ اعتماد تھا، اس کا اندازہ ان کی اس گفتگو سے کیا جاسکتا ہے جو یمن کے حاکم ابرہہ سے کی تھی، جب اس نے مکہ پر حملہ آور ہونے اور اس کی اہانت اور عظمت کو پامال کرنے کا ارادہ کیا، تو ابرہہ کے سپاہی عبدالمطلب کے دو سو اونٹ بھگا لے گئے، عبدالمطلب اس سے گفت و شنید کے لیے گئے، اس کے دربار میں جانے کی اجازت لی، ابرہہ نے ان کی تعظیم کی اور ان کے استقبال میں اپنے تخت سے اتر پڑا اور انھیں اپنے ساتھ بٹھایا، اور پوچھا: کیا حاجت ہے جس کے لیے تکلیف کی؟ عبدالمطلب نے فرمایا: میری حاجت یہ ہے کہ تمھارے آدمی میرے دو سو اونٹ بھگا کر لے آئے ہیں، وہ واپس کر دو۔
عبدالمطلب کی زبان سے یہ بات سن کر ابرہہ نے حقارت آمیز نگاہوں سے ان کو دیکھا اور بولا: تم دو سو اونٹوں کے بارے میں بات چیت کرنے آئے ہو اور اس ’’گھر‘‘ کو فراموش کر رہے ہو، جس سے تمھارے اور تمھارے آباء و اجداد کا دین وابستہ ہے اور جسے میں منہدم کرنے آیا ہوں۔ عبدالمطلب نے کہا: میں اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک اللہ مالک ہے، وہ موجود ہے اور وہی اس کی طرف سے دفاع کرے گا، ابرہہ نے کہا: وہ مجھے اس سے نہیں روک سکے گا، عبدالمطلب نے جواب دیا: تم جانو اور وہ جانے۔
(سیرۃ ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 49 المرتضیٰ: صفحہ 23)
بالآخر وہی ہوا، جو عبدالمطلب نے کہا تھا، خانہ کعبہ کے مالک نے اپنے گھر کی حفاظت کی اور ابرہہ کی سازش اور اس کی فوجی کاوش و کارروائی رائیگاں چلی گئی:
وَاَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا اَبَابِيلَ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ (سورۃ الفیل آیات 3-5)
ترجمہ: اور ان پر غول کے غول پرندے چھوڑ دیے تھے۔ جو ان پر پکی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔ چنانچہ انہیں ایسا کر دیا جیسے نے کھایا ہوا بھوسا۔
عبدالمطلب اپنی اولاد کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتے، اخلاقی و شرافت کے اصول پر قائم رہنے اور پستی و بداخلاقی سے دور رہنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔
(بلوغ الأرب فی معرفۃ أحوال العرب: الآلوسی: جلد 1 صفحہ 324)
اسّی (80) سال سے زیادہ عمر پانے کے بعد عبد المطلب نے وفات پائی۔ اس وقت رسول اللہﷺ کی عمر آٹھ (8) سال تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی وفات تقریباً 578ء میں ہوئی۔
(المفصل فی تاریخ العرب قبل الإسلام: جلد 4 صفحہ 78)
مؤرخین نے لکھا ہے کہ ان کی وفات پر بہت دنوں تک مکہ کے بازار بند رہے۔ (انساب الاشراف، البلاذری: جلد 1 صفحہ 78)