حدیث ثقلین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ثقلین

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

تاہم اس سے انکار کی کوئی راہ نہیں مل سکتی کہ شریعت محمدی میں علم کا دوسرا ماخذ سنت ہی ہے تیسرے نمبر پر امت اس کی مکلف ہے کہ وہ ان دونوں ستونوں کو کہیں گرنے نہ دے اور ان دو چراغوں کو کبھی بجھنے نہ دے ۔پھر یہ بات بھی کسی مؤمن کے دماغ سے نہ نکلے کے لفظ امت میں صحابہؓ و اہلبیتؓ دونوں مل کر شامل ہیں اگر حدیث ثقلین کتاب اللہ اور اہل بیتؓ کو بیان کرے تو اس میں یہ سقم باقی رہے گا کہ حضور کی پھر سنت کہاں گئی؟اسے تو کسی حیلہ سے بھی اسلام کے ماخذ علم سے نکالا نہیں جا سکتا خطبہ غدیر خم کے حوالے سے ایک روایت عام سنی جاتی ہے کہ آپﷺ نے ایک موقع پر فرمایا :من کنت مولاہ فعلی مولاہ اس میں اکثر ذاکرین کتاب اللہ کے بعد حضرت علیؓ کا نام لیتے ہیں ۔

اس روایت میں ثقلین میں سے کسی کا ذکر نہیں نہ قرآن کا نہ سنت کا اور صحیح مسلم کی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی روایت میں غدیر خم کے خطبہ میں ثقلین کا لفظ بھی موجود ہے اور اولهما  کتاب اللہ کے الفاظ بھی موجود ہیں اور اس حدیث میں من کنت مولاہ کا کہیں ذکر نہیں ۔معلوم ہوتا ہے کہ روایت میں کنت مولاہ بظاہر غدیر خم کی بات نہیں خطبہ غدیر خم کی صحیح روایت وہی رہی ہے جو صحیح مسلم میں ہے اور اس میں وثانيهما کے الفاظ بھی کہیں نہیں ملتے آپ اس خطبہ میں وہ ذکر نہ کر پائے۔

امام مسلم ؒ سے پہلے حضرت امام احمد بن حنبل ؒ نے بھی حضرت زید بن ارقمؓ کی اس روایت کو روایت کیا ہے اس میں بھی وثانيهما کے الفاظ نہیں ملے اب سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں سنت کا لفظ کرنا حضرت زیدؓ کو یاد نہ رہا اور آخر میں وہ اہل بیت کو یاد رکھنے کی بات پر نکل آئے اور ظاہر ہے کہ اہل بیت کے حقوق کا کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا اور اس سب تفصیل کا حاصل یہی نکلتا ہے کہ حدیث ثقلین میں اہل بیت یا سنت کا لفظ بغیر ثقل ثانی کسی صحیح سند سے نہیں ملتا ۔

اہل سنت کی کتب حدیث میں جن کتابوں میں اہل بیت کے ثقل ثانی ہونے کی روایت ملتی ہے اس میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ضرور ملتا ہے ظاہر ہے کہ اس کی کوئی روایت اہل سنت پر حجت نہیں ہو سکتی ان روایات کی تحقیق مطلوب ہو تو اس کے لیے حضرت مولانا محمد نافع ؒ کی کتاب لاجواب حدیث ثقلین کا مطالعہ کریں۔ اس کتاب کا مقدمہ لکھنے کی سعادت اس عاجز کو حاصل ہوئی ہے اس میں احقر نے حافظ جمال الدین الزیلعی رحمتہ اللہ (762ھ) کی یہ عبارت بھی ہدیہ قارئین کی ہے 

و كم من حديث كثرت رواته، وتعددت طرقه، وهو حديث ضعيف كحديث الطير، وحديث الحاجم والمحجوم، وحديث من كنت مولاه فعلي مولاه. بل قد لا يزيد  كثرة الطرق إلا ضعفا

 (نصب الرایہ جلد 1 صفحہ 360 )

یہاں ہم حدیث ثقلین کی بات کر رہے تھے اس میں یہ روایت من کنت  مولاہ فعلی مولاہ ضمناً  آگئی ہے اسے حدیث ولایت بھی کہا جاتا ہے اب آگے ہم اس کا آغاز کرتے ہیں .


صفحہ 3 از 3