حدیث ثقلین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ثقلین

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 3

لقَدْ لَقِيتَ يا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، رَأَيْتَ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ معهُ، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لقَدْ لَقِيتَ يا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا، حَدِّثْنَا يا زَيْدُ ما سَمِعْتَ مِن رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، قالَ: يا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي، وَقَدُمَ عَهْدِي، وَنَسِيتُ بَعْضَ الذي كُنْتُ أَعِي مِن رَسولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ، فَما حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوا، وَما لَا، فلا تُكَلِّفُونِيهِ، ثُمَّ قالَ: قَامَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا، بمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عليه، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فإنَّما أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسولُ رَبِّي فَأُجِيبَ، وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُما كِتَابُ اللهِ فيه الهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا به فَحَثَّ علَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قالَ: وَأَهْلُ بَيْتي أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ في أَهْلِ بَيْتي فَقالَ له حُصَيْنٌ: وَمَن أَهْلُ بَيْتِهِ؟ يا زَيْدُ أَليسَ نِسَاؤُهُ مِن أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قالَ: نِسَاؤُهُ مِن أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَن حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ، قالَ: وَمَن هُمْ؟ قالَ: هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ قالَ: كُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قالَ: نَعَمْ (صحیح مسلم جلد 2 صفحہ279 طبع دہلی )

ترجمہ: خطبہ غدیر خم خبردار رہو اے لوگو! میں بھی بشر ہوں قریب ہے کہ خدا کا بھیجا فرشتہ (ملک الموت)میرے پاس آئے اور میں ہاں کہہ دوں اور میں تم میں دو بھاری چیزیں( ثقلین) چھوڑ کر جا رہا ہوں ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب (قرآن )ہے جس میں ہدایت اور نور ہے تم سب اس اللہ کی کتاب کو لو اور اس سے تمسک کرو .(تمسک اس پر عمل اور اس سے استدلال  دونوں کو شامل ہے).

(نوٹ ) اولها  کے بعد حضرت زید بن ارقمؓ نے حضورﷺ سے ثانیھما کے لفظ سے کوئی بات روایت نہیں کی اور قرآن پاک  پر عمل کرنے کی ہی تاکید فرماتے رہے اور اس کی ترغیب دیتے رہے مگر وہ سارے الفاظ اس روایت مسلم میں نہیں ہیں اس کے بعد حضرت زیدؓ  نے حضورﷺ سے خطبہ کے الفاظ روایت کئے ہیں :

اور میرے اہل بیت میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں (آپ نے تین دفعہ یہ بات کہی) اس پر حصین بن سبرہ ؒ نے حضرت زیدؓ سے پوچھا حضورﷺ کے اہل بیت کون ہیں کیا آپ کی ازواج آپﷺ کے اہل بیت میں نہیں؟ آپ نے فرمایا بے شک آپ کی ازواج آپ کے اہل بیت میں سے ہیں لیکن اس روایت میں اہل بیت سے مراد آپ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ لینا حرام ہے  حضرت حصین ؒ نے پوچھا وہ کون کون ہیں؟ حضرت زیدؓ نے بتلایا

آل علي وال عقيل و ال جعفر وال عباس قال کل ھولاء ۔حرم الصدقہ قال نعم

حضرت حصین ؒ نے پھر پوچھا کیا ان سب پر صدقہ لینا حرام ہے ؟حضرت زیدؓ نے کہا ہاں!

ایک سوال اور اس کا جواب

حضرت زیدؓ نے ان آنے والے تینوں حضرات کے سامنے پہلے کہہ دیا تھا

قال يا ابن اخي والله لقد كبرت سني وقدم اھدی و نسيت بعض الذي كنت اعی

ترجمہ: اے میرے بھتیجے بخدا میری عمر بڑی ہو گئی اور میرا وقت آ لگا ہے اور میں کئی باتیں جنہیں میں یاد رکھتا تھا بھول چکا ہوں ۔

اس پر آپ نے انہیں کہا تھا کہ میں جو کچھ تمہارے پاس بیان کروں اسے لے لو اور جو نہ بیان کر پاؤں تم اس کی مجھے تکلیف نہ دو ۔

سو یہ تینوں تابعی بزرگ آپ کی اس بات پر قائم رہے اور آپؓ نے یہ نہ کہا کہ ان دو بھاری باتوں میں (ثقلین ) میں ایک تو کتاب اللہ ہوئی اور دوسری کونسی ہے اسے آپ اپنے تسلسل کلام میں چھوڑ گئے ہیں ؟

ظاہر ہے کہ وہ سنت ہی ہوگی ثقلین میں کتاب اللہ کے بعد دوسرا درجہ سنت کا ہے اس پر قرآن پاک نے اطیعواللہ و اطیعوالرسول کہہ کر پوری مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔سو دوسرے درجے میں سنت کے لفظ سے کسی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا یہ مضمون قرآن کریم میں دو سو دفعہ سے زیادہ ملے گا اور اس پر سینکڑوں حدیثیں شاہد ہیں حضرت علی المرتضیؓ بھی آخری دم تک ایمان والوں کو یہی نصیحت کرتے رہے کہ ان دو سنتوں کو ہمیشہ قائم رکھنا اور یہ دو چراغ ہمیشہ جلائے رکھنا ۔

شیعہ عالم شریف رضی(400ھ) نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ کے نصائح وصایا میں آپ سے نقل کرتا ہے جب آپ پر ابن ملجم ملعون نے ضرب لگائی تو آپؓ نے وصیت کی :

اما وصيتي فالله لا تشركوا به شيئا و محمد صلى الله عليه واله وسلم فلا تضيعوا سنته اقيموا هذين العمودين واوقدوا هذين المصباحين (نہج البلاغہ وصیت 23 صفحہ 668 مترجم طبع مغل حویلی موچی دروازہ لاہور)

ترجمہ: سنت کے ذکر کے بعد امور دین( دو ستون) اورمصباحین( دو چراغ ) کے الفاظ بتارہے ہیں کہ پہلے اس وصیت میں کتاب اللہ کا ذکر ہو چکا ہے جسے شریف رضی پہلے کسی جگہ ذکر کرآ یا ہے اور اب حضورﷺ کی سنت کو ضائع نہ کرنے کا درس روایت کر رہا ہے ظاہر کلام سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ کی وصیت میں یہاں کتاب اللہ کے بعد حدیث کا لفظ ضرور ہوگا جسے شریف رضی اس تسلسل میں محفوظ نہیں رکھ سکا

صفحہ 2 از 3