حدیث ثقلین - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ثقلین

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 3

حدیث ثقلین

ایک حدیث زبان زدِعام و خاص چلی آ رہی ہے کہ حضورﷺ نے اپنے آخری دنوں میں فرمایا میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اسے حدیث ثقلین کہتے ہیں اس مضمون میں اس روایت کے رواۃ اور مخارج پر طلبہ حدیث کو متوجہ کرنا پیش نظر ہے لیکن اس سے پہلے لفظ ثقل (بھاری ) کو کچھ سمجھ لیں ثقلین اسی کا تثنیہ ہے.

اللہ رب العزت نے حضورﷺ کو ابتداء وحی میں بتلا دیا تھا کہ آپ پر قرآن ایک وزن دار پیرائے میں اتارا جائے گا ارشاد ہوا

اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ  قَوۡلًا  ثَقِیۡلًا (پارہ 29 المزمل ، آیت 3 )

ترجمہ: ہم ڈالنے والے ہیں تجھ پر ایک بات وزن دار (شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ )

یہاں قرآن پاک کو ایک قول کے مطابق ثقیل کہا گیا ہے حدیث بھی وحی خداوندی سے ہے( گو یہ بصورتِ وحی غیر متلو ہو ) تو ظاہر ہے کہ وہ بھی ایک پیرایہ، ثقل ہی ہوگا سو ان دونوں کو (قرآن اور حضورﷺ کی حدیث کو) ثقلین کہیں گے، حدیث بھی کفار پر اسی طرح بھاری ہے جس طرح قرآن بھاری ہے۔

اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ پر جب وحی حضرت جبرائیل ؑ آپ کے سامنے انسانی صورت میں متمثل ہوئے بغیر لاتے تو آپﷺ پر بہت گراں ہوتی تھی یہاں تک کہ آپ پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے۔

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ لکھتے ہیں *قرآن تم پر نازل کریں گے جو اپنی قدر و منزلت کے اعتبار سے بہت قیمتی اور وزن دار اور اپنی کیفیات و لوازم کے اعتبار سے بہت بھاری اور گرانبار  ہے۔احادیث میں ہے کہ نزول قرآن کی یہ صورت آپﷺ پر بہت گراں اور سخت گزرتی تھی۔ جاڑے (سردی)کے موسم میں آپﷺ پسینہ پسینہ ہو جاتے تھے اگر اس وقت کسی سواری پر سوار ہوتے تو سواری تحمل نہ کر سکتی تھی ایک دفعہ آپﷺ کی ران مبارک زید بن ثابت کی ران پر تھی اس وقت وحی نازل ہوئی اس وقت زید بن ثابتؓ کو ایسا محسوس ہوا کہ انکی ران بوجھ سے پھٹ جائے گی۔ اس کے علاوہ اس ماحول میں قرآن کی دعوت تبلیغ اور اس کے حقوق کا پوری طرح ادا کرنا اور اس راہ میں تمام سختیوں کو کشادہ دلی سے برداشت کرنا بھی سخت مشکل اور بھاری کام تھا اور جس طرح ایک حیثیت سے یہ کلام آپﷺ پر بھاری تھا دوسری حیثیت سے کافروں اور منکروں پر شاق تھا۔ غرض ان تمام وجوہ کا لحاظ کرتے ہوئے آنحضرتﷺ کو حکم ہوا کہ جس قدر قرآن اتر چکا ہے اس کی تلاوت میں رات کو مشغول رہا کریں اور اس خاص عبادت(تہجد ) کے انوار سے اپنے تئیں مشرف کر کے اس فیض اعظم کی قبولیت کی استعداد اپنے اندر مستحکم فرمائیں۔ رات کو اٹھنا کچھ آسان کام نہیں بڑی بھاری ریاضت اور نفس کشی ہے جس سے نفس روندا جاتا ہے اور نیند آرام وغیرہ کی خواہشات پامال کی جاتی ہیں نیز اس وقت دعا اور ذکر سیدھا دل سے ادا ہوتا ہے اور زبان اور دل موافق ہوتے ہیں ۔(تفسیر عثمانی صفحہ 762 طبع سعودی عرب )

حضورﷺ نے اس صورت وحی کو اپنے لیے وهو اشده على فرمایا کہ وہ مجھ پر بہت سخت پیرائے میں آتی ہے۔

اس پس منظر کے ساتھ قرآن کریم اور حضورﷺ کی سنت کو ثقلین ماننا اور سمجھنا کچھ مشکل تھا اس لیے آپﷺ نے اسے دوسرے لفظوں میں آسان کر کے بھی بیان کردیا اور لفظ امرین سے ذکر کیا ۔حدیث کی سب سے پہلی معروف کتاب موطا امام مالک میں اسے اس طرح روایت کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :

اني تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنه نبيه صلی اللّه علیہ وسلم (موطا امام مالک صفحہ 363 )

ترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں (امرین) تم جب تک اپنا دین ان سے لیتے رہو گے تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ وہ دو چیزیں کیا ہیں؟؟

1_  اللہ کی کتاب

2_ میری سنت

حضورﷺ نے اپنی ان دونوں امانتوں کا کن حضرات کو امین بتایا ؟ انہیں ہی جو اس وقت ترکت فیکم میں ضمیر منکم کا مصداق تھے یعنی صحابہ کرامؓ۔ اس میں آپ نے متنبہ فرمایا کہ قرآن کی بھی وہی تشریحات معتبر ہونگی جو صحابہؓ نے سمجھیں اور سنت کی بھی وہی مرادات تمہارے لئے مشعل راہ ہوں گی جو صحابہؓ سے ملیں دین ہے ہی وہی جو صحابہؓ سے ملے ۔

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ (179ھ) تقریباً سب بڑے بڑے محدثین کے استاد ہیں وہ خود بھی اسے حضورﷺ سے نقل کرتے تو ہمارے لئے ان کا بلغنی کہنا  کافی تھا لیکن اسے مرسل مانا  جائے تو وہ اسے کسی جلیل القدر تابعی سے روایت کر رہے ہیں اور اس تابعی نے حضورﷺ سے نہیں سنا محدثین کی اصطلاح میں اسے حدیث مرسل کہتے ہیں ۔خطیب تبریزی ؒ نے اسے مرسل کہا ہے اور حدیث مرسل کے بارے میں حنفیہ اور مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ وہ معتبر ہے ۔سو یہ حدیث موطا  امام مالک مرسل ہوئی اب اس مرسل کو  موصول ثابت کرنا یہ اس پر زائد ایک دوسری محنت ہے جو علماء مالکیہ نے اس پر کی ہے ان میں ان کے سرخیل حضرت امام ابن عبد البر مالکی ؒ (462ھ) ہیں، آپ نے اسے موصولاً بھی کتاب التمہید اور الاستذکار میں روایت کیا ہے۔سو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حدیث ثقلین صرف مرسل ہے یہ مرسلاً اور موصولاً دونوں طرح مروی ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ حدیث کی مرکزی کتابوں میں یہ حدیث صرف موطا امام مالک میں ہے ایسا نہیں ایک پہلو سے اس کے کچھ نقوش صحیح مسلم میں بھی ملتے ہیں ۔

ایک دفعہ یزید بن حیان ؒ، حصین بن سبرہ ؒ اور عمر بن مسلم ؒ تین  تابعی اکھٹے حضرت زید بن ارقمؓ (66ھ)کی خدمت میں گئے اور حصین ؒ نے آپ سے کہا :

صفحہ 1 از 3