بلحاظِ فرق مراتب مذکورہ بالا تمام طبقات کے صحابہ کے بارے میں ہمارا اور تمام اہلِ حق کا اجتماعی عقیدہ یہ ہے کہ زمین و آسمان کی نگاہوں نے انبیاء علیہم السلام کے بعد ان سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں دیکھے حق و صداقت کے اس مقدس قافلے کا ہر فرد اتنا بلند کردار اور نفسانیت سے اس قدر دور تھا کہ انسانیت کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اور اگر کسی سے کبھی کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما کر ان کے جنتی ہونے کا اعلان فرما دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس مقدس جماعت کے ایمان و عقیدہ فکر و عمل تقویٰ و طہارت عدالت و دیانت اور صدق و امانت کی گواہی دیتے ہوئے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞(سورۃ الحجرات: آیت 7)
ترجمہ: یقیناً اللہ نے ایمان تمہیں محبوب بنا دیا ہے اور اس کو تمہارے قلوب میں سجا دیا ہے اور کفر فسق اور عصیان تمہیں ناگوار کر دیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جو ہدایت یافتہ ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ الحجرات: آیت 2)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ نے تقویٰ کے لیے آزما لیا ہے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت ہے۔