فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث - ردِ…

فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

جواب: بیشتر اس کے کہ ان روایات کا جواب عرض کیا جائے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ کی ابتدائی زندگی کے متعلق چند واقعات درج کیے جائیں جن کی روشنی میں مسئلہ بالا روایات کی تفہیم باحسن وجوہ عمل میں آئے گی آپ ایک سال قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور اپنے باپ کے ہمراہ نو سال مکہ میں رہے تھے جب حضورِ اکرمﷺ ہجرت کے اٹھویں برس غزوہ مکہ کے لیے اس جگہ تشریف لائے تو سیدنا عباسؓ کو جو انہیں راستے میں مدینہ کی طرف جاتے ہوئے ملے بمعہ ذریات و مستورات مدینہ منورہ بھیج دیا تھا اس لیے نہ تو کوئی غزوہ سابق ہی سیدنا ابنِ عباسؓ کی موجودگی میں ہوا تھا نہ فتح مکہ ہی علاوہ اس کے آخر آپ تھے بھی تو بچہ ہی اگر ان کے سامنے بھی یہ غزوات ہوتے تو آپ میں احکاماتِ شرعیہ کے سمجھنے کی قابلیت ہو بھی کہاں سکتی تھی لہٰذا آپ کو جو علم متعہ کے متعلق تھا وہ سماعی تھا

بہر کیف ان روایات کی تردید خود ان کی دیگر روایات سے ہوتی ہے علاوہ ازیں سیدنا علیؓ نے ایک روایت سیدنا ابنِ عباسؓ کے خلاف ارشاد فرمائی تھی جو ان کی سیدنا ابنِ عباسؓ کی عدم اطلاع کی تائید کرتی ہے

جب سیدنا ابنِ عباسؓ کی تصنیف کردہ تفسیر القرآن موجود ہے تو سب سے اول ہمیں اس تفسیر کا مطالعہ کرنا لازم ہے نہ کہ ادھر ادھر کی روایات کی جستجو میں سرگردان ہونا چاہیے آیت: 

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کی تفسیر کے ماتحت آیت:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کی تفسیر آپ اس طرح کرتے ہیں:

ان تبتغوا تزوجوا باموالکم ویقال ان تشتروا باموالکم من الاماء ویقال ان تبتغوا باموالکم فروجھن وھی المتعۃ وقد نسخت الان محصنین متزوجین غیر مسافحین غیر زانین بلا نکاح فما استمتعتم بہ منھن بعد النکاح فاتوھن اجورھن فریضۃ مہورھن کاملۃ ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ ان اللہ کان علیما حکیما۔

اس آیت کی تفسیر پڑھنے کے بعد سیدنا ابنِ عباسؓ کا عقیدہ نسبت متعہ کا دروازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی اور زیادہ تشریح کرنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے آپ نے صاف الفاظ میں متعہ کے حکم کو منسوخ شدہ تصور کیا ہے۔

علاوہ ازیں بخاری و تفسیرِ کبیر میں سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے: 

اللھم انی اتوب الیک من قولی فی المتعۃ۔  

ترجمہ: اے اللہ میں اپنے قول نسبت حلت متعہ سے توبہ کرتا ہوں۔

یہاں تک تو سیدنا ابنِ عباسؓ کی اپنی تفسیر اور روایت سے متعہ کی حلت کی تردید کی گئی ہے اب ہم ایک روایت سیدنا علیؓ سے درج کر کے سیدنا ابنِ عباسؓ کی روایات کے ذکر کو ختم کرتے ہیں موطا مالک بخاری و مسلم میں بروایت محمد بن حنفیہؓ سیدنا علیؓ سے مرقوم ہے:  

انہ قال لابن عباس انک رجل تائہ ان رسول اللہﷺ نھی عن المتعۃ۔ 

ترجمہ: سیدنا علیؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہا تحقیق تو مرد سرگشتہ ہے تحقیق رسول کریمﷺ نے متعہ سے منع فرمایا ہے بعینہٖ یہی حدیث شیعوں کی کتاب محاسن برقی میں بھی درج ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔

6: مسلم کی کتاب الحج میں عمران بن حصینؓ سے مروی ہے: 

تمتعنا مع رسول اللہﷺ ولم ینزل فیہ القرآن قال رجل فیھا برائہ ماشاء۔  

اور پھر بخاری کے باب تمتع بالعمرۃ الی الحج میں یہی روایت قدر کم و بیش الفاظ سے درج ہے  

ترجمہ: ہم نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ متعہ کیا کرتے تھے اور قرآن میں ممانعت کی آیت نازل نہیں ہوئی اور ایک شخص نے اپنی رائے سے کہا جو اس نے چاہا۔

جواب: ان ہر دو روایات کہ محلِ اندراج سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تمتع الحج کے متعلق ہیں نہ کہ تمتع النساء کے یہ یار لوگوں کی چالاکی ہے کہ کہیں کی اینٹ کہیں لگا دیتے ہیں چونکہ یہ دونوں روایات غیر متعلق ہیں اس لیے اسی قدر جواب پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

7: عبداللہ بن عمرؓ سے ایک روایت ترمذی کے باب الحج میں مرقوم ہے کہ: 

فقال عبداللہ بن عمر ھی حلال فقال الشامی ان اباک قد نھی عنھا فقال عبد اللہ بن عمر رایت ان کان ابی نھی عنھا وصنعھا رسول اللہﷺ امر ابی یتبع ام امر رسول اللہﷺ فقال الرجل بل امر رسول اللہﷺ۔

ترجمہ: سیدنا ابن عمرؓ نے کہا متعہ حلال ہے شامی نے کہا تمہارے باپ نے تو متعہ سے منع کیا ہے سیدنا ابنِ عمرؓ نے کہا تو نے دیکھا کہ میرے باپ نے متعہ منع کیا ہے حالانکہ رسول اللہﷺ نے اسے حلال کیا تھا کیا تو میرے باپ کا حکم مانے گا یا رسول اللہﷺ کا پس شامی نے کہا البتہ حکم رسول اللہﷺ کا۔

جواب: سابقہ دو روایات کی طرح اس روایت کا محلِ وقوع بھی صاف طور پر واضح کرتا ہے کہ روایت بھی تمتع الحج ہی کے متعلق ہے اس لیے معاملہ زیر بحث سے غیر متعلق ہے۔

عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہﷺ کی جانب سے متعۃ النساء کے حرام کیے جانے کے بڑے زور مدعی ہیں چنانچہ آپ کی زبانی ایک روایت طحاوی کے باب المتعہ میں درج ہے:

ان رجل سال عبد اللہ بن عمر عن المتعۃ فقال حرام قال فان فلانا یقول فیھا قال واللہ لقد علم ان رسول اللہﷺ حرمھا یوم خیبر وما کنا مسافحین۔ 

ترجمہ: ایک شخص نے عبد اللہ بن عمرؓ سے متعہ کی نسبت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ حرام ہے تو اس نے کہا کہ فلاں اس کو حلال کہتا ہے اس پر آپ نے پھر فرمایا بخدا مجھے علم ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسے یومِ خیبر کو حرام فرمایا تھا اور ہم زنا کرنے والے نہ تھے۔

8: لولا نھی ابن الخطاب ما زنی الا شقی۔  

ترجمہ: اگر عمر بن خطابؓ منع نہ کرتے تو کوئی زنا نہ کرتا مگر شقی۔

یہ روایت تفسیر ثعلبی و تفسیر نیشا پوری میں درج ہے:

جواب: اول تو تفسیر ثعلبی و تفسیر نیشا پوری اہلِ سنت کی معتبر کتابیں ہی نہیں ہیں۔ 

دوم: یہ روایت ان تفسیروں میں بلا اسناد درج ہے اور بے سند روایت ہرگز لائق اعتبار نہیں ہوتی۔ 

سوم: سیدنا عمرؓ کی ممانعت متعہ بالکل مطابق ارشاد نبوی ہے جسے سیدنا امیرؓ کی خیبر والی روایت واضح کرتی ہے اگر حدیثِ نبوی کے برخلاف سیدنا عمرؓ کی ضد پر سیدنا علیؓ حلت کا خیال جما کر یہ فقرہ تراش لیں نعوذ باللہ من ذالک تو سیدنا عمرؓ پر کیا الزام ہے بلکہ سیدنا عمرؓ پر اعتراض کرنا دراصل حضورِ اکرمﷺ پر اعتراض کرنا ہے قول علیؓ قولِ رسول پر کسی طرح فائق نہیں ہو سکتا۔


صفحہ 3 از 3