(اس جگہ تک رسالہ لکھ چکے کے بعد مجھے کافی کی کتاب روزہ مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا تو صفحہ 12 پر یہ عبارت میری نظر سے گزری:
فقال ابو عبد الوافضہ قال قلت نعم قال لا واللہ ما ھم سموکم الخ۔ کے رافضی کا رکھا ہوا نام ہے اس لیے میں نے آئندہ عہد کر لیا ہے کے شیعوں کے خدائی نام سے پکارا کروں گا)
بیشتر اس کے کہ روایات سنی پر بحث کریں یہ امر اشد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی مختصر تاریخ بیان کر دی جائے جہاں تک اہلِ سنت کی کتب سیر و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے متعہ رسول کریمﷺ کی بعثت سے قبل سرزمین عرب میں مروج تھا چنانچہ حضورِ اکرمﷺ نے اسے ابتداء اسلام میں حرام فرمایا اور پھر فتح مکہ میں تین روز کے لیے محض بضرورت جنگ اس کی اجازت دے کر قیامت تک اسے حرام قرار دے دیا
سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ:
انما احلت رسول اللہﷺ متعۃ النساء ثلثہ ایام ثم نھی عنھا رسول اللہﷺ۔
ترجمہ: رسول کریمﷺ نے اپنے اصحاب کے لیے تین روز متعہ حلال کیا تھا پھر اس سے منع فرما دیا
اس قسم کی سینکڑوں احادیث صحاحِ ستہ میں مروی ہیں جن کی بناء پر اہلِ سنت کے چاروں ائمہ کرام یعنی امام ابو حنیفہؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ نے متعہ کو حرام قرار دیا ہے چنانچہ ان کی کتب معتبرہ میں بے شمار سندات موجود ہیں۔
البتہ امام مالکؒ کے متعلق صاحب ہدایہؒ کی غلطی کے باعث ہدایہ میں یہ فقرہ متعہ نزد امام مالکؒ جائز است درج ہو گیا ہے حالانکہ اس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے چنانچہ ہدایہ کی شرح عینی مندرجہ حاشیہ پر ہی اس غلطی کی کافی تشریح کر دی گئی ہے
خود امام مالکؒ نے موطا میں سیدنا علیؓ کی خیبر والی روایت کی بناء پر متعہ کو حرام کہا ہے فرقہ مالکیہ کی دیگر کتبِ فقہ میں بھی اسے حرام ہی لکھا ہے شرح مختصر میں قلیل مالکیؒ لکھتے ہیں:
لا خلاف عندنا ان المتعۃ نکاح یفسخ مطلقا۔
اور رسالہ ابنِ ابی زید مالکی میں:
لا یجوز نکاح المتعہ اجماعا۔
اور منہج الوافیہ فی فقہ المالکیہ میں بھی:
لا یجوز نکاح المتعہ وھو النکاح الی اجل۔
موجود ہے علاوہ ازیں امام مالکؒ متعہ پر حد تجویز کرتے ہیں۔
علاوہ ان اندرونی سندات کے ایک چھوڑ دو بیرونی سندات بھی اس بات میں ایسی مکبر ہیں جن سے کسی شیعہ کو بھی انکار نہیں ہو سکتا اور وہ یہ ہیں علامہ علی جو شیعہ غالی ہیں کشفا الحق میں فرماتے ہیں:
ذھبت الامامیہ الی اباحت نکاح المتعہ وخالف فیہا الفقہاء الاربعۃ۔
اسی طرح احقاق الحق مصنفہ ایضاً میں مذکور ہے کہ چاروں ائمہ کے نزدیک متعہ حرام ہے اس شہادت کے ہوتے ہوئے کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ صاحب ہدایہؒ نے محض غلطی سے یہ لکھ دیا ہے وگرنہ اس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔
اس مختصر تمہید کے بعد ہم ان روایات کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں جو شیعوں کی طرف سے حلتِ متعہ کے ثبوت میں کتبِ سنیہ سے پیش کی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ہم ان کی تردید بھی کرتے جائیں گے
1: سب سے اول سیدنا ابنِ مسعودؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم سے بڑے شد و مد سے پیش کی جاتی ہے:
کنا نغزو مع رسول اللہﷺ ولیس معنا نساؤنا فقلنا الا نستخصی فنھانا عن ذلک ورخص لنا ان نتزوج المرأۃ بالثوب الی اجل ثم قرأ عبد اللّٰہ یا ایھا الذین آمنوا لا تحرمو طیبات ما احل اللّٰہ۔
ترجمہ: سیدنا ابنِ مسعودؓ کہتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ غزا میں تھے اور ہماری عورتیں ساتھ نہیں تھیں ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کر لیں آپ نے منع فرمایا اور پھر اجازت دی کہ عورتوں سے نکاحِ موقت بالعوض کپڑے کے کر لیں پھر یہ پڑھا کہ اے ایمان والو نہ حرام کرو ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔
جواب:ایمانداروں نے یہ روایت تو لکھ دی مگر دوسری روایت کو دیکھ کر سانپ سونگھ گیا جو آگے قلم نہ اٹھ سکا حالانکہ دوسری روایت بھی سیدنا ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے اور کیسی صاف سند تنسیخ متعہ پر ہے بہیقی سیدنا ابنِ مسعودؓ سے روایت کرتا ہے:
قال المتعۃ منسوخۃ نسخھا الطلاق والصدقۃ والعدۃ والمیراث۔
ترجمہ: کہ انہوں نے کہا کہ متعہ منسوخ ہو چکا ہے اور اس کو طلاق مہر اور میراث نے منسوخ کیا ہے۔
علاوہ سیدنا ابنِ مسعودؓ کی اس روایت کے حضرت علیؓ کی بھی ایک اسی مضمون کی روایت تفسیر در منثور جلد 2 صفحہ 110 پر درج ہے:
قال نسخ رمضان کل صوم ونسخ الزکاۃ کل صدقۃ ونسخ المتعہ الطلاق والعدۃ والمیراث ونسختہ الضحیۃ کل ذبیحۃ۔
ترجمہ: فرمایا علیؓ نے رمضان نے کل روزے منسوخ کیے اور زکوٰۃ نے کل صدقات منسوخ کیے اور طلاقِ مدت اور میراث نے متعہ کو منسوخ کیا اور قربانی نے کل ذبیحات منسوخ کیے۔
سیدنا ابنِ مسعودؓ کی پہلی روایت غزوہ مکہ کے متعلق ہے اور اس کے الفاظ صاف طور پر واضح کر دیتے ہیں کہ غزوہ مکہ سے قبل بھی متعہ ممنوع تھا اگر ممنوع نہ ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تجرد سے تنگ آکر خصی بننے کی التجا کرنے کی کیا ضرورت تھی اور رسول کریمﷺ کو ان کی مجبوریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متعہ کی اجازت دینے کا کیا معنیٰ ہو سکتے تھے پس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی التجا رسول کریمﷺ کی اجازت اس امر کا بین ثبوت ہے کہ متعہ ممنوع تھا مگر اس کی وقتی اجازت بحالاتِ جنگ دی گئی تھی وگرنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین از خود متعہ کر لیتے اور رسول کریمﷺ کو اجازت دینے کی زحمت نہ دیتے چنانچہ روایت نمبر دو ہمارے اس دعویٰ کی کامل طور پر تائید اور تصدیق کرتی ہے کہ وقتی اجازت صرف تین دن کے لیے غزوہ مکہ میں دی گئی تھی۔
2: دوسری روایت سبرہ بن معبد جہنیؓ سے احمدؒ و مسلمؒ روایت کرتے ہیں:
وھو ھذا: قال اذن لنا رسول اللہﷺ عام فتح مکۃ فی متعۃ النساء فخرجت انا ورجل ثم استمتعت منھا فخرجت حتیٰ حرمھا رسول اللہﷺ۔
ترجمہ: اجازت دی ہم کو رسول کریمﷺ نے فتح مکہ کے سال متعہ النساء کی پس چل پڑے میں اور ایک اور آدمی پس میں نے متعہ کیا۔
جواب:یہاں تک تو ایمانداری سے روایت کو پیش کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد کے الفاظ کو پس میں وہاں سے نہ نکلا جب تک رسول کریمﷺ نے حرام نہ کر دیا نہایت بد دیانتی سے بلا ڈکار ہضم کیا گیا ہے
کیا یہ الفاظ تقیہ سے چھپائے گئے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے گو یہی روایت ہی ہمارے دعویٰ کے لیے کافی ہے لیکن ہم بدر انجانہ بایدر سانید کے مطابق سبرہ جہنیؓ کی دوسری روایت انہیں ہر دو کتبِ احادیث سے پیش کرتے ہیں جو اس معاملہ کو روزِ روشن کی طرح صاف کر دیتی ہے:
یقول یا ایھا الناس انی کنت اذنت لکم فی الاستمتاع الا وان اللّٰہ حرمھا الی یوم القیامۃ۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ فرماتے تھے اے لوگو میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ نے اسے قیامت تک حرام کر دیا ہے۔
3: بخاری میں ایک اور مسلم میں دو روایات سیدنا سلمہ ابن اکوعؓ سے مروی ہیں اور وہ یہ ہیں:
اول: خرج علینا منادی رسول اللہﷺ فقال ان رسول اللہ قد اذن لکم ان تستمتعوا متعۃ النساء۔
ترجمہ: رسول کریم کا منادی آیا اور کہا کہ رسول کریم نے متعۃ النساء کی اجازت دی ہے۔
دوم: اتانا رسول اللہﷺ فاذن لنا المتعۃ۔
ترجمہ: رسول کریمﷺ تشریف لائے اور ہمیں متعہ کی اجازت دی
سوم: قال کنا فی جیش فاتانا رسول اللہﷺ قال قد اذن لکم ان تستمتعوا فاستمتعوا۔
ترجمہ: ہم فوج میں تھے کہ رسول کریمﷺ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا کہ رسول کریمﷺ نے متعہ کی اجازت دی ہے تو ہم نے متعہ کیا۔
جواب:یہ تینوں روایات ایک ہی وقت کی بیان کی ہوئی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ الفاظ قریباً قریباً یکساں ہیں چونکہ مختلف آدمیوں کی وساطت سے یہ روایات محدثین تک پہنچی ہیں اس لیے قدر اختلاف لفظی پایا جاتا ہے۔
پس جہاں ان تینوں روایات کو پیش کیا گیا تھا وہاں اگر چوتھی روایت کو بھی لکھا جاتا تو کیا اچھا ہوتا نہ ان کو اعتراض کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی اور نہ ہمیں جواب دینے کی زحمت اٹھانی پڑتی چوتھی روایت احمد و مسلم نے سیدنا سلمہ بن اکوعؓ سے یہ نقل کی:
قال رخص لنا رسول اللہﷺ فی متعۃ النساء عام فتح مکہ ثلاثہ ایام ثم نھی عنھا۔
ترجمہ: سیدنا سلمہ بن اکوعؓ نے کہا کہ عام فتحِ مکہ کے سال تین دن کے لیے رسول کریمﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کے بعد منع فرما دیا
اسی قسم کی ایک اور حدیث سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کے بیٹے نے اپنے باپ سے روایت کی ہے جو طحاوی کے باب المتعہ میں اس طرح درج ہے:
قال اذن رسول اللہﷺ فی متعۃ النساء ثم نھی عنھا
ترجمہ: سیدنا سلمہ بن اکوعؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے متعہ النساء کی پہلے اجازت دی تھی پھر منع کر دیا۔
سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کی چاروں روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باوجود شدت تجرد کے متعہ سے رکے رہے اور حضورِ اکرمﷺ کے صدور اجازت کے بعد مرتکب متعہ ہوئے اگر نکاح کی طرح متعہ کی عام اجازت ہوتی اور یہ بنصِ قرآنی ثابت ہوتا جیسا کہ شیعہ صاحبان آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کو اس کی نصِ صریح قرار دیتے ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قبل از اجازت متعہ سے اجتناب کرنا اور بعد صدور اجازت اس کا مرتکب ہونا معنیٰ نہیں رکھتا۔
اور اس تفریق کی کوئی وجہ معقول معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں نکاح کے واسطے کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ التزام نہیں کیا کہ حضورِ اکرمﷺ سے پہلے اجازت بلکہ مشورہ تک لیں اور بعد میں نکاح کریں ازیں حالات حرمتِ متعہ میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ اگر متعہ ایسا ہی حلوہ بے دودہ تھا تو اس کے لیے اس قدر تگ و دو کی کیا حاجت تھی جس کو بھی خواہش ہوتی بے کھٹکے متعہ کر لیتا۔
حدیثِ سوم میں لفظ فاستمتعوا سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ متعہ کنندگان میں نہ تھے بلکہ اور لوگوں نے کیا تھا بایں ہمہ صحیح بخاری میں اس حدیث کے بعد دوسری حدیث میں خود سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کے یہ الفاظ:
فما ادری اشی کان لنا خاصۃ ام للناس عامۃ۔
ترجمہ: یہ معلوم نہیں یہ اجازت خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہی تھی یا تمام امت کے لیے تھی۔
4: دو روایات مسلم کے باب الحج میں ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہیں:
اول: قال کانت لنا رخصۃ۔
ترجمہ: متعہ کی ہم کو اجازت تھی۔
دوم: لا تصلح المتعۃ الا لنا خاصۃ۔
ترجمہ: سوائے ہمارے کیسی میں صلاحیت متعہ کی نہ تھی۔
جواب: یہ روایات جیسا کہ ان کے محل وقوع سے ظاہر ہوتا ہے متعہ الحج کے متعلق ہیں چنانچہ اس جگہ ابو ذرؓ سے ایک اور روایت درج ہے جس سے معاملہ اظہر من الشمس ہو جاتا ہے:
قال کانت المتعۃ فی الحج لاصحاب محمد خاصۃ۔
ترجمہ: ابو ذرؓ نے کہا کہ متعہ الحج اصحاب محمد کے لیے خاص تھا۔
اسی مضمون کی ایک اور حدیث نسائی میں مرقوم ہے جس سے بلا شک و شبہ یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ابو ذرؓ کی روایت ہچو محض متعہ الحج کے متعلق ہے یہ روایت سیدنا حارث بن بلالؓ سے مروی ہے:
قال قلت یا رسول اللہﷺ فسخ الحج لنا خاصۃ ام للناس عامۃ فقال بل لنا خاصۃ۔
متعہ النساء کے متعلق سیدنا ابو ذرؓ سے ایک ہی روایت مروی ہے اور وہ متعہ کی حرمت کے بیان میں اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
5: بخاری طحاوی تفسیر ِکبیر و تفسیرِ در منثور میں عمارہ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت کی ہے:
سئل ابنِ عباس عن المتعۃ اسفاح ام نکاح فقال لا سفاح ولا نکاح فما ھی قال ھی المتعۃ۔
ترجمہ: میں نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے سوال کیا آیا متعہ زنا ہے یا نکاح تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ زنا ہے نہ نکاح بلکہ متعہ۔
نیز بخاری میں ابی حمزہؓ سے روایت ہے:
سئل ابنِ عباس عن متعۃ النساء فرخص فیھا فقال له مولا له انما کان ذالک فی کثرۃ النساء وقلت الرجال فقال ابنِ عباس نعم۔
ترجمہ: سوال کیا گیا سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے متعۃ النساء کے متعلق تو اس نے اجازت دے دی پھر اس کے نوکر نے اس کو کہا کے یہ تو اس وقت تھا جب کے عورتوں کی قلت تھی اور حالت شدید لاحق ہوتی تھی سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا جی۔
جواب: بیشتر اس کے کہ ان روایات کا جواب عرض کیا جائے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ کی ابتدائی زندگی کے متعلق چند واقعات درج کیے جائیں جن کی روشنی میں مسئلہ بالا روایات کی تفہیم باحسن وجوہ عمل میں آئے گی آپ ایک سال قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور اپنے باپ کے ہمراہ نو سال مکہ میں رہے تھے جب حضورِ اکرمﷺ ہجرت کے اٹھویں برس غزوہ مکہ کے لیے اس جگہ تشریف لائے تو سیدنا عباسؓ کو جو انہیں راستے میں مدینہ کی طرف جاتے ہوئے ملے بمعہ ذریات و مستورات مدینہ منورہ بھیج دیا تھا اس لیے نہ تو کوئی غزوہ سابق ہی سیدنا ابنِ عباسؓ کی موجودگی میں ہوا تھا نہ فتح مکہ ہی علاوہ اس کے آخر آپ تھے بھی تو بچہ ہی اگر ان کے سامنے بھی یہ غزوات ہوتے تو آپ میں احکاماتِ شرعیہ کے سمجھنے کی قابلیت ہو بھی کہاں سکتی تھی لہٰذا آپ کو جو علم متعہ کے متعلق تھا وہ سماعی تھا
بہر کیف ان روایات کی تردید خود ان کی دیگر روایات سے ہوتی ہے علاوہ ازیں سیدنا علیؓ نے ایک روایت سیدنا ابنِ عباسؓ کے خلاف ارشاد فرمائی تھی جو ان کی سیدنا ابنِ عباسؓ کی عدم اطلاع کی تائید کرتی ہے
جب سیدنا ابنِ عباسؓ کی تصنیف کردہ تفسیر القرآن موجود ہے تو سب سے اول ہمیں اس تفسیر کا مطالعہ کرنا لازم ہے نہ کہ ادھر ادھر کی روایات کی جستجو میں سرگردان ہونا چاہیے آیت:
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کی تفسیر کے ماتحت آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کی تفسیر آپ اس طرح کرتے ہیں:
ان تبتغوا تزوجوا باموالکم ویقال ان تشتروا باموالکم من الاماء ویقال ان تبتغوا باموالکم فروجھن وھی المتعۃ وقد نسخت الان محصنین متزوجین غیر مسافحین غیر زانین بلا نکاح فما استمتعتم بہ منھن بعد النکاح فاتوھن اجورھن فریضۃ مہورھن کاملۃ ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ ان اللہ کان علیما حکیما۔
اس آیت کی تفسیر پڑھنے کے بعد سیدنا ابنِ عباسؓ کا عقیدہ نسبت متعہ کا دروازہ ہو جاتا ہے کہ اس کی اور زیادہ تشریح کرنا آفتاب کو چراغ دکھانا ہے آپ نے صاف الفاظ میں متعہ کے حکم کو منسوخ شدہ تصور کیا ہے۔
علاوہ ازیں بخاری و تفسیرِ کبیر میں سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے:
اللھم انی اتوب الیک من قولی فی المتعۃ۔
ترجمہ: اے اللہ میں اپنے قول نسبت حلت متعہ سے توبہ کرتا ہوں۔
یہاں تک تو سیدنا ابنِ عباسؓ کی اپنی تفسیر اور روایت سے متعہ کی حلت کی تردید کی گئی ہے اب ہم ایک روایت سیدنا علیؓ سے درج کر کے سیدنا ابنِ عباسؓ کی روایات کے ذکر کو ختم کرتے ہیں موطا مالک بخاری و مسلم میں بروایت محمد بن حنفیہؓ سیدنا علیؓ سے مرقوم ہے:
انہ قال لابن عباس انک رجل تائہ ان رسول اللہﷺ نھی عن المتعۃ۔
ترجمہ: سیدنا علیؓ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہا تحقیق تو مرد سرگشتہ ہے تحقیق رسول کریمﷺ نے متعہ سے منع فرمایا ہے بعینہٖ یہی حدیث شیعوں کی کتاب محاسن برقی میں بھی درج ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔
6: مسلم کی کتاب الحج میں عمران بن حصینؓ سے مروی ہے:
تمتعنا مع رسول اللہﷺ ولم ینزل فیہ القرآن قال رجل فیھا برائہ ماشاء۔
اور پھر بخاری کے باب تمتع بالعمرۃ الی الحج میں یہی روایت قدر کم و بیش الفاظ سے درج ہے
ترجمہ: ہم نے رسول اللہﷺ کے ہمراہ متعہ کیا کرتے تھے اور قرآن میں ممانعت کی آیت نازل نہیں ہوئی اور ایک شخص نے اپنی رائے سے کہا جو اس نے چاہا۔
جواب: ان ہر دو روایات کہ محلِ اندراج سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تمتع الحج کے متعلق ہیں نہ کہ تمتع النساء کے یہ یار لوگوں کی چالاکی ہے کہ کہیں کی اینٹ کہیں لگا دیتے ہیں چونکہ یہ دونوں روایات غیر متعلق ہیں اس لیے اسی قدر جواب پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔
7: عبداللہ بن عمرؓ سے ایک روایت ترمذی کے باب الحج میں مرقوم ہے کہ:
فقال عبداللہ بن عمر ھی حلال فقال الشامی ان اباک قد نھی عنھا فقال عبد اللہ بن عمر رایت ان کان ابی نھی عنھا وصنعھا رسول اللہﷺ امر ابی یتبع ام امر رسول اللہﷺ فقال الرجل بل امر رسول اللہﷺ۔
ترجمہ: سیدنا ابن عمرؓ نے کہا متعہ حلال ہے شامی نے کہا تمہارے باپ نے تو متعہ سے منع کیا ہے سیدنا ابنِ عمرؓ نے کہا تو نے دیکھا کہ میرے باپ نے متعہ منع کیا ہے حالانکہ رسول اللہﷺ نے اسے حلال کیا تھا کیا تو میرے باپ کا حکم مانے گا یا رسول اللہﷺ کا پس شامی نے کہا البتہ حکم رسول اللہﷺ کا۔
جواب: سابقہ دو روایات کی طرح اس روایت کا محلِ وقوع بھی صاف طور پر واضح کرتا ہے کہ روایت بھی تمتع الحج ہی کے متعلق ہے اس لیے معاملہ زیر بحث سے غیر متعلق ہے۔
عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہﷺ کی جانب سے متعۃ النساء کے حرام کیے جانے کے بڑے زور مدعی ہیں چنانچہ آپ کی زبانی ایک روایت طحاوی کے باب المتعہ میں درج ہے:
ان رجل سال عبد اللہ بن عمر عن المتعۃ فقال حرام قال فان فلانا یقول فیھا قال واللہ لقد علم ان رسول اللہﷺ حرمھا یوم خیبر وما کنا مسافحین۔
ترجمہ: ایک شخص نے عبد اللہ بن عمرؓ سے متعہ کی نسبت سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ حرام ہے تو اس نے کہا کہ فلاں اس کو حلال کہتا ہے اس پر آپ نے پھر فرمایا بخدا مجھے علم ہے کہ رسول اللہﷺ نے اسے یومِ خیبر کو حرام فرمایا تھا اور ہم زنا کرنے والے نہ تھے۔
8: لولا نھی ابن الخطاب ما زنی الا شقی۔
ترجمہ: اگر عمر بن خطابؓ منع نہ کرتے تو کوئی زنا نہ کرتا مگر شقی۔
یہ روایت تفسیر ثعلبی و تفسیر نیشا پوری میں درج ہے:
جواب: اول تو تفسیر ثعلبی و تفسیر نیشا پوری اہلِ سنت کی معتبر کتابیں ہی نہیں ہیں۔
دوم: یہ روایت ان تفسیروں میں بلا اسناد درج ہے اور بے سند روایت ہرگز لائق اعتبار نہیں ہوتی۔
سوم: سیدنا عمرؓ کی ممانعت متعہ بالکل مطابق ارشاد نبوی ہے جسے سیدنا امیرؓ کی خیبر والی روایت واضح کرتی ہے اگر حدیثِ نبوی کے برخلاف سیدنا عمرؓ کی ضد پر سیدنا علیؓ حلت کا خیال جما کر یہ فقرہ تراش لیں نعوذ باللہ من ذالک تو سیدنا عمرؓ پر کیا الزام ہے بلکہ سیدنا عمرؓ پر اعتراض کرنا دراصل حضورِ اکرمﷺ پر اعتراض کرنا ہے قول علیؓ قولِ رسول پر کسی طرح فائق نہیں ہو سکتا۔