فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث - ردِ…

فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

کیا یہ الفاظ تقیہ سے چھپائے گئے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے گو یہی روایت ہی ہمارے دعویٰ کے لیے کافی ہے لیکن ہم بدر انجانہ بایدر سانید کے مطابق سبرہ جہنیؓ کی دوسری روایت انہیں ہر دو کتبِ احادیث سے پیش کرتے ہیں جو اس معاملہ کو روزِ روشن کی طرح صاف کر دیتی ہے: 

یقول یا ایھا الناس انی کنت اذنت لکم فی الاستمتاع الا وان اللّٰہ حرمھا الی یوم القیامۃ۔  

ترجمہ: رسول اللہﷺ فرماتے تھے اے لوگو میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی مگر اب اللہ نے اسے قیامت تک حرام کر دیا ہے۔

3: بخاری میں ایک اور مسلم میں دو روایات سیدنا سلمہ ابن اکوعؓ سے مروی ہیں اور وہ یہ ہیں:

اول: خرج علینا منادی رسول اللہﷺ فقال ان رسول اللہ قد اذن لکم ان تستمتعوا متعۃ النساء۔  

ترجمہ: رسول کریم کا منادی آیا اور کہا کہ رسول کریم نے متعۃ النساء کی اجازت دی ہے۔

دوم: اتانا رسول اللہﷺ فاذن لنا المتعۃ۔ 

ترجمہ: رسول کریمﷺ تشریف لائے اور ہمیں متعہ کی اجازت دی

سوم: قال کنا فی جیش فاتانا رسول اللہﷺ قال قد اذن لکم ان تستمتعوا فاستمتعوا۔ 

ترجمہ: ہم فوج میں تھے کہ رسول کریمﷺ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا کہ رسول کریمﷺ نے متعہ کی اجازت دی ہے تو ہم نے متعہ کیا۔

جواب:یہ تینوں روایات ایک ہی وقت کی بیان کی ہوئی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ الفاظ قریباً قریباً یکساں ہیں چونکہ مختلف آدمیوں کی وساطت سے یہ روایات محدثین تک پہنچی ہیں اس لیے قدر اختلاف لفظی پایا جاتا ہے۔

پس جہاں ان تینوں روایات کو پیش کیا گیا تھا وہاں اگر چوتھی روایت کو بھی لکھا جاتا تو کیا اچھا ہوتا نہ ان کو اعتراض کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی اور نہ ہمیں جواب دینے کی زحمت اٹھانی پڑتی چوتھی روایت احمد و مسلم نے سیدنا سلمہ بن اکوعؓ سے یہ نقل کی:  

قال رخص لنا رسول اللہﷺ فی متعۃ النساء عام فتح مکہ ثلاثہ ایام ثم نھی عنھا۔  

ترجمہ: سیدنا سلمہ بن اکوعؓ نے کہا کہ عام فتحِ مکہ کے سال تین دن کے لیے رسول کریمﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت دی تھی پھر اس کے بعد منع فرما دیا

اسی قسم کی ایک اور حدیث سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کے بیٹے نے اپنے باپ سے روایت کی ہے جو طحاوی کے باب المتعہ میں اس طرح درج ہے:  

قال اذن رسول اللہﷺ فی متعۃ النساء ثم نھی عنھا

ترجمہ: سیدنا سلمہ بن اکوعؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے متعہ النساء کی پہلے اجازت دی تھی پھر منع کر دیا۔

سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کی چاروں روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باوجود شدت تجرد کے متعہ سے رکے رہے اور حضورِ اکرمﷺ کے صدور اجازت کے بعد مرتکب متعہ ہوئے اگر نکاح کی طرح متعہ کی عام اجازت ہوتی اور یہ بنصِ قرآنی ثابت ہوتا جیسا کہ شیعہ صاحبان آیت:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

کو اس کی نصِ صریح قرار دیتے ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا قبل از اجازت متعہ سے اجتناب کرنا اور بعد صدور اجازت اس کا مرتکب ہونا معنیٰ نہیں رکھتا۔

اور اس تفریق کی کوئی وجہ معقول معلوم نہیں ہوتی کہ کیوں نکاح کے واسطے کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ التزام نہیں کیا کہ حضورِ اکرمﷺ سے پہلے اجازت بلکہ مشورہ تک لیں اور بعد میں نکاح کریں ازیں حالات حرمتِ متعہ میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ اگر متعہ ایسا ہی حلوہ بے دودہ تھا تو اس کے لیے اس قدر تگ و دو کی کیا حاجت تھی جس کو بھی خواہش ہوتی بے کھٹکے متعہ کر لیتا۔

حدیثِ سوم میں لفظ فاستمتعوا سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوعؓ متعہ کنندگان میں نہ تھے بلکہ اور لوگوں نے کیا تھا بایں ہمہ صحیح بخاری میں اس حدیث کے بعد دوسری حدیث میں خود سیدنا سلمہ بن اکوعؓ کے یہ الفاظ: 

فما ادری اشی کان لنا خاصۃ ام للناس عامۃ۔

ترجمہ: یہ معلوم نہیں یہ اجازت خاص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہی تھی یا تمام امت کے لیے تھی۔

4: دو روایات مسلم کے باب الحج میں ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہیں:  

اول: قال کانت لنا رخصۃ۔  

ترجمہ: متعہ کی ہم کو اجازت تھی۔  

دوم: لا تصلح المتعۃ الا لنا خاصۃ۔

ترجمہ: سوائے ہمارے کیسی میں صلاحیت متعہ کی نہ تھی۔

جواب: یہ روایات جیسا کہ ان کے محل وقوع سے ظاہر ہوتا ہے متعہ الحج کے متعلق ہیں چنانچہ اس جگہ ابو ذرؓ سے ایک اور روایت درج ہے جس سے معاملہ اظہر من الشمس ہو جاتا ہے:  

قال کانت المتعۃ فی الحج لاصحاب محمد خاصۃ۔

ترجمہ: ابو ذرؓ نے کہا کہ متعہ الحج اصحاب محمد کے لیے خاص تھا۔

اسی مضمون کی ایک اور حدیث نسائی میں مرقوم ہے جس سے بلا شک و شبہ یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ ابو ذرؓ کی روایت ہچو محض متعہ الحج کے متعلق ہے یہ روایت سیدنا حارث بن بلالؓ سے مروی ہے:  

قال قلت یا رسول اللہﷺ فسخ الحج لنا خاصۃ ام للناس عامۃ فقال بل لنا خاصۃ۔

متعہ النساء کے متعلق سیدنا ابو ذرؓ سے ایک ہی روایت مروی ہے اور وہ متعہ کی حرمت کے بیان میں اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔

5: بخاری طحاوی تفسیر ِکبیر و تفسیرِ در منثور میں عمارہ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے روایت کی ہے:

سئل ابنِ عباس عن المتعۃ اسفاح ام نکاح فقال لا سفاح ولا نکاح فما ھی قال ھی المتعۃ۔  

ترجمہ: میں نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے سوال کیا آیا متعہ زنا ہے یا نکاح تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ زنا ہے نہ نکاح بلکہ متعہ۔

نیز بخاری میں ابی حمزہؓ سے روایت ہے:

سئل ابنِ عباس عن متعۃ النساء فرخص فیھا فقال له مولا له انما کان ذالک فی کثرۃ النساء وقلت الرجال فقال ابنِ عباس نعم۔

ترجمہ: سوال کیا گیا سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے متعۃ النساء کے متعلق تو اس نے اجازت دے دی پھر اس کے نوکر نے اس کو کہا کے یہ تو اس وقت تھا جب کے عورتوں کی قلت تھی اور حالت شدید لاحق ہوتی تھی سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا جی۔

صفحہ 2 از 3