فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث - ردِ…

فصل ثانی روایاتِ سنیہ پیش کردہ روافض اور ان پر بحث

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

(اس جگہ تک رسالہ لکھ چکے کے بعد مجھے کافی کی کتاب روزہ مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا تو صفحہ 12 پر یہ عبارت میری نظر سے گزری:

فقال ابو عبد الوافضہ قال قلت نعم قال لا واللہ ما ھم سموکم الخ۔ کے رافضی کا رکھا ہوا نام ہے اس لیے میں نے آئندہ عہد کر لیا ہے کے شیعوں کے خدائی نام سے پکارا کروں گا)

بیشتر اس کے کہ روایات سنی پر بحث کریں یہ امر اشد ضروری معلوم ہوتا ہے کہ متعہ کی مختصر تاریخ بیان کر دی جائے جہاں تک اہلِ سنت کی کتب سیر و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے متعہ رسول کریمﷺ کی بعثت سے قبل سرزمین عرب میں مروج تھا چنانچہ حضورِ اکرمﷺ نے اسے ابتداء اسلام میں حرام فرمایا اور پھر فتح مکہ میں تین روز کے لیے محض بضرورت جنگ اس کی اجازت دے کر قیامت تک اسے حرام قرار دے دیا

سیدنا ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ:  

انما احلت رسول اللہﷺ متعۃ النساء ثلثہ ایام ثم نھی عنھا رسول اللہﷺ۔  

ترجمہ: رسول کریمﷺ نے اپنے اصحاب کے لیے تین روز متعہ حلال کیا تھا پھر اس سے منع فرما دیا

اس قسم کی سینکڑوں احادیث صحاحِ ستہ میں مروی ہیں جن کی بناء پر اہلِ سنت کے چاروں ائمہ کرام یعنی امام ابو حنیفہؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ نے متعہ کو حرام قرار دیا ہے چنانچہ ان کی کتب معتبرہ میں بے شمار سندات موجود ہیں۔

البتہ امام مالکؒ کے متعلق صاحب ہدایہؒ کی غلطی کے باعث ہدایہ میں یہ فقرہ متعہ نزد امام مالکؒ جائز است درج ہو گیا ہے حالانکہ اس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے چنانچہ ہدایہ کی شرح عینی مندرجہ حاشیہ پر ہی اس غلطی کی کافی تشریح کر دی گئی ہے

خود امام مالکؒ نے موطا میں سیدنا علیؓ کی خیبر والی روایت کی بناء پر متعہ کو حرام کہا ہے فرقہ مالکیہ کی دیگر کتبِ فقہ میں بھی اسے حرام ہی لکھا ہے شرح مختصر میں قلیل مالکیؒ لکھتے ہیں:

لا خلاف عندنا ان المتعۃ نکاح یفسخ مطلقا۔ 

اور رسالہ ابنِ ابی زید مالکی میں:

لا یجوز نکاح المتعہ اجماعا۔ 

اور منہج الوافیہ فی فقہ المالکیہ میں بھی:

لا یجوز نکاح المتعہ وھو النکاح الی اجل۔

موجود ہے علاوہ ازیں امام مالکؒ متعہ پر حد تجویز کرتے ہیں۔

علاوہ ان اندرونی سندات کے ایک چھوڑ دو بیرونی سندات بھی اس بات میں ایسی مکبر ہیں جن سے کسی شیعہ کو بھی انکار نہیں ہو سکتا اور وہ یہ ہیں علامہ علی جو شیعہ غالی ہیں کشفا الحق میں فرماتے ہیں:

ذھبت الامامیہ الی اباحت نکاح المتعہ وخالف فیہا الفقہاء الاربعۃ۔

اسی طرح احقاق الحق مصنفہ ایضاً میں مذکور ہے کہ چاروں ائمہ کے نزدیک متعہ حرام ہے اس شہادت کے ہوتے ہوئے کوئی شخص اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ صاحب ہدایہؒ نے محض غلطی سے یہ لکھ دیا ہے وگرنہ اس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔

اس مختصر تمہید کے بعد ہم ان روایات کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں جو شیعوں کی طرف سے حلتِ متعہ کے ثبوت میں کتبِ سنیہ سے پیش کی جاتی ہیں اور ساتھ ہی ہم ان کی تردید بھی کرتے جائیں گے

1: سب سے اول سیدنا ابنِ مسعودؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم سے بڑے شد و مد سے پیش کی جاتی ہے:  

کنا نغزو مع رسول اللہﷺ ولیس معنا نساؤنا فقلنا الا نستخصی فنھانا عن ذلک ورخص لنا ان نتزوج المرأۃ بالثوب الی اجل ثم قرأ عبد اللّٰہ یا ایھا الذین آمنوا لا تحرمو طیبات ما احل اللّٰہ۔ 

ترجمہ: سیدنا ابنِ مسعودؓ کہتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ غزا میں تھے اور ہماری عورتیں ساتھ نہیں تھیں ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کر لیں آپ نے منع فرمایا اور پھر اجازت دی کہ عورتوں سے نکاحِ موقت بالعوض کپڑے کے کر لیں پھر یہ پڑھا کہ اے ایمان والو نہ حرام کرو ان پاک چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔

جواب:ایمانداروں نے یہ روایت تو لکھ دی مگر دوسری روایت کو دیکھ کر سانپ سونگھ گیا جو آگے قلم نہ اٹھ سکا حالانکہ دوسری روایت بھی سیدنا ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے اور کیسی صاف سند تنسیخ متعہ پر ہے بہیقی سیدنا ابنِ مسعودؓ سے روایت کرتا ہے:  

قال المتعۃ منسوخۃ نسخھا الطلاق والصدقۃ والعدۃ والمیراث۔ 

ترجمہ: کہ انہوں نے کہا کہ متعہ منسوخ ہو چکا ہے اور اس کو طلاق مہر اور میراث نے منسوخ کیا ہے۔

علاوہ سیدنا ابنِ مسعودؓ کی اس روایت کے حضرت علیؓ کی بھی ایک اسی مضمون کی روایت تفسیر در منثور جلد 2 صفحہ 110 پر درج ہے: 

قال نسخ رمضان کل صوم ونسخ الزکاۃ کل صدقۃ ونسخ المتعہ الطلاق والعدۃ والمیراث ونسختہ الضحیۃ کل ذبیحۃ۔

ترجمہ: فرمایا علیؓ نے رمضان نے کل روزے منسوخ کیے اور زکوٰۃ نے کل صدقات منسوخ کیے اور طلاقِ مدت اور میراث نے متعہ کو منسوخ کیا اور قربانی نے کل ذبیحات منسوخ کیے۔

سیدنا ابنِ مسعودؓ کی پہلی روایت غزوہ مکہ کے متعلق ہے اور اس کے الفاظ صاف طور پر واضح کر دیتے ہیں کہ غزوہ مکہ سے قبل بھی متعہ ممنوع تھا اگر ممنوع نہ ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تجرد سے تنگ آکر خصی بننے کی التجا کرنے کی کیا ضرورت تھی اور رسول کریمﷺ کو ان کی مجبوریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے متعہ کی اجازت دینے کا کیا معنیٰ ہو سکتے تھے پس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی التجا رسول کریمﷺ کی اجازت اس امر کا بین ثبوت ہے کہ متعہ ممنوع تھا مگر اس کی وقتی اجازت بحالاتِ جنگ دی گئی تھی وگرنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین از خود متعہ کر لیتے اور رسول کریمﷺ کو اجازت دینے کی زحمت نہ دیتے چنانچہ روایت نمبر دو ہمارے اس دعویٰ کی کامل طور پر تائید اور تصدیق کرتی ہے کہ وقتی اجازت صرف تین دن کے لیے غزوہ مکہ میں دی گئی تھی۔

2: دوسری روایت سبرہ بن معبد جہنیؓ سے احمدؒ و مسلمؒ روایت کرتے ہیں: 

وھو ھذا: قال اذن لنا رسول اللہﷺ عام فتح مکۃ فی متعۃ النساء فخرجت انا ورجل ثم استمتعت منھا فخرجت حتیٰ حرمھا رسول اللہﷺ۔  

ترجمہ: اجازت دی ہم کو رسول کریمﷺ نے فتح مکہ کے سال متعہ النساء کی پس چل پڑے میں اور ایک اور آدمی پس میں نے متعہ کیا۔

جواب:یہاں تک تو ایمانداری سے روایت کو پیش کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد کے الفاظ کو پس میں وہاں سے نہ نکلا جب تک رسول کریمﷺ نے حرام نہ کر دیا نہایت بد دیانتی سے بلا ڈکار ہضم کیا گیا ہے

صفحہ 1 از 3