سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 7 از 8

آں حضرتﷺ کے بعد جب آپﷺ کا نام زبان پر آ جاتا تو آنسوؤں کا دریا امنڈ آتا، احنف بن قیسؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے بیت المقدس میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ مسلسل سجدے کر رہا ہے، جس سے میرے دل پر ایک خاص اثر ہوا، جب میں دوبارہ لوٹ کر گیا تو پوچھا کہ آپ بتا سکتے ہیں کہ میں نے جفت نماز پڑھی یا طاق؟ اس نے کہا اگر میں لاعلم ہوں تو خدا ضرور جانتا ہے، اس کے بعد کہا کہ میرے دوست ابو القاسم محمدﷺ نے مجھ کو خبر دی ہے۔" صرف اس قدر زبان سے نکلا تھا کہ رونے لگے، پھر کہا کہ ”میرے دوست ابو القاسمﷺ نے مجھ کو خبر دی ہے“۔ ابھی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ پھر آنسو امنڈ آئے، آخر میں سنبھل کر کہا کہ ”میرے دوست ابو القاسمﷺ نے فرمایا ہے کہ جو بندہ خدا کا سجدہ کرتا ہے، خدا اس کا ایک درجہ بلند کر کے اس کی بدی کو مٹا کر نیکی لکھتا ہے“۔ میں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ فرمایا ”ابو ذر، رسول اللہﷺ کا صحابی“ یہ سن کر میں اپنی تقصیر پر بہت نادم ہوا۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 164)

بارگاہِ نبوی صلی الله علیہ و سلم میں پذیرائی: حریم نبوت میں ان کی نیاز مندیاں بہت مقبول تھیں، جب یہ مجلس میں موجود ہوتے تو سب سے پہلے ان ہی کو تخاطب کا شرف حاصل ہوتا اور اگر موجود نہ ہوتے تو تلاش ہوتی، جب ملاقات ہوتی تو آنحضرتﷺ مصافحہ فرماتے۔ (اصابہ: جلد 5 صفحہ 62)

یہ محبت و یگانگت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ آنحضرتﷺ اپنے اسرار تک ان سے نہ چھپاتے تھے اور یہ بھی راز داری کا پوری طرح فرض ادا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان سے کسی نے کہا کہ میں آنحضرتﷺ کی بعض باتیں آپ سے پوچھنا چاہتا ہو، فرمایا ”اگر آپﷺ کا کوئی راز ہو گا تو نہ بتاؤں گا۔“ (مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 162)

یہی یگانگت آنحضرتﷺ کے آخر لمحہ حیات تک قائم رہی، چنانچہ مرض الموت میں آپﷺ نے ان کو بلوا بھیجا، یہ جب حاضر خدمت ہوئے اس وقت آنحضرتﷺ لیٹے ہوئے تھے، ابو ذرؓ کے اوپر جھک گئے اورمحبوبِ عالمﷺ نے ہاتھ بڑھا کر چمٹا لیا۔ ( ایضاً)

نہ معلوم یہ نگاہِ واپسیں کیا کام کر گئی کہ آخر دم تک وارفتگی کا عالم طاری رہا۔

آنحضرتﷺ جو چیز اپنے لیے پسند فرماتے تھے وہی ابو ذرؓ کے لیے بھی پسند فرماتے تھے کہ یہی آئین محبت ہے، ایک مرتبہ انہوں نے امارت کی خواہش کی، آپﷺ نے فرمایا کہ ”ابو ذر! تم ناتواں ہو اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں“۔ (ابن سعد: جز 4 قسم 1 صفحہ 170)

خلیفہ کی اطاعت: اگرچہ ابو ذرؓ حق پسند طبیعت رکھتے تھے، پھر بھی اختلاف امت کے خیال سے کسی چیز میں خلیفہ وقت کے حکم سے سرتابی نہ کرتے تھے۔

اوپر گزر چکا ہے کہ ربذہ کے قیام کے زمانہ میں عراقیوں کی خواہش کے باوجود حضرت عثمان غنیؓ کی مخالفت پر آمادہ نہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر مجھ پر حبشی بھی امیر بنایا جائے تو بھی اس کی اطاعت کروں گا اور اس کو عملاً کر کے دکھایا، چنانچہ جب وہ ربذہ جا کر مقیم ہوئے تو اتفاق سے اس وقت یہاں کا امیر ایک حبشی تھا، جب ابوذرؓ پہنچے اور نماز کے وقت جماعت کھڑی ہوئی تو وہ ان کے ادب کے خیال سے پیچھے ہٹ گیا، انہوں نے فرمایا ”تم ہی نماز پڑھاؤ، تم گوحبشی غلام ہو، لیکن مجھ کو حکم ملا ہے کہ خواہ حبشی ہی امیر کیوں نہ ہو، مگر اس کی اطاعت کرنا۔'' خلیفہ وقت کا عمل خواہ ان کے نزدیک غلط ہی کیوں نہ ہوتا، اس کی مخالفت نہ کرتے تھے، بلکہ خود بھی وہی کرتے، حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں حج کو گئے، کسی نے آ کر اطلاع دی کہ منی میں عثمان غنیؓ نے چار رکعتیں نماز پڑھیں، آپ کو بہت ناگوار ہوا اور درشت الفاظ استعمال کر کے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ سب دو رکعت پڑھتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے امامت کی، مگر خود بھی چار رکعتیں پڑھائیں، لوگوں نے کہا آپ نے امیر المؤمنین پر اعتراض کیا، لیکن خود بھی چار رکعتیں پڑھائیں۔ فرمایا کہ اختلاف بری چیز ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد امرا ہوں گے، ان کی تذلیل نہ کرنا اور جو شخص ان کی تذلیل کا ارادہ کرے گا، اس نے گویا اسلام کی حبل متین اپنی گردن سے نکال دی اور توبہ کا دروازہ پنے لیے بند کر لیا۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 165)

لیکن اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ آپ امرا و خلفاء کی تمام جا وبیجا باتوں کو مان لیتے تھے، امیر معاویہؓ کی لغزشوں پر نہایت سختی سے نکتہ چینی کرتے تھے، بلکہ برا بھلا تک کہتے تھے۔

حق گوئی: خدا کے معاملہ میں لومة لائم کی مطلق پرواہ نہ کرتے تھے، حضرت علیؓ فرماتے تھے کہ آج میرے اور ابو ذرؓ کے علاوہ کوئی ایسا شخص باقی نہیں ہے جو خدا کے معاملہ میں لومة لائم کا خوف نہ کرتا ہو۔ (تذکر ة الحفاظ: تذکرہ ابو ذرؓ)

ان کی حق گوئی کی شہادت خود زبان وحی والہام نے دی ہے، چنانچہ آنحضرتﷺ نے ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا کہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر ابو ذرؓ سے زیادہ سچا کوئی نہیں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 156)

مہمان نوازی اور حق جوار: حضرت ابو ذرؓ کی غذا زیادہ تر بکریوں کا دودھ تھا، لیکن اس میں بھی مہمانوں اور پڑوسیوں کو شریک کرتے تھے، عمیلہ فزاری روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے ایک شخص اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتا تھا کہ ابو ذرؓ دودھ دھو کر پہلے مہمانوں اور پڑوسیوں کو پلاتے تھے، ایک مرتبہ دودھ اور کھجوریں لے کر پڑوسیوں اور مہمانوں کے سامنے پیش کر کے معذرت کرنے لگے کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، اگر ہوتا تو پیش کرتا، چنانچہ جو کچھ تھا سب دوسروں کو کھلا دیا اور خود بھوکے سو رہے۔ ( ابن سعد: جلد 4 صفحہ 174)

خوش اخلاقی: عموماً زہاد متقشفین کے مزاج میں ایک طرح کی خشکی ہوتی ہے، لیکن مسیح الاسلام کی ذات اس سے مستثنیٰ تھی، ان کا اخلاق بدویوں تک کو مسحور کر لیتا تھا، ایک بدوی کا بیان ہے کہ میں ابو ذر کے ساتھ رہا ہوں، ان کی تمام اخلاقی خوبیاں تعجب انگیز تھیں۔ (ایضاً: صفحہ 174)

صفحہ 7 از 8