سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 6 از 8

جعفر بن زبرقان کہتے ہیں کہ مجھ سے غالب بن عبدالرحمٰن بیان کرتے تھے کہ میں ایک شخص سے ملا، جو ابو ذرؓ کے ساتھ بیت المقدس میں نماز پڑھا کرتا تھا، وہ کہتا تھا کہ ابوذرؓ کا پورا اثات البیت جمع کیا جاتا تو بھی اس شخص (ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے) کی چادر کی قیمت کے برابر نہ نکلتا، جعفر نے اس کو مہران بن میمون سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ان کا کل اثاثہ دو درہم سے زیادہ کا نہ تھا۔ (ابن سعد: جز 4 قسم 1 صفحہ 170)

لوگ ان کی خدمت کرنا چاہتے تھے، مگر وہ اس کو قبول نہ کرتے تھے، ایک مرتبہ حبیب بن مسلمہ فہریؓ والی شام نے ان کی خدمت میں تین سو اشرفیاں بھیجیں کہ وہ ان کو اپنی ضروریات میں صرف کریں، انہوں نے اسی وقت واپس کرا دیا اور کہا کہ ان کو میرے علاوہ کوئی دوسرا شخص خدا کے معاملہ میں دھوکہ کھانے والا نہیں ملا، ہم کو صرف سر چھپانے کے لیے سایہ، دودھ پینے کے لیے بکریاں اور خدمت کے لیے ایک لونڈی چاہیے، اس کے ماسوا جو کچھ ہو گا وہ زائد از ضرورت ہے۔ ( حلیة الاولیاء: ابو نعیم: جلد 1 صفحہ 162)

حضرت ابو ذرؓ فرماتے تھے کہ لوگ موت کے لیے پیدا ہوتے ہیں، ویران ہونے کے لیے آبادیاں بساتے ہیں، فنا ہونے والی چیزوں کی حرص و طمع کرتے ہیں اور باقی ہے اور پائندہ چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں، دو ناپسندیدہ چیزیں موت اور فقر میرے لیے کس قدر خوش آئند ہیں۔ (ایضاً: صفحہ 162)

زہد وتقویٰ: ان کی زندگی شروع سے آخر تک سر تا پا زہد و تقویٰ تھی، جس پہلو پر نظر ڈالی جائے زہد و تقویٰ کا عجیب و غریب نمونہ نظر آئے گا، اس فقیرانہ زندگی کو دیکھ کر آنحضرتﷺ فرماتے تھے کہ ”میری امت میں سے ابو ذرؓ میں عیسی بن مریم علیہ السلام جیسا زہد ہے۔

(اسد الغابہ: جلد 5 صفحہ 187)

یہی زہد کی زندگی آخر دم تک قائم رہی، آنحضرتﷺ کے عہد نبوت کے بعد سے لوگوں میں بہت کچھ تبدیلی پیدا ہو گئی تھی، لیکن حضرت ابو ذر غفاریؓ شروع سے اخیر تک ایک رنگ پر قائم رہے۔ (اصابہ: جلد 7 صفحہ 62)

جب عہد رسالت کا مقدس دور ختم ہوا اور لوگ دنیا سے ملوث ہونے لگے تو تنہا نشینی اختیار کر لی، عمران بن حطان راوی ہیں کہ میں ایک مرتبہ ابو ذرؓ کے پاس گیا، وہ مسجد میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا ابو ذر (رضی اللہ عنہ)! تنہائی کیوں اختیار کر لی؟ فرمایا میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ تنہائی برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ (مستدرک: جلد 3 صفحہ 343)

اسی وجہ سے وہ دنیا سے بہت دور بھاگتے تھے، ابی اسماء رحبی راوی ہیں کہ میں ابو ذرؓ کے پاس ربذہ گیا، ان کی بیوی کو سخت خستہ حال دیکھا۔ فرمانے لگے کہ یہ عورت مجھ سے کہتی ہیں کہ عراق جا، اگر میں عراق جاؤں تو عراق والے میرے سامنے دنیا پیش کریں گے اور میرے دوست (آنحضرتﷺ) نے مجھ سے فرمایا ہے کہ جہنم کے پل کے سامنے پیر پھسلانے والا راستہ ہے اور تم لوگوں کو اس پر سے گزرنا ہے“اس لیے بوجھ کی گراں باری سے ہلکا رہنا چاہیے۔ ( ابن سعد: جز 4 ق 1 صفحہ 174)

فرمان رسول اللہﷺ کا پاس: حضرت ابو ذرؓ ارشاد نبویﷺ کو ہر لمحہ پیش نظر رکھتے تھے اور اس سے سرمو تجاوز نہ کرتے تھے، بات بات میں فرماتے تھے کہ: عہد اليَّ خلیلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا سمعت خلیلی رسول الله صلی الله علیہ وسلم 

میرے دوست رسول اللہﷺ نے مجھ سے یہ وعدہ لیا ہے یا میں نے اپنے دوست محمدﷺ کو یہ کہتے سنا۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ سے امارت کی خواہش ظاہر کی، آپﷺ نے فرمایا تم ناتواں ہو اور امارت ایسا بار امانت ہے کہ اگر اس کے حقوق کی پوری نگہداشت نہ کی جائے تو آخرت میں اس کے لیے رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (ایضاً: صفحہ 170)

اسی فرمان کے بعد پھر انہوں نے کبھی امارت کی خواہش نہیں کی، ان کی خدمت میں کسی نے دو چادریں پیش کیں، انہوں نے ایک ازار بنایا اور ایک چھوٹی کملی اوڑھ لی اور دوسری غلام کو دے دی، گھر سے نکلے تو لوگوں نے کہا کہ اگر آپ دونوں چادریں خود استعمال کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، فرمایا یہ صحیح ہے، لیکن میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ جو تم کھاتے پہنتے ہو وہی اپنے اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ پہناؤ۔ (ابن سعد: جز 4 ق 1 صفحہ 170)

ایک مرتبہ آں حضرتﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارے اوپر ایسے امراء حکمران ہوں گے جو اپنا حصہ زیادہ لیں گے، اس وقت تم کیا کرو گے؟ عرض کی تلوار سے کام لوں گا، فرمایا میں تم کو اس سے بہتر مشہور دیتا ہوں، ایسے وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے مل جاؤ۔ ( ابن سعد: جز 4 ق 1 صفحہ 166)

اس مشورہ پر انہوں نے اس سختی سے عمل کیا کہ جب وہ زمانہ آیا تو تنہا نشینی اختیار کر لی اور کسی چیز میں کوئی حصہ نہیں لیا۔

ایک مرتبہ وہ مسجد میں لیٹے تھے کہ آں حضرتﷺ تشریف لائے اور فرمایا "ابوذر! جب تم اس سے نکالے جاؤ گے تو کیا کرو گے؟ عرض کی”مسجد نبوی یا اپنے گھر چلا جاؤں گا“۔ اگر اس سے بھی نکالے گئے تو کیا طریقہ اختیار کرو گے؟ عرض کی ”تلوار نکالوں گا“ آنحضرتﷺ نے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ فرمایا کہ ”ابو ذر! خدا تمہاری مغفرت کرے، تلوار نہ نکالنا، بلکہ جہاں وہ لے جانا چاہیں چلے جانا۔'' چنانچہ جب ربذہ میں رہنے کا حکم ملا تو اس فرمان کے مطابق بلا کسی عذر کے چلے گئے اور وہاں حبشی غلام کے پیچھے نماز پڑھی، ہر چند اس نے آپ کو بڑھانا چاہا، مگر آپؓ نے جواب دیا کہ میں آنحضرتﷺ کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔ ( مسند ابن حنبل: جلد 5 صفحہ 44 وابن سعد)

حبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ابو ذرؓ کو ذات نبویﷺ کے ساتھ جو شیفتگی تھی، اس کا اظہار لفظوں میں نہیں ہو سکتا، ایک مرتبہ آپ نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! آدمی کسی ایک جماعت سے محبت کرتا ہے، لیکن اس کے جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپﷺ نے فرمایا: ”ابو ذر! تم جس شخص سے محبت رکھتے ہو اس کے ساتھ ہو۔'' عرض کیا میں خدا اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، فرمایا تم یقیناً اسی کے ساتھ ہو، جس سے محبت رکھتے ہو۔ (ابوداؤد: جلد 2 صفحہ 212)

صفحہ 6 از 8