سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 5 از 8

مگر ان کے فتاویٰ کی تعداد بہت کم ہے، فتویٰ میں وہ کسی کی مطلق رو رعایت نہ کرتے اور بلاکسی خوف و ہراس کے جو سچی بات ہوتی وہ کہہ دیتے تھے، ایک شخص نے آ کر ان سے فتویٰ پوچھا کہ ”عثمانؓ کے محصلوں نے صدقہ میں اضافہ کر دیا ہے، ایسی حالت میں کیا ہم بقدر زیادتی مال چھپا سکتے ہیں؟ “فرمایا نہیں” ان سے کہو کہ جو واجبی ہو اس کو لے لیں اور جو ناجائز ہو، اس کو واپس کر دیں، اگر اس کے بعد بھی وہ زیادہ لیں تو قیامت کے دن وہ زیادتی تمہاری میزان میں کام آئے گی، ان کا یہ فتویٰ ایک قریشی نوجوان کھڑا سن رہا تھا، وہ بولا آپ کیوں فتویٰ دیتے ہیں؟ کیا آپ کو امیر المؤمنینؓ نے فتویٰ دینے سے منع نہیں کیا ہے؟ فرمایا کیا تم میرے نگہبان ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میری گردن پر تلوار بھی رکھ دو اور مجھ کو یقین ہو جائے کہ گردن کٹنے کے قبل جو کچھ آنحضرتﷺ سے سنا ہے سنا سکوں گا تو یقیناً سنا دوں گا۔ (تذکرة الحفاظ: جلد 1 صفحہ 12)

اخلاق وعادات: حضرت ابو ذرؓ ان محرمان خاص میں تھے جن کو بارگاہِ نبوت میں خاص تقرب حاصل تھا، اس لیے آپؓ کے ہر فعل و عمل پر خلق نبوی کا بہت گہرا پرتو پڑا تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک وہ جنہوں نے دین و دنیا دونوں کو پوری طرح حاصل کیا، دوسرے وہ جنہوں نے دنیا کو ٹھکرا دیا اور محض آخرت کی نعمتوں پر قناعت کی، حضرت ابو ذرؓ اسی دوسری صنف میں تھے، وہ زہد و ورع، حق گوئی و حق پرستی، توکل و قناعت، استغنا و بےنیازی میں تمام صحابہ سے ممتاز تھے، یہ وہ وقت تھا جب قیصر و کسریٰ کے خزانے دارالخلافہ میں لدے چلے آ رہے تھے، جگہ جگہ قصر و ایوان بن رہے تھے، عیش و تنعم کے سامان ہو رہے تھے، مگر ان میں سے کوئی چیز بھی رضوان الہٰی کے اس طالب کو اپنی طرف متوجہ نہ کر سکی، زر و جواہر کے ڈھیر ان کی نگاہ میں خزف ریزوں سے زیادہ وقعت نہ رکھتے تھے، زر نقد کبھی جمع نہیں کیا، ضرورت سے جو فاضل بچتا، اس کو اسی وقت خرچ کر دیتے تھے، چار ہزار وظیفہ مقرر تھا، جب وہ ملتا تو خادم کو بلاتے اور ایک سال کے اخراجات کا اندازہ لگا کر چیزیں خرید لیتے، اس سے جتنی رقم فاضل بچتی اس کو لوگوں میں تقسیم کر دیتے اور فرماتے کہ جو شخص سونا چاندی تھیلیوں میں محفوظ رکھتا ہے وہ گویا انگارے رکھتا ہے۔ (ابن سعد: جز 4 قسم 1 صفحہ 169)

یہ بھی فرماتے تھے کہ میرے دوستﷺ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص بھی سونا چاندی تھیلیوں میں محفوظ کرتا ہے ، وہ جب تک اس کو خدا کی راہ میں نہ خرچ کر دے اس کے لیے آگ کا انگارہ رہے گا۔ (حلیة الاولیاء ابو نعیم: جلد 1 صفحہ 163)

اس پر نہ صرف خود عامل تھے، بلکہ چاہتے تھے کہ دنیا اسی رنگ میں رنگ جائے اور اس عقیدے میں یہاں تک متشدد تھے کہ بڑے لوگوں سے ملنا تک گوارا نہ کرتے، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ جو بڑے رتبہ کے صحابی اور مرتبہ میں آپؓ سے کم نہ تھے، جب عراق کی گورنری کے زمانہ میں ان سے ملے تو قدیم تعلقات کی بنا پر ان سے چمٹ گئے، انہوں نے کہا ”دور رہو“ وہ بھائی بھائی کہہ کر لپکتے تھے اور وہ یہ کہہ کر ہٹاتے تھے کہ تم اس عہدہ کے بعد میرے بھائی نہیں رہے، اس کے بعد پھر حضرت ابو موسیٰؓ ملے تو پھر محبت کے جذبہ سے مجبور ہو کر بھائی بھائی کہہ کر دوڑے، حضرت ابو ذرؓ کا پھر وہی جواب تھا ”ابھی دور رہو“۔ اس کے بعد سوالات شروع کیے کہ تم لوگوں کے عامل بنائے گئے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں! پوچھا تم نے بڑی عمارت تو نہیں بنائی، زراعت تو نہیں کرتے، غلے تو نہیں رکھتے، انہوں نے کہا نہیں، بولے ہاں! اب تم میرے بھائی ہو۔(ابن سعد: جز 4 قسم: 1 صفحہ 869)

ایک مرتبہ ابو ذرؓ حضرت ابو درداء انصاریؓ کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ ابو درداءؓ گھر بنوا رہے ہیں، یہ دیکھ کر کہا، ابو درداء! تم لوگوں کی گردنوں پر پتھر اٹھواتے ہو اور ابو دردا رضی الله عنہ نے جواب دیا کہ نہیں، گھر بنوا رہا ہوں، ابو ذر رضی الله عنہ نے پھر وہی فقرہ دہرایا، حضرت ابو ذر رضی الله عنہ نے کہا برادر! شاید اس سے آپ کو کچھ ناگواری پیدا ہو گئی ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں تم کو اس کے بجائے تمہارے گھر کے پاخانہ میں بھی دیکھتا تو اس کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتا۔ (حلیة الاولیاء، ابو نعیم:1/163)

سادگی: اس فقیرانہ زندگی کے باعث ان کی زندگی بالکل سادہ تھی اور ان چند چیزوں کے علاوہ، جو ایک جان دار کی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں، کبھی کوئی ساز وسامان نہیں رکھا، ابو مروان نے ان کو ایک پشمینہ کی چادر باندھے نماز پڑھتے دیکھا تو پوچھا کہ ابو ذر! کیا اس چادر کے علاوہ تمہارے پاس اورکوئی کپڑا نہیں؟ فرمایا اگر اور کوئی کپڑا ہوتا تو میرے پاس دیکھتے۔ انہوں نے کہا کچھ دن ہوئے تمہارے پاس دو کپڑے تھے، فرمایا ہاں، مگر وہ دونوں اپنے سے زیادہ حاجت مند کو دے دیے، انہوں نے کہا تم کو خود اس کی حاجت تھی، فرمایا خدا تم کو معاف کرے، تم دنیا کو بڑھانا چاہتے ہو، تم کو نظر نہیں آتا کہ ایک چادر میں باندھے ہوئے ہوں، دوسری مسجد کے لیے ہے، میرے پاس کچھ بکریاں ہیں، جن کا دودھ پیتا ہوں، کچھ خچر ہیں، جو باربرداری کے کام آتے ہیں، ایک خادم کھانا پکا کر کھلا دیتا ہے، اس سے زیادہ اور کیا نعمتیں درکار ہیں؟! (ابن سعد: جزو 4 قسم 1 صفحہ 173)

عبداللہ بن خراش کا بیان ہے کہ میں نے ربذہ میں حضرت ابو ذرؓ کو دیکھا وہ سایہ میں ایک صوفہ کے نمدے پر بیٹھے تھے، ان کی بیوی بڑی سیاہ فام تھیں، ان سے ایک شخص نے کہا کہ آپ کی کوئی اولاد زندہ نہیں رہی، انہوں نے جواب دیا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے اس دارالفنا میں اولاد کو لے کر، دارالبقا میں اس کو ذخیرہ آخرت بنایا، لوگوں نے کہا کہ کاش! آپ کوئی دوسری بیوی کر لیتے، انہوں نے جواب دیا کہ ایسی عورت سے شادی کرنا مجھے زیادہ پسند ہے جو مجھ میں تواضع پیدا کرے، بہ نسبت اس کے کہ جو مجھ میں ترفع پیدا کرے۔ (حلیة الاولیاء: ابو نعیم: جلد 1 صفحہ 163)

صفحہ 5 از 8