سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 4 از 8

وفات: حضرت ابو ذرؓ کی وفات کا واقعہ بھی نہایت حسرت انگیز ہے۔ 31ھ میں ربذہ کے ویرانہ میں وفات پائی، ان کی حرم محترم وفات کے حالات بیان کرتی ہیں کہ جب ابو ذرؓ کی حالت زیادہ خراب ہوئی تو میں رونے لگی، پوچھا کیوں روتی ہو میں نے کہا کہ تم ایک صحرا میں سفر آخرت کر رہے ہو، یہاں میرے اور تمہارے استعمالی کپڑوں کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے جو تمہارے کفن کے کام آئے، فرمایا رونا موقوف کرو، میں تم کو ایک خوش خبری سناتا ہوں، میں نے آں حضرتﷺ سے سنا ہے کہ جس مسلمان کے دو یا تین لڑکے مر چکے ہوں وہ آگ سے بچانے کے لیے کافی ہیں، آپ نے چند آدمیوں کے سامنے جن میں ایک میں بھی تھا، یہ فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص صحرا میں مرے گا اور اس کی موت کے وقت وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچ جائے گی، میرے علاوہ ان میں سب آبادی میں مر چکے ہیں، اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں، اس لیے وہ شخص یقیناً میں ہی ہوں اور بحلف کہتا ہوں کہ نہ میں نے تم سے جھوٹ بیان کیا ہے اور نہ کہنے والے نے جھوٹ کہا ہے، اس لیے گزر گاہ پر جا کر دیکھو، یہ غیبی امداد ضرور آتی ہو گی۔ میں نے کہا اب تو حجاج بھی واپس جا چکے اور راستہ بند ہو چکا، فرمایا! نہیں جا کر دیکھو، چنانچہ میں ایک طرف دوڑ کر ٹیلے پر چڑھ کر دیکھنے جاتی تھی اور دوسری طرف بھاگ کر ان کی تیمار داری کرتی تھی، اس دوڑ دھوپ اور تلاش و انتظار کا سلسلہ جاری تھا کہ دور سے کچھ سوار آتے دکھائی دیے، میں نے اشارہ کیا وہ لوگ نہایت تیزی سے آ کر میر ے پاس ٹھہر گئے اور ابو ذرؓ کے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے، میں نے کہا ابو ذرؓ، پوچھا آنحضرتﷺ کے صحابی ہیں؟ میں نے کہا ہاں! وہ لوگ فدیتہ بابی وامی کہہ کر ابو ذرؓ کے پاس گئے۔ پہلے ابو ذرؓ نے آنحضرتﷺ کی پیشن گوئی سنائی، پھر وصیت کی کہ اگر میری بیوی یا میرے پاس کفن بھر کا کپڑا نکلے تو اس کپڑے میں مجھ کو کفنانا اور قسم دلائی کہ تم میں سے جو شخص حکومت کا ادنیٰ عہدہ دار بھی ہو، وہ مجھ کو نہ کفنائے، اتفاق سے ایک انصاری نوجوان کے علاوہ ان میں سے ہر شخص کسی نہ کسی خدمت پر مامور رہ چکا تھا، چنانچہ انصاری نے کہا کہ چچا میرے پاس ایک چادر ہے، اس کے علاوہ دو کپڑے اور ہیں جو خاص میری والدہ کے ہاتھ کے کتے ہوئے ہیں، ان ہی میں آپ کو کفناؤں گا، فرمایا ہاں تم ہی کفنانا۔

(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 345، و مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 166)

اس وصیت کے بعد وفات پائی، متعدد روایتوں کے باہم ملانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ یمنی تھے اور کوفہ سے آرہے تھے، ان ہی کے ساتھ مشہور صحابی عبداللہ بن مسعودؓ بھی تھے، جو عراق جا رہے تھے، بہرحال اس انصاری نوجوان نے ان کو کفنایا اور عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ (مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 346)

حلیہ: قد دراز، رنگ سیاہی مائل، داڑھی گھنی، سر اور داڑھی دونوں کے بال سفید۔

(ابن سعد: جز 4 قسم اول صفحہ 169)

ترکہ: فقیروں کے کلبہ احزان میں کیا تھا، صرف تین گدھے، دو مادہ اور ایک نر، چند بکریاں، کچھ سواریاں، یہ ساری کائنات تھی۔

فضل و کمال: حضرت ابو ذرؓ خدمت نبوی کے بڑے حاضر باش تھے، ہر وقت آپﷺ کی خدمت میں رہتے اور آپﷺ سے استفادہ اور تحصیل علم میں بڑے حریص تھے اور ہر چیز کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے، چنانچہ تمام اصول و فروع، ایمان اور احسان، رویت باری، خدا کے نزدیک پسندیدہ کلمات، لیلۃ القدر وغیرہ ہر چیز، حتیٰ کہ نماز میں کنکری چھونے تک کے بارہ میں پوچھا۔ (حلیۃالاولیاء ابو نعیم: صفحہ 169)

اسی ذوق و شوق اور تلاش و جستجو نے آپ کو علم کا دریا بنا دیا تھا، حضرت علیؓ جو علم و عمل کے مجمع البحرین تھے، فرماتے تھے کہ ”ابوذر (رضی الله عنہ) نے اتنا علم محفوظ کر لیا ہے کہ لوگ اس کے حاصل کرنے سے عاجز تھے اور اس تھیلی کو اس طرح سے بند کر دیا کہ اس میں کچھ بھی کم نہ ہوا۔ (استیعاب: جلد 2 صفحہ 665، وتذکرۃالحفاظ ترجمہ: ابو ذرؓ)

حضرت عمرؓ جیسے صاحب کمال حضرت ابو ذرؓ کو علم میں عبداللہ بن مسعودؓ کے برابر سمجھتے تھے۔ ( تذکرہ الحفاظ: جلد 1 صفحہ 15)

جو اپنی وسعت علم کے لحاظ سے حبر الامۃ کہلاتے تھے۔

حدیث: کلام حبیب ہونے کی حیثیت سے قدرتاً حضرت ابوذرؓ کو حدیث سے خاص ذوق تھا، آپؓ کی مرویات کی تعداد 281 ہے، ان میں 12 متفق علیہ ہیں اور 2 میں بخاری اور 7 میں مسلم منفرد ہیں۔ (تہذیب الکمال: صفحہ 449)

یہ تعداد حضرت ابو ہریرہؓ وغیرہ کی مرویات کے مقابلہ میں بہت کم ہے، اس کا بڑا سبب یہ تھا کہ حضرت ابو ذرؓ خاموش، تنہائی پسند اور کم آمیز تھے، اس لیے ان کے علم کی اشاعت نہ ہو سکی، ورنہ صحابہ میں انس بن مالکؓ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ ان سے استفادہ کرتے تھے، عام روات میں خالد بن وہبان، زید بن وہب جہنی، خرشہ بن حر، جبیر بن احنف بن قیس، عبداللہ بن صامت، زید بن ذبیان، عبداللہ بن شقیق، عمرو بن میمونہ، عبداللہ بن غنم، قیس بن عباد، مرثد بن مالک بن زبید رضی اللہ عنہم وغیرہم نے ان سے روایتیں کی ہیں۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 90)

افتا میں صداقت: آنحضرتﷺ کے بعد مدینہ میں جو جماعت صاحب علم و افتا تھی، اس میں ان کا نام نامی بھی تھا۔ (اعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 113)

صفحہ 4 از 8