سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 3 از 8

عہد عثمانی: اسلام کی اصل سادگی شیخین رضی اللہ عنہما کے عہد تک قائم رہی، پھر جب فتوحات کی کثرت کے ساتھ مال ودولت کی فراوانی ہوئی تو قدرتاً سادگی کی جگہ تمدنی تکلفات شروع ہو گئے، چنانچہ عہد عثمانی میں ہی امراء میں شاہانہ شان و شوکت کی ابتداء ہو چکی تھی، ان کا اثر عام مسلمانوں پر بھی پڑا اور ان میں عہد نبوت کی سادگی کے بجائے عیش و تنعم کے تکلفات پیدا ہونے لگے، شام میں رومیوں کے اثر نے ان کو اور زیادہ فروغ دیا، دولت و ثروت نے خزانوں کی صورت اختیار کی، جگہ جگہ قصر و ایوان بننے لگے، زرق برق پوشاکیں پہنی جانے لگیں، حضرت ابو ذرؓ لوگوں میں وہی عہد نبوت کی سادگی چاہتے تھے اور اپنی طرح سب کے دلوں کو مال و دولت کی محبت سے خالی دیکھنا چاہتے تھے، ان کے متوکلانہ مذہب میں کل کے لیے آج اٹھا رکھنا جائز نہ تھا، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مسلمان کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو بھوکا اور ننگا دیکھ کر بھی اپنے لیے دولت کا خزانہ جمع کرے حضرت امیر معاویہؓ وغیرہ امرائے شام یہ سمجھتے تھے کہ خدا نے اہل دولت پر زکوٰة کا جو فرض عائد کیا ہے، اس کو ادا کرنے کے بعد دولت جمع کرنے کا مسلمانوں کو اختیار ہے، اس اختلاف رائے نے بڑھتے بڑھتے نزاع کی صورت اختیار کر لی، حضرت ابو ذرؓ نہایت بے باکی کے ساتھ ان امراء پر اعتراض کرتے تھے اور ان کے طمطراق، دولت و حشمت اور ساز و سامان پر نکتہ چینیاں کرتے تھے اور ان کے زائد از ضرورت دولت جمع کر لینے پر ان کو قرآن پاک کی اس آیت کا مورد ٹھہراتے: 

 وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞(سورۃ التوبة آیت 34)

ترجمہ: اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

اس آیت پاک سے پہلے یہود و نصاریٰ کا ذکر ہے، حضرت امیر معاویہؓ کہتے تھے کہ اس آیت کا تعلق بھی ان ہی لوگوں سے ہے، حضرت ابو ذرؓ اس کو مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں سے متعلق سمجھتے تھے، دوسرا اختلاف یہ تھا کہ حضرت ابو ذرؓ خدا کی راہ میں نہ دینے کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا کل مال راہِ خدا میں نہیں دیتے اور امیر معاویہؓ وغیرہ کا خیال تھا کہ وہ حکم صرف زکوٰة کے متعلق ہے، بہرحال حضرت ابو ذرؓ نے اپنے خیال کے مطابق بڑی سختی سے طعن و تشنیع شروع کر دی، حضرت امیر معاویہؓ کو خیال پیدا ہوا کہ اگر یہ جذبہ یوں ہی بڑھتا رہا تو عجب نہیں کہ شام میں کوئی فتنہ اٹھ کھڑا ہو، اس لیے انہوں نے حضرت عثمانؓ کو اس صورت حال کی اطلاع دی اور کہلا بھیجا کہ ان کو مدینہ بلا لیا جائے، حضرت عثمانؓ نے ان کو مدینہ بلا لیا اور ایک دن ان کے سامنے حضرت کعبؒ سے پوچھا کہ اس شخص کے بارہ میں آپ کا کیا خیال ہے جو مال جمع کرتا ہے، لیکن اس کی زکوٰة بھی دیتا ہے، اس کو خدا کی راہ میں بھی خرچ کرتا ہے۔

کعبؒ نے کہا ایسے شخص کے بارہ میں مجھ کو بھلائی کی امید ہے، یہ سن کر ابو ذرؓ بگڑ گئے اور کعبؒ پر ڈنڈا اٹھا کر بولے یہودی عورت کے بچے! تو اس کو کیا سمجھ سکتا ہے؟ قیامت کے دن ایسے شخص کے قلب تک کو بچھو ڈسیں گے۔(حلیة الاولیاء: ابونعیم: جلد 1 صفحہ 160)

اس لیے حضرت عثمان غنیؓ نے آخر میں مجبور ہو کر حضرت ابو ذرؓ سے کہا کہ آپ میرے پاس رہیے، دودھ والی اونٹنیاں صبح شام دروازہ پر حاضر کی جائیں گی، لیکن اس بےنیاز نے جواب دیا کہ مجھ کو تمہاری دنیا کی مطلق ضرورت نہیں۔ یہ کہہ کر واپس چلے آئے۔

ربذہ کا قیام: لیکن اب مدینہ بھی پہلا مدینہ باقی نہیں رہ گیا تھا، لوگ آ آ کر حضرت ابو ذرؓ کو تعجب سے دیکھتے تھے، جہاں وہ جاتے ہر جگہ ہجوم ہو جاتا، اس سے حضرت ابو ذرؓ کو تکلیف ہوتی، مکہ کے قریب ربذہ نامی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا یا انہوں نے خود ربذہ میں قیام کرنے کی خواہش کی۔ (ابن سعد: جلد 4 ق 1 صفحہ 167،166)

بہرحال اپنی بیوی کو لے کر ربذہ چلے گئے، یہاں کے لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بنو ثعلبہ کے شیخ اور اس کی بیوی نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے نہلایا، عراقیوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے آ کر عرض کیا کہ اس شخص(عثمانؓ) نے آپ کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے، اگر آپؓ اس کے خلاف علم بلند کریں تو ہم لوگ آپ کی حمایت پر تیار ہیں، حضرت ابوذرؓ نے فرمایا کہ مسلمانو! اس معاملہ میں تم دخل نہ دو، اپنے حاکم کو ذلیل نہ کرو، کیوں کہ جس نے اپنے حاکم کو ذلیل کیا اس کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی، اگر عثمان (رضی اللہ عنہ) مجھ کو سولی پر بھی چڑھا دیتے تو مجھ کو عذر نہ ہوتا اور میں اسی میں اپنی بھلائی سمجھتا، اگر وہ ربذہ کے بجائے ایک اُفق سے دوسرے اُفق یا مشرق سے مغرب میں بھیج دیتے تب بھی میں سر تسلیم خم کر دیتا اور میں اپنی اچھائی سمجھتا اور اگر وہ کہیں نہ بھیجتے اور مجھ کو میری قیام گاہ ہی میں لوٹا دیتے تو بھی مجھ کو کوئی عذر نہ ہوتا اور اس میں بھی میں اپنی سعادت سمجھتا۔ (طبقات: جز 4 قسم 1 صفحہ 167)

صفحہ 3 از 8