سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 2 از 8

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اپنے وطن سے اپنے بھائی اُنیسؓ اور والدہ کو لے کر اپنے ماموں کے یہاں گئے، کچھ دنوں کے بعد ان سے خفا ہو کر چلے گئے، اتفاق سے ایک مرتبہ اُنیسؓ کسی ضرورت سے مکہ گئے، وہاں سے لوٹ کر ابو ذرؓ سے آنحضرتﷺ کے واقعات بیان کیے، آپﷺ کے اوصاف سن کر وہ خود تحقیقات کے لیے مکہ پہنچے اور ایک شخص سے آپﷺ کا پتہ پوچھا، پوچھتے ہی ہر طرف سے مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے بےدم کر دیا، لیکن یہ نہ ہٹے، تیسرے دن آنحضرتﷺ سے ملاقات ہوئی، وہ ان کو اپنے ساتھ لے گئے اور یہ مشرف باسلام ہوئے، ہم نے جو صورت واقعہ نقل کی ہے وہ چوں کہ بخاری، مسلم اور مستدرک تینوں میں ہے، اس لیے اس کو ترجیح دی۔

مراجعت وطن: کچھ دن مکہ میں قیام کے بعد آنحضرتﷺ نے ان کو ان کے گھر واپس کر دیا اور فرمایا کہ عنقریب یثرب ہجرت کرنے والا ہوں، اس لیے بہتر یہ ہے کہ تم اپنی قوم میں جا کر اسلام کی تبلیغ کرو، شاید خدا ان کو فائدہ بخشے اور اس صلہ میں تمہیں بھی اجر ملے، انہوں نے آپﷺ کے حسبِ ارشاد روانگی کی تیاری شروع کر دی اور وطن کا سفر کرنے سے قبل اپنے بھائی اُنیسؓ سے ملے، انہوں نے پوچھا کیا کر کے آئے؟ جواب دیا اعتراف صداقت کر کے اسلام کا حلقہ بگوش ہو گیا ہوں، سن کر وہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے، اس کے بعد دونوں وطن پہنچے اور دعوتِ حق میں اپنا وقت صرف کرنے لگے، آدھا قبیلہ تو اسی وقت مسلمان ہو گیا اور آدھا ہجرت کے بعد مسلمان ہوا۔

(صحیح مسلم: فضائل ابی ذرؓ و مسند احمدبن حنبل: جلد 5 صفحہ 174)

ہجرت مواخات: آنحضرتﷺ کی مدینہ کی تشریف آوری کے بعد بھی عرصہ تک حضرت ابو ذرؓ بنی غفار میں رہے اور بدر، احد، خندق وغیرہ کے غزوات ہونے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ آئے، اسی بنا پر مواخاة میں اختلاف ہے، محمد بن اسحق راوی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ابو ذر اور منذر بن عمرو رضی اللہ عنہما کے درمیان مواخاة کرائی تھی، لیکن واقدی کا قول ہے کہ ابو ذرؓ آیت میراث کے نزول کے بعد مدینہ آئے اور اس آیت کے بعد مواخاة کا طریقہ باقی نہ رہا تھا۔ (ابن سعد: جزو 4 ق 1 صفحہ: 166)

مدینہ کا قیام: مدینہ کے قیام میں ان کا سارا وقت آنحضرتﷺ کی خدمت میں گزرتا تھا اور ان کا محبوب مشغلہ آنحضرتﷺ کی خدمت تھی، خود کہتے ہیں کہ میں پہلے آنحضرتﷺ کی خدمت کرتا تھا، اس سے فراغت کے بعد پھر آ کر مسجد میں آرام کرتا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد 5 صفحہ 174)

چوں کہ ہجرت کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، اس لیے مہاجرین زیادہ تر اسی میں مشغول رہتے تھے، حضرت ابو ذرؓ کی غزوات میں شرکت کی تفصیل نہیں ملی، صرف غروۂ تبوک کی شرکت کا پتہ چلتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ تبوک کے لیے نکلے تو بہت سے لوگ بچھڑنے لگے (کیوں کہ یہ قحط سالی کا زمانہ تھا) جب کوئی شخص بچھڑتا تو لوگ آنحضرتﷺ کو بتاتے کہ یا رسول اللہﷺ! فلاں شخص نہیں آیا۔ آپﷺ فرماتے جانے دو، اگر اس کی نیت اچھی ہے تو عنقریب خدا اس کو تم سے ملا دے گا، ورنہ خدا نے اس کو تم سے چھڑا کر اس کی طرف سے راحت دے دی، یہاں تک کہ حضرت ابو ذرؓ کا نام لیا گیا کہ وہ بھی بچھڑ گئے۔

واقعہ یہ تھا کہ ان کا اونٹ سست ہو گیا تھا، اس کو پہلے چلانے کی کوشش کی، جب نہ چلا تو اس پر سے سازو سامان اتار کر پیٹھ پر لادا اور پا پیادہ آنحضرتﷺ کے عقب سے روانہ ہو گئے اور اگلی منزل پر جا کر مل گئے، ایک شخص نے دور سے آتا دیکھ کر کہا یا رسول اللہﷺ! وہ راستہ پر کوئی شخص آرہا ہے، آپﷺ نے فرمایا، ابو ذر ہوں گے۔ لوگوں نے بغور دیکھ کر پہچانا اور عرض کیا، یا رسول الله! خدا کی قسم ابو ذر ہیں، آپﷺ نے فرمایا، خدا ابو ذر پر رحم کرے، وہ تنہا چلتے ہیں، تنہا مریں گے اور قیامت کے دن تنہا اُٹھیں گے۔

(مستدرک حاکم: جلد 3 تذکرہ ابو ذر غفاریؓ)

آنحضرتﷺ کی دوسری پیشن گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی، آئندہ واقعات میں اس کی تفصیل آئے گی، اس واقعہ سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ قحط کے زمانے میں بھی جب بہتوں کے ارادے متزلزل ہو گئے پیچھے نہ ہٹے اور اپنا سامان پیٹھ پر لاد کر پاپیادہ میدان جہاد میں پہنچے تو ان غزوات میں جن میں اس قسم کی دشواریاں نہ تھیں، یقیناً شریک ہوئے ہوں گے پھر وہ آنحضرتﷺ کے خدام میں تھے، اس لیے ان لڑائیوں میں جن میں حضرت ابوذرؓ نے بہ نفس نفیس شرکت فرمائی ہو گی، ان میں حضرت ابو ذرؓ بھی یقیناً ہم رکاب رہے ہوں گے، خصوصاً جب کہ یہ معلوم ہے کہ ان کو جہاد کے ساتھ غیر معمولی شغف تھا۔ (تذکرہ الحفاظ: جلد 1 صفحہ 15)

اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ جب تمام مسلمانوں کی تلواریں اپنے جوہر دکھا رہی ہوں، اس وقت ان کی تلوار نیام میں رہی ہو، فتح مکہ کے بعد جب اسلامی افواج کا مظاہرہ ہو رہا تھا، تو سب سے آگے ان ہی کے قبیلہ کا پرچم تھا۔

عہد شیخین: حضرت ابو ذرؓ فطرتاً فقیر منش، زہد پیشہ، تارک الدنیا اور عزلت پسند تھے، اسی لیے آنحضرتﷺ نے ان کو ”مسیح الاسلام“ کا لقب دیا تھا، آنحضرتﷺ کے بعد انہوں نے دنیا سے ہی قطع تعلق کر لیا، لیکن قیام دیار محبوب ہی میں رہا، وفات نبویﷺ سے دل ٹوٹ چکا تھا، اس لیے عہد صدیقیؓ میں کسی چیز میں کوئی حصہ نہیں لیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات نے اور بھی شکستہ خاطر کر دیا، گلشن مدینہ ویرانہ نظر آنے لگا، اس لیے مدینہ چھوڑ کر شام کی غربت اختیار کر لی۔ (استیعاب: جلد 1 صفحہ 83)

صفحہ 2 از 8