Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کا استدلال

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

جب قرآن و حدیث اور کتبِ شیعہ پیٹنے اور سینہ کوبی کو حرام قرار دیتے ہیں اور شیعہ کو اس کے جواز کی کوئی دلیل نہیں ملتی تو بقول الْغَرِيقُ يَتَشَبَّتُ بِالْحَشِيشِ (ڈوبتے کو تنکے کا سہارا) وہ عجیب مضحکہ خیز دلائل پیش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ایک یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو جب بشارت فرزند کی گئی:

فَضَکَّتْ وَجْهَهَا 

ترجمہ: اس نے منہ پر ہاتھ رسید کیا۔ 

اس سے پیٹنے پر استدلال کیا جاتا ہے کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ فرزند پیدا ہونے کی بشارت ملنے پر لوگ خوشی کیا کرتے ہیں یا ماتم؟ دوسری جگہ بیوی صاحبہ کے ہنسنے کا بھی ذکر ہے اس سے معلوم ہوا کہ ماتم کا ایک طریق ہنسنا کودنا بھی ہے۔

آفریں باد بریں عقل و بریں دانش تو

سب لوگ جانتے ہیں کہ عورتوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ بات کرنے لگتی ہیں منہ پر ہاتھ رکھ لیتی ہیں، اسی طریق کے مطابق بیوی صاحبہ نے منہ پر ہاتھ رکھا حالانکہ آپ کو اس بشارت کے ملنے سے کی مسرت تھی اور وہی قلبی مسرت ان کے ہننے کا باعث ہوئی لیکن خوش فہمی قابلِ داد ہے کہ اس سے جوازِ ماتم پر استدلال کیا جاتا ہے