سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 9 از 11

’’دنیا کے غموں میں ہی، اس کی فکروں میں ہی گتھ جانے والے کے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پریشانیاں ڈال دے گا اور اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور دنیا اتنی ہی ملے گی جتنی مقدر میں ہے اور جو اپنے دل کا مرکز آخرت کو بنالے گا اور اپنی نیت وہی رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہر کام میں اطمینان نصیب فرما دے گا، اس کے دل کو مالدار کر دے گا، اور دنیا اس کے قدموں کی ٹھوکروں میں آیا کرے گی۔‘‘

فرمان الہٰی ’’وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی‘‘ کا مطلب ہے دنیا و آخرت کا بہترین انجام جنت متقیوں کے لیے ہے۔

(ففروا إلی اللہ لأبی ذر القلمونی: صفحہ 62 نقلا عن تفسیر ابن کثیر)

وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: اِضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم عَلَی حَصِیْرٍ، فَأَثَّرَہُ فِیْ جَنْبِہِ فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ عَنْہُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَ لَا آذَنْتَنَا فَبَسَطْنَا شَیْئًا یَقِیْکَ مِنْہُ فَتَنَامُ عَلْیِہ فَقَالَ: مَالِیْ وَ لِلدُّنْیَا، مَا أَنَا وَ الدُّنْیَا إِلَّا کَرَاکِبٍ سَارَ فِیْ یَوْمٍ صَائِفٍ فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ تَرَکَہَا۔

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2377، علامہ البانی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، صحیح الجامع: حدیث نمبر 5668)

’’عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) ایک چٹائی پر سوئے جس سے آپﷺ کے پہلو میں(چٹائی کے) نشان پڑ گئے، جب آپﷺ بیدار ہوئے تو میں اس پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیوں نہیں خبر دی ہم کوئی چیز بچھا دیتے، جو نشان نہ پڑنے دیتی اور آپﷺ سوتے، آپﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کچھ مطلب نہیں، میری اور دنیا کی مثال ایک مسافر کی ہے جو کسی گرم دن میں سفر کرتے ہوئے کسی درخت کے نیچے قیلولہ کرتا ہے پھر اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے والے تھے، چنانچہ وہ سب بھی دنیا سے حد درجہ بے رغبت، اور آخرت کا حد درجہ خیال رکھنے والے تھے، ان کی نگاہوں میں دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی چیز تھی، دنیا سے اتنا ہی لیا جتنا ایک مسافر زاد سفر لیتا ہے، ان کے دل و نگاہ میں صرف آخرت کا تصور رہتا تھا، انھیں معلوم تھا کہ اس چند روزہ دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے اس کے لیے انھوں نے بہت کم مشقت اٹھائی، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہوا، اللہ کی محبوب چیزیں انھیں پسند اور اس کی مبغوض چیزیں ناپسند تھیں۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تابعین سے کہا: تمھارے اعمال صحابہ کرامؓ سے زیادہ ہیں، لیکن وہ تم سے بہتر تھے، وہ دنیا سے حد درجہ بے رغبت اور آخرت سے سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے تھے، چنانچہ بعض تابعین صحابہ سے زیادہ تہجد گزار، روزے دار اور عبادت گزار تھے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان پر سبقت حاصل ہے، اس لیے کہ ان میں زہد، یقین اور اللہ پر توکل زیادہ تھا، بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہد کو سیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دو مہینوں کی مدت میں تین چاند گزر جاتے تھے، اور آپ کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6567، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2972)

و: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول

فإن المومن یتزود و الکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ) (سورۃ البقرۃ آیت 197)

’’مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے۔)‘‘

اس آیت میں تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اس کی اطاعت کی جائے اور ثواب کی امید کی جائے، اسی کے بتانے کے مطابق اس کی معصیت سے بچا جائے اور اس کے عذاب سے ڈرا جائے، بندے سے مطلوب یہ ہے کہ اس کا صرف اللہ تعالیٰ سے قلبی لگاؤ ہو، اسی سے محبت کرے، اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرے، منجانب اللہ متقیوں کے لیے مقرر کردہ نعمتوں کی چاہت رکھے، اس کی ناراضی، سزا اور عذاب سے ڈرتا رہے، تقویٰ کے بہت سارے اچھے نتائج ہیں، جن کی ہر مسلمان کو ضرورت ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ ہر پریشانی سے چھٹکارا اور بے سان و گمان جگہ سے روزی، فرمان الہٰی ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا ۞وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌۞ (سورۃ الطلاق آیت 2، 3)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔

2۔ علم نافع عطا کرنا، فرمان الہٰی ہے:

(وَاتَّقُوا اللّٰـهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ) (البقرۃ:۲۸۲)

’’اور اللہ سے ڈرو، اللہ تعالیٰ تمھیں تعلیم دے رہا ہے۔‘‘

3۔ نورِ بصیرت عطا کرنا، فرمان الہٰی ہے:

 اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا ۞ (سورۃ الأنفال آیت 29)

ترجمہ: اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کردے گا۔

4۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کی محبت اور روئے زمین میں قبولیت، فرمان الہٰی ہے:

بَلٰى مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞(سورۃ آل عمران آیت 76)

ترجمہ: بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ قَالَ لِجِبْرِیْلَ، قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّہُ، فَیُحِّبُّہُ جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، ثُمَّ یُنَادِیْ فِیْ أَہْلِ السَّمَائِ إِنَّ اللّٰہَ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوْہُ فَیَحِبُّہُ أَہْلُ السَّمَائِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہُ الْقُبُوْلُ فِی الْاَرْضِ۔

صفحہ 9 از 11