سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 8 از 11

’’تین چیزیں میت کے پیچھے جاتی ہیں، دو واپس آجاتی ہیں ایک اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہے، اس کے گھر والے، ا س کا مال (غلام، نوکر چاکر) اور اس کا عمل، پھر اس کے گھر والے اور اس کا مال (نوکرچاکر) واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ ہی باقی رہ جاتا ہے۔‘‘

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَہْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَ تَبْقٰی مَعَہُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1047)

’’انسان بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے تب بھی اس کے ساتھ دو چیزیں رہ جاتی ہیں، حرص اور آرزو۔‘‘

احنف بن قیس رحمۃاللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا: یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا: میرا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ تمھارا ہوگا جب تم اسے ثواب کے لیے یا شکر ادا کرنے کے لیے خرچ کر دو گے، پھر شاعر کا یہ شعر پڑھ کر سنایا:

أنت للمال إذا أمسکتہ فإذا أنفقتہ فالمال لک

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 10)

’’تم مال کے ہوتے ہو جب تک تم اسے بچاتے رہتے ہو، جب اسے خرچ کردیتے ہو تو وہ مال تمھارا ہو جاتا ہے۔‘‘

فرمان الہٰی ہے

ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ ۞  (سورۃ التکاثر آیت 8)

ترجمہ: پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا) 

یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں تندرستی، امن اور رزق وغیرہ کی جو نعمتیں دی ہیں ان کے شکریہ کے بارے میں تم سے اس دن ضرور سوال ہوگا۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 10)

فرمان الہٰی ہے

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ۞ وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞ (سورۃ طه آیت 131، 132)

ترجمہ: اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔ اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو ، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے رزق تو ہم تمہیں دیں گے اور بہتر انجام تقویٰ ہی کا ہے۔

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں

’’ان کفار کی دنیوی زینت اور ان کی ٹیپ ٹاپ کو تو حسرت بھری نگاہوں سے نہ تک، یہ تو ذرا سی دیر کی چیزیں ہیں، یہ صرف ان کی آزمائش کے لیے انھیں یہاں ملی ہیں کہ دیکھیں شکر و تواضع کرتے ہیں یا ناشکری اور تکبر کرتے ہیں، حقیقتاً شکر گزاروں کی کمی ہے، ان کے مالداروں کو جو کچھ ملا ہے اس سے تجھے تو بہت ہی بہتر نعمت ملی ہے۔‘‘

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود قدرت اور دسترس کے دنیا سے نہایت ہی بے رغبت تھے، جو ہاتھ لگتا اسے فی سبیل اللہ تقسیم کر دیتے، اور اپنے لیے کچھ بھی محفوظ نہ رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ مَا یَفْتَحُ اللّٰہُ لَکُمْ مِنْ زَہْرَۃِ الدُّنْیَا قَالُوْا: وَ مَا زَہْرَۃُ الدُّنْیَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: بَرَکَاتُ الْاَرْضِ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6427)

’’مجھے تو تم پر سب سے زیادہ خوف اس وقت کا ہے جب اللہ تعالیٰ تمھارے قدموں میں دنیا کی آرائش کے سامان ڈال دے گا، لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے رسول! دنیا کی آرائش کے سامان کیا ہیں؟آپﷺ نے فرمایا: زمین کی برکتیں۔‘‘

قتادہ و سدی کا قول ہے کہ زہرۃ الحیاۃ سے مراد دنیاوی زندگی کی زینت ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ ’’لنفتنہم فیہ‘‘سے مراد ہے: ’’تاکہ ہم انھیں آزمائیں۔‘‘ فرمان الٰہی: (وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا)کا مطلب ہے اپنے گھروالوں کو نماز کی تاکید کرو تاکہ وہ عذاب الہٰی سے بچ جائیں اور خود بھی پابندی کے ساتھ اس کی ادائیگی کرو، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:

قُوْٓا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا(سورۃ التحریم آیت 6)

ترجمہ: اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم سے بچا لو۔

فرمان الہی: (لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ)کا مطلب یہ ہے: نماز کی پابندی کرلو، اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے روزی پہنچائے گا جو خواب وخیال میں بھی نہ ہو گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يَجۡعَلْ لَّهٗ مَخۡرَجًا ۞وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌۞ (سورۃ الطلاق آیت 2، 3)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہو گا۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَّحْنُ نَرْزُقُكَ)

امام ثوریؒ کا قول ہے: ’’لَا نَسْأَلُکَ رِزْقًا‘‘ کا مطلب ہے ہم تمھیں طلبِ رزق کی تکلیف نہیں دیتے ہیں۔ ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

وکانت الأنبیاء إذا نزل بہم أمر فزعوا إلی الصلاۃ۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین: صفحہ 11)

’’انبیاء کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو وہ نماز کا رخ کرتے۔‘‘

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:

مَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ہَمَّہُ فَرَّقَ اللّٰہُ عَلَیْہِ أَمْرَہُ وَ جَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَ لَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا إِلَّا مَا کَتَبَ لَہُ، وَ مَنْ کَانَتِ الْآخِرَۃُ نِیَّتَہُ جَمَعَ لَہُ أَمْرَہُ وَ جَعَلَ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہِ وَ أَتَتْہُ الدُّنْیَا وَ ہِیَ رَاغِمَۃٌ۔

(سنن ابن ماجۃ: حدیث نمبر 4105، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)

صفحہ 8 از 11