سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 11

’’تم سے پہلے کچھ لوگ تھے جو زیادہ سے زیادہ مال جمع کرتے تھے، مضبوط اور پختہ عمارات بناتے تھے، ان کی آرزوئیں دراز ہوتی تھیں، ان کا جمع کردہ مال تباہ ہوگیا، ان کے اعمال برباد ہوگئے، ان کی عمارات قبروں میں تبدیل ہوگئیں، اے ابن آدم! تیرے پیدا ہونے کے بعد ہی سے تیری عمر گھٹ رہی ہے، اس لیے جو کچھ تیرے پاس ہے آخرت کے لیے خرچ کر، بلاشبہ مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے)‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کا حال بیان کر رہے ہیں، جو دنیا اور اس کی زینت میں ڈوبے ہوئے تھے، مال جمع کرنے اور عمارات بنانے میں مشغول تھے، طولِ امل کی بیماری میں مبتلا تھے، یہی اکثر لوگوں کا حال ہے، موت اچانک آ جاتی ہے، وہ اپنے جمع کردہ مال سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے، ان کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، ان کی عمارات خالی ہو جاتی ہیں۔

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ لوگوں کو دنیا کے اس دھوکے سے آگاہ کر رہے ہیں، دنیا سے بے رغبتی پر آمادہ کر رہے ہیں، دنیا و آخرت کے مابین تفاوت پر یقین کرکے ہی زہد حاصل ہوتا ہے، فرمان الہٰی ہے:

قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ (سورۃ النساء آیت 77)

ترجمہ: کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے اور جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لیے آخرت کہیں زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ایک دھاگے گے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا۔

قرآن مومن کو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے اور آخرت سے تعلق قائم کرنے پر ابھارتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بتایا ہے کہ کفار دنیا کی زینت اور اس کی چمک دمک سے فریب خوردہ ہیں۔ فرمایا: 

زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُوۡنَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ۞ (سورۃ البقرة آیت 212)

ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے دنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے، اور وہ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے، اور اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے

’’جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے، ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام پر ہوں گے، رہا دنیا کا رزق، تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب دے۔‘‘

قرآن مجید نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا حقیر شے ہے، انسان کو اس میں مشغول ہو کر آخرت سے غافل نہیں ہونا چاہیے، چنانچہ فرمان الہٰی ہے:

اَلۡهٰٮكُمُ التَّكَاثُرُ۞ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ۞ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ۞ ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ۞ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ۞ لَتَرَوُنَّ الۡجَحِيۡمَ۞ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ۞ ثُمَّ لَـتُسۡئَـلُنَّ يَوۡمَئِذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ ۞ (سورۃ التكاثر آیت 1 تا 8)

ترجمہ: ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر (دنیا کا عیش) حاصل کرنے کی ہوس نے تمہیں غلفت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ تم قبرستانوں میں پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔ پھر (سن لو کہ) ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ تمہیں عنقریب سب پتہ چل جائے گا۔ہرگز نہیں! اگر تم یقینی علم کے ساتھ یہ بات جانتے ہوتے (تو ایسا نہ کرتے) یقین جانو تم دوزخ کو ضرور دیکھو گے۔ پھر یقین جانو کہ تم اسے بالکل یقین کے ساتھ دیکھ لو گے۔ پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ ان کا کیا حق ادا کیا) 

یعنی دنیا، اس کی نعمتیں اور اس کی چمک دمک نے تمھیں طلبِ آخرت سے غافل کردیا ہے، تمھاری یہی حالت باقی رہی تاآنکہ تمھاری موت آ پہنچی اور تم قبر تک جاپہنچے اور اس میں دفن کردیے گئے۔

(معنیٰ الزہد والمقالات وصفۃ الزاہدین لأبی سعید البعری: صفحہ 9)

امام احمدؒ نے عبداللہ بن شخیر کی حدیث کو روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں:

اِنْتَہَیْتُ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم وَ ہُوَ یَقُوْلُ: (ألٰہکم التکاثر) قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ: مَا لِیْ مَالِیْ، قَالَ وَہَلْ لَکَ یَا ابْنَ اٰدَمَ مِنْ مَالِکَ، إِلَّا مَا أَکَلْتَ فَأَفْنَیْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَیْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَیْتَ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2958)

’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ الٰہکم التکاثر(تمھیں زیادتی کی چاہت نے غافل کردیا) کی تلاوت کر رہے تھے، پھر آپﷺ نے فرمایا: انسان کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔

حالاں کہ اے انسان تیرا مال (ایک تو وہ ہے) جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا (دوسرا) پہن کر بوسیدہ کردیا یا (تیسرا) صدقہ کرکے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

یَقُوْلُ الْعَبْدُ: مَالِیْ مَالِیْ، وَ إِنَّ مَالَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنَی، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَی، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَی، فَمَا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ فَذَاہِبٌ وَ تَارِکْہُ لِلنَّاسِ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2959)

’’بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، جب کہ اس کا مال صرف تین ہے، جو کھا کر ختم کردیا، پہن کر بوسیدہ کردیا، صدقہ کرکے (آخرت کے لیے) آگے بھیج دیا۔ اس کے علاوہ سب مال ختم ہونے والا اور (صاحب مال) اس کو لوگوں کے لیے چھوڑ کر جانے والا ہے۔‘‘

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَتَّبِعُ الْمَیْتَ ثَلَاثَۃٌ فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَ یَبْقَی مَعَہُ وَاحِدٌ، یَتَّبِعُہُ أَہْلُہُ وَمَالُہُ وَ عَمَلُہُ فَیَرْجِعُ أَہْلُہُ وَ مَالُہُ وَیَبْقَی عَمَلُہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6514)

صفحہ 7 از 11