سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 11

اللہ تعالیٰ نے ہمیں انصاف کا حکم دیا ہے اور اس بات سے منع کیا ہے کہ کفار کا بغض و عناد ہمیں ان کے خلاف عدم انصاف پر آمادہ کردے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا‌  اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ المائدة آیت 8)

ترجمہ: اے ایمان والو! ایسے بن جاؤ کہ اللہ (کے احکام کی پابندی) کے لیے ہر وقت تیار ہو (اور) انصاف کی گواہی دینے والے ہو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم بے انصافی کرو۔ انصاف سے کام لو، یہی طریقہ تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’جب اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع کردیا کہ کفار کا بغض و عناد مومنوں کو خلاف عدل پر آمادہ کرے تو اہل ایمان میں سے کسی فاسق، بدعتی اور تاویل کرنے والے کے بغض کا معاملہ ہی دوسرا ہوگا، وہ بدرجۂ اولیٰ کسی مومن کو خلاف عدل پر آمادہ نہیں کرے گا۔‘‘

(الإستقامۃ: جلد 1 صفحہ 38)

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں:

’’یعنی کسی قوم سے بغض تمھیں ترک عدل پر آمادہ نہ کرے، ہرحال میں ہر شخص کے لیے ہر شخص پر عدل کرنا واجب ہے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 7)

فرمان الہٰی ہے:

وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡكُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا‌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 2)

ترجمہ:  اور کسی قوم کے ساتھ تمہاری یہ دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم (ان پر) زیادتی کرنے لگو 

ابوعبیدہ اور فراء کا قول ہے کہ کسی قوم کا بغض تمھیں حق چھوڑ کر باطل اختیار کرنے اور عدل چھوڑ کر ظلم کرنے پر آمادہ نہ کرے۔

(تفسیر القرطبی: جلد 6 صفحہ 45)

انسان عدل و انصاف سے متصف ہو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ یہ ان اللہ والوں کی صفت ہے جو صرف حق چاہتے ہیں۔

(الأخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 229)

ابن القیم رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

و تعر من ثوبین من یلبسہما یلق الردی بمذمۃ وہو ان

’’ایسے دو کپڑوں کو مت پہن، جنھیں جو بھی پہنتا ہے ذلیل اور رسوا ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے۔‘‘

ثوب من الجہل المرکب فوقہ ثوب التعصب بئست الثوبان

’’جہل مرکب کا کپڑا، اس پر تعصب کا کپڑا، یہ دونوں ہی کپڑے نہایت برے ہیں۔‘‘

و تحل بالإنصاف أفخر حلۃ زینت بہا الأعطاف و الکتفان

’’انصاف کا مایۂ ناز جوڑا پہن، جس سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے۔‘‘

متنبی کا قول ہے:

و لم تزل قلۃ الإنصاف قاطعۃ بین الرجال و لوکانوا ذوی رحم

’’قلت انصاف لوگوں کے تعلقات کو خراب کر دیتی ہے چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

بندوں کا انصاف یہ ہے کہ وہ اموال، معاملات، دلائل اور مقالات میں انصاف سے کام لیں، جو لوگوں کو چیزیں کم تول کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور انھیں ہلاکت و نقصان کی دھمکی دی ہے، چنانچہ فرمایا ہے:

وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ ۞ الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ يَسۡتَوۡفُوۡنَ۞ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوْ وَّزَنُوۡهُمۡ يُخۡسِرُوۡنَ۞(سورۃ المطففين آیت 1 تا 3)

ترجمہ: بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کرلیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں۔ اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کردیتے ہیں تو گھٹا کردیتے ہیں۔

یہ آیت بتا رہی ہے کہ انسان اموال و معاملات میں جس طرح دوسرے لوگوں سے اپنے حقوق کو مکمل طور پر لیتا ہے اسی طرح اس پر ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی ان کے پورے حقوق دے، بلکہ اس آیت کے عموم میں دلائل و مقالات بھی داخل ہیں، جیسے دو مناقشہ و مناظرہ کرنے والے ہوں تو عادتاً ان میں سے ہر ایک جس طرح اپنے دلائل کا حریص ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے فریق مخالف کے دلائل کو بیان کرے جنھیں وہ نہیں جانتا، نیز فریق مخالف کے دلائل پر بھی غور و فکر کرے، جیسے وہ پنے دلائل پر کرتا ہے، ایسے ہی موقع پر انسان کے انصاف اور تعصب، تواضع اور کبر، عقلمندی و بیوقوفی کا پتہ چلتا ہے۔

(تفسیر سعدی: صفحہ 915)

تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قول کیا ہی عمدہ ہے:

وَصَاحِبِ النَّاسَ بِمِثْلِ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہوکہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں تو عادل بن جاؤ گے۔

ھ: حسن رضی اللہ عنہ کا قول:

إِنَّہُ کَانَ بَیْنَ أَیْدِیْکُمْ قَوْمٌ یَجْمَعُوْنَ کَثِیْرًا وَ یَبْنُوْنَ مَشِیْدًا وَ یَأْمُلُوْنَ بَعِیْدًا، اَصْبَحَ جَمْعُہُمْ بُوْرًا، وَ عَمَلُہُمْ غَرُوْرًا وَ مَسَاکِنُہُمْ قُبُوْرًا، یَاابْنِ آدَمَ إِنَّکَ لَمْ تَزَلْ فِیْ ہَدْمِ عُمُرِکَ مَنْذُ سَقَطْتَّ مِنْ بَطْنِ أُمِّکَ، فَجُدَّ بِمَا فِیْ یَدِکَ لِمَا بَیْنَ یَدَیْکَ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ یَتَزَوَّدُ وَ الْکَافِرُ یَتَمَتَّعُ وَ تَلَا ہٰذِہِ الْآیَۃَ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

((إنہ کان بین أیدیکم قوم یجمعون کثیرا و یبنون مشیدا و یأملون بعیدا، أصبح جمعہم بورا، و عملہم غرورا و مساکنہم قبورا، یا ابن آدم إنک لم تزل فی ہدم عمرک منذ سقطت من بطن أمک، فجد بما فی یدک لما بین یدیک فإن المومن یتزود، والکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

صفحہ 6 از 11