سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 11

ہر مسلمان کو چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اعلیٰ تعلیم کا خیال رکھے، اس میں کوتاہی نہ کرے، اس کا پڑوسی پر بڑا اچھا اثر ہوتا ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے مسلم معاشرے کے افراد باہم ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں، اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔

(موسوعۃ الآداب الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 299)

حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حتیٰ الامکان پڑوسی کے لباس، دوا وغیرہ جیسی ضروریات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اس کی خوشی اور غم میں شریک ہونا، جب پڑوسی کے یہاں کوئی ایسا خوشی کا موقع ہو جس میں معصیت نہ ہو، تو اس کے یہاں جاکر اس کی خوشی میں شریک ہونا چاہیے، نیز اس کے یہاں اگر کوئی غمی کا موقع ہو تو اس کے یہاں جاکر اس کی غمی میں شریک ہونا چاہیے، اچھی باتوں سے اس کی غمخواری کرنی چاہیے، اسے ڈھارس بندھانی چاہیے، یہ سب ایک مسلمان کے حقوق ہیں جو اس کے مسلمان بھائی پر عائد ہوتے ہیں، اور پڑوسی ان حقوق کا زیادہ حقدار ہے۔

 جب گھر بیچ کر دوسری جگہ جانا چاہے تو پہلے پڑوسی سے گھر بیچنے کی بات کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ اسے خریدنا چاہے، یہی معاملہ زمین یا کسی بھی غیر منقولہ جائداد کا ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَیْعَہَا فَلْیَعْرِضْہَا عَلَی جَارِہِ۔

(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر 2493، صحیح سنن ماجہ: حدیث نمبر 2022)

’’جو اپنی کوئی زمین بیچنا چاہے تو چاہیے کہ وہ اس کے بیچنے کی بات (پہلے) اپنے پڑوسی سے کرے۔‘‘

یہ اس کی دل جوئی کی ایک اچھی شکل ہے، اس سلسلے میں اگر لوگ کوتاہی کریں گے تو باہمی عداوت، نزاع اور جھگڑوں کا دروازہ کھولیں گے۔

 اپنی دیوار میں پڑوسی کو کھونٹی گاڑنے سے منع نہ کرے، پڑوسی کو جب اس کی ضرورت ہو تو اس کو اس کی اجازت دے دے، فرمان نبویﷺ ہے:

لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَّغْرِسَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہٖ۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 2463)

’’کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں کھونٹی گاڑنے سے نہ روکے۔‘‘

پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَا لِیْ أَرَاکُمْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ وَاللّٰہِ لَأُرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔

’’کیا وجہ ہے کہ (اس فرمان نبویﷺ کے باوجود) میں تمھیں اس حکم سے منہ پھیرتے ہوئے دیکھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اس کو تمھارے کندھوں کے درمیان پھینک کے رہوں گا۔‘‘

یعنی میں اسے تمھارے درمیان ضرور بیان کروں گا چاہے وہ بات تمھیں کتنی ہی بری کیوں نہ لگے اور تمھارے لیے باعث تکلیف ہو۔

( موسوعۃ الآداب الإسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 301)

حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ پڑوسی کو جس طرح کا بھی تعاون درکار ہو دوسرے پڑوسی کو وہ تعاون کرنا چاہیے بشرطیکہ اس میں اس کا نقصان نہ ہو۔

 پڑوسی کی عزت و آبرو کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا، اس کا راز فاش کر کے، اس کی عزت کو برباد کرکے، اس کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرکے اس کی خیانت نہ کرنا، اس لیے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا:

أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ، قِیْلَ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِی حَلِیْلَۃِ جَارِکَ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 86)

’’تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کردو کہ وہ تمھارے ساتھ کھائے گی، پوچھا گیا پھر کون سا؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرو۔‘‘

بلکہ چاہیے کہ ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کی ذات، مال و دولت، عزت و آبرو کی حفاطت کرے، تاکہ اس سے اس کا پڑوسی بے خوف رہے، فرمان نبویﷺ ہے:

وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ، قِیْلَ: وَ مَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: اَلَّذِیْ لَا یَأْمَنُ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6016)

’’اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول کون؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔‘‘

یعنی اس کی غداری اور خیانت سے، 

(موسوعۃ الآداب الإسلامیہ: جلد 1 صفحہ 301)

اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنے وعظ اور تقریروں میں لوگوں کو پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور حسن جوار کی تلقین کیا کرتے تھے، آپ نے فرمایا:

وَأَحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: صفحہ 121)

’’اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا پڑوسی بن جا، مسلمان ہو جائے گا۔‘‘

د: ان کا قول

وَ صَاحِبِ النَّاسِ بِمِثْلِ مَا تُحِبُّ أَنْ یُّصَاحِبُوْکَ بِمِثْلِہِ تَکُنْ عَادِلًا۔

’’لوگوں کے ساتھ اسی طرح پیش آؤ جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمھارے ساتھ پیش آئیں، تو عادل بن جاؤ گے۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو عدل و انصاف اپنانے اور ظلم سے بچنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ عدل وانصاف ایک اچھی عادت و خصلت ہے، جو نفس مطمئنہ، وسیع نظر اور دور رس نگاہ کا پتہ دیتی ہے، اس سے اصحابِ حقوق کے حقوق پورے پورے مل جاتے ہیں، عدل پسند حضرات اور اچھی سیاست والے ان حقوق کو دلواتے ہیں۔

(الاخلاق بین الطبع و التطبع: صفحہ 228)

لوگوں کے عدل و انصاف کے بارے میں ابن القیم رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’تم لوگوں کے حقوق ادا کرو، ان سے ایسی چیزوں کا مطالبہ نہ کرو جن کے تم مستحق نہیں ہو، انھیں ان کی طاقت سے زیادہ مکلف نہ کرو، ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمھارے ساتھ کریں، اور جیسا بدلہ تم پسند کرتے ہو ویسا ہی بدلہ انھیں دو، اور اپنے مفاد میں یا اپنے خلاف جیسا فیصلہ کرتے ہو ویسا ہی فیصلہ ان کے ساتھ کرو۔‘‘

(زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 407، معمولی تصرف کے ساتھ)

عدل و انصاف دو لازم و ملزوم چیزیں ہیں، جس کا فائدہ یہ ہے کہ انسان فضائل کے حصول اور رذائل سے اجتناب کے ذریعہ سے عالی ہمت اور بری الذمہ ہوجائے۔

(التوفیق علی مہمات التعریف للمناوی: صفحہ 64)

صفحہ 5 از 11