سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 11

’’جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: اور میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ سے بحیثیت رب، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت نبی و رسول اور اسلام سے بحیثیت دین راضی ہوگیا، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘

یہ بات قابلِ غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اس دعا کو دن میں پانچ مرتبہ پیش آنے والے معاملات سے جوڑ دیا ہے تاکہ یہ دعا اور اس کا مفہوم مسلمان مردوں اور عورتوں کے ذہنوں میں رچ بس جائے۔ نیز فرمان نبویﷺ ہے:

ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وسلم رسولا۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2758)

’’جو اللہ سے بحیثیت رب، اسلام سے بحیثیت دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بحیثیت رسول راضی ہوگیا، اسے ایمان کی چاشنی مل گئی۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حدیثوں میں اللہ سے رضامندی کے اس خلقِ عظیم کو بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ خلقِ عظیم گناہوں کی مغفرت کا سبب، اور ایمان کی مٹھاس پانے کا باعث ہے، ایسا اس لیے کہ اس خلقِ عظیم سے متصف شخص کو یقین ہوتا ہے کہ اسے جو کچھ ملنا ہے مل کر رہے گا، اور جو کچھ نہیں ملنا ہے نہیں ملے گا، اس کے لیے اللہ کی تدبیر، اس کی تدبیر سے بہتر ہے، آرام ہو یا تکلیف بہرصورت وہ اس دنیا میں چین کی زندگی بسر کرتا ہے، آسانی و پریشانی ہر ایک کو منجانب اللہ سمجھتے ہوئے ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا ہے، انسان کے لیے دنیا میں ایسی زندگی سے زیادہ راحت بخش اور کون سی چیز ہوسکتی ہے؟ 

(أخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 1 صفحہ 101)

اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس خلق عظیم پر زبان حال و مقال سے ابھارتے ہوئے فرمایا:

وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ غَنِیًّا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور الابصار: 121)

’’اللہ کی مقدر کردہ چیزوں پر راضی ہوجا، مالدار ہو جائے گا۔‘‘

ج: ان کا قول:

وَ أَحْسِن جَوَارَ مَنْ جَاوَرَکَ تَکُنْ مُسْلِمًا۔

(الحسن بن علی: صفحہ 28)

’’پڑوسیوں کے ساتھ اچھا پڑوسی بن جا، مسلمان ہوجائے گا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو اچھا پڑوسی بننے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ایک پڑوسی کا دوسرے پڑوسی پر بہت بڑا حق ہے، فرمان الہٰی ہے:

وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ ۞(سورۃ النساء آیت 36)

ترجمہ: اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی، 

نیز فرمان نبوی ہے:

مَازَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّہُ سَیُوْرَثُہُ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6015)

’’مجھے جبریل ( علیہ السلام ) پڑوسی کے ساتھ برابر حسن سلوک کی تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت میں(بھی) شریک ٹھہرا دیں گے۔‘‘

اسلام میں پڑوسی کے بہت سارے حقوق و آداب ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

 کسی بھی قول و عمل سے پڑوسی کو تکلیف نہ دینا، چنانچہ فرمان نبویﷺ ہے:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہُ۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6018)

’’جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔‘‘

اس لیے انسان پر واجب ہے کہ وہ قول یا فعل یا اشارے سے پڑوسی کو تکلیف دینے سے بچے، اس کو تکلیف دینا ہر حال میں حرام ہے۔

ہمیشہ اور ہر ممکنہ صورت میں اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، جیسا کہ فرمان نبویﷺ ہے:

مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی جَارِہِ وَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَ مَنْ کَانَ یَؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا أَوْ لِیَسْکُتْ

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 48)

’’جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ کلمۂ خیر کہے یا پھر خاموش رہے۔‘‘

اسلام میں پڑوسی کی عظیم اہمیت کے پیشِ نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اور یوم آخرت پر سچے ایمان کو پڑوسی کے حسن سلوک کے ساتھ جوڑا ہے، اگر ہم اپنے معاشرے میں پڑوسیوں کے ساتھ اس تعلیم نبویﷺ پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارے معاشرے باہمی تعاون کی جیتی جاگتی مثال بن جائیں اور لوگ اچھی زندگی بسر کرنے لگیں۔

 پڑوسی کی تکلیف کو برداشت کرنا اور اس پر صبر کرنا، اس لیے کہ حسن جوار صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو تکلیف دینے سے باز رہا جائے بلکہ اس کی تکلیف کو بھی برداشت کیا جائے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی ایذا رسانی کو برداشت کرتے ہوئے اس پر صبر کرے، اس کا بدلہ احسان سے دے، اس طریقے سے وہ شیطان کا دروازہ بند کردے گا۔

 اسے کھانا کھلا کر بالخصوص جب وہ فقیر ہو اس کی غم خواری کرنا، فرمان نبویﷺ ہے:

لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَ جَارُہُ جَائِعٌ جَنْبَہُ۔

(المستدرک: جلد 4 صفحہ 167، السلسلۃ الصحیحۃ: حدیث نمبر 148)

’’ایسا شخص مومن نہیں جو پیٹ بھر کھائے اور اس کے بغل میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔‘‘

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا طَبَخَ أَحَدُکُمْ قِدْرًا فَلْیُکْثِرَ مَرَقَہَا، ثُمَّ لْیُنَاوِلْ جَارَہُ مِنْہَا۔

(مجمع الزوائد: جلد 8 صفحہ 165، صحیح الجامع للالبانی: حدیث نمبر 676)

’’جب کوئی سالن تیار کرے تو اس کا شوربہ بڑھا دے، پھر اس میں سے اپنے پڑوسی کو بھی دے۔‘‘

نیز فرمان نبویﷺ ہے:

یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَ لَوْ فِرْسَنَ شَاۃٍ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1030)

’’اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کوئی ہدیہ کم تر نہ سمجھے اگرچہ وہ (ہدیہ) بکری کا کھر ہی ہو۔‘‘

صفحہ 4 از 11