سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 11

قرآن کی مذکورہ توجہ اس بات کی دلیل ہے کہ رضا ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات و کائنات اور تشریعات میں اللہ کے قضا و قدر سے متعلق بندہ اللہ کے ساتھ حسنِ خلق سے پیش آئے اور اسے پوری خوشی، اطمینان اور شرح صدر کے ساتھ قبول کرلے، اس میں کسی طرح کی کوئی تنگ دلی نہ محسوس کرے، تدبیرِ کائنات میں اللہ کی حکمت کو جاننے کے باعث کائنات کی تدبیر، عدم و وجود سے متعلق اس کے قضا و قدر پر اعتراض نہ کرے، اور نہ ہی کتاب و سنت میں بندوں کے لیے منجانب اللہ مقرر کردہ تشریعات پر اعتراض کرے، اس لیے کہ یہی سراسر حق اور ہدایت ہے۔

مذکورہ حسنِ خلق سے متصف شخص مذکورہ باتوں کو چاہت کے ساتھ قبول کر لیتا ہے اور ان سے متعلق اللہ کے قضا و قدر پر خوش رہتا ہے، اس لیے کہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال، تدبیر اور قضا و قدر میں حکیم ہے،

اپنے بندوں پر مہربان ہے، جو کچھ ان کے لیے کرتا ہے، وہ سراسر خیر ہی ہوتا ہے، چاہے بظاہر انھیں شر معلوم ہو۔

(أخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن والسنۃ: جلد 1 صفحہ 96)

اس سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعلیٰ مثال اور بہترین نمونے تھے، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے بیان کر دیا ہے کہ نفس، مال، اولاد اور اقارب سے متعلق زندگی میں منجانب اللہ جو پریشانیاں آئیں ان پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح راضی رہے، اسی طرح مکہ، مدینہ اور طائف میں دعوت الی اللہ کے نتیجے میں اپنی ذات کو لاحق ہونے والی اذیتوں پر مکمل طور سے راضی رہے، اذیتیں اس حد تک پہنچ گئی تھیں کہ آپ کا کام تمام کردینے کی متعدد کوششیں ہوئیں، لیکن کامیاب نہ ہوئیں، آپﷺ نے ان سے صرف ان کے برے ارادے کا اعتراف کرا لیا، پھر انھیں معاف کردیا۔

قلتِ مال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی کی پوری انسانیت میں کوئی نظیر نہیں ملتی، چنانچہ آپﷺ دعا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا۔

(صحیح البخاری: الرقائق: حدیث نمبر 1055)

’’اے اللہ! محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم و جان کا رشتہ برقرار رہ سکے۔‘‘

اسی طرح نرینہ اولاد کے انتقال کے بعد، بڑھاپے میں آپ کے صاحبزادے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ماموں ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، لیکن اٹھارویں مہینے ہی میں انتقال کر جانے پر قضا و قدر سے متعلق آپﷺ کی رضامندی متزلزل نہ ہوئی، بلکہ اس پر اپنی رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:

إِنْ الْعَیْنَ تَدْمَعُ و َالْقَلْبَ یَحْزَنُ وَ لَا نَقُوْلُ إِلَّا بِمَا یَرْضٰي رَبُّنَا، وَ إِنَّا بِفِرَاقِکَ یَا إِبْرَاہِیْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2315)

’’بے شک آنکھیں اشک بار ہیں اور دل غمگین ہے، لیکن ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو راضی کردے اور اے ابراہیم ہم تیری جدائی پر یقیناً غمزدہ ہیں۔‘‘

آپﷺ کے اعزہ و اقارب آپ کے اور آپ کی دعوت کے دفاع کی راہ میں آپ کے سامنے پچھاڑے گئے، لیکن آپﷺ اس سے تنگ نہ آئے، بلکہ تاریخ میں آتا ہے کہ آپﷺ کے چچا، اللہ و رسول کے شیر، حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید کردیے گئے،

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 3)

ان کا مثلہ کردیا گیا، آپﷺ نے اپنے لیے سب سے زیادہ دردناک منظر دیکھا، دیکھا کہ چچا کا مثلہ کردیا گیا ہے، لیکن آپ نے صرف اتنا کہا:

رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ، إِنْ کُنْتَ مَا عَلِمْتُکَ إِلاَّ وُصُوْلًا لِلرَّحِمِ فَعُوْلًا لِلْخَیْرَاتِ، وَاللّٰہِ لَوْلَا حُزْنٌ مِنْ بَعْدِکَ عَلَیْکَ لَسَرَّنِیْ أَنْ أَتْرُکُکَ حَتَّی یَحْشُرَکَ اللّٰہُ فِیْ بُطُوْنِ السِّبَاعِ۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 592، ابنِ کثیر نے اس کی نسبت بزار کی طرف کی ہے، اور اپنی سند سے اس کو ذکر کرنے کے بعد اس کے بارے میں کہا: اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابن ہشامؒ نے ابن اسحاقؒ سے مرسلاً اپنی سیرت جلد 3 صفحہ 171 میں ذکر کیا ہے۔)

’’اللہ آپ پر رحم فرمائے، بلاشبہ آپ صلہ رحمی کرنے والے، بھلے کاموں کو انجام دینے والے تھے، اللہ کی قسم اگر آپ کے بعد والے آپ پر غم نہ کرتے تو مجھے یہ بات بھی پسند تھی کہ میں آپ کو اس طرح چھوڑ دوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو درندوں کے پیٹ سے اٹھائے۔‘‘

جس طرح آپ ہر حال میں اللہ سے مکمل طور پر راضی برضا تھے، اسی طرح آپ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید رضا مندی اور اس پر ثبات کی توفیق دے۔

(اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن و السنۃ: جلد 1 صفحہ 100)

چنانچہ آپﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

وَأَسْاَلُکَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَائِ، وَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَ لَذَّۃَ النَّظْرِ إِلَی وَجْہِکَ، وَ الشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَ أَعُوْذُبِکَ مِنْ ضَرَّائِ مَضَرَّۃٍ، وَ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ، وَاجْعَلْنَا ہُدَاۃً مُہْتَدِیْنَ

(سنن النسائی: باب السہو: جلد 3 صفحہ 55، اس کی سند حسن ہے۔)

’’(اے اللہ) میں تجھ سے قضا و قدر کے بعد رضا، موت کے بعد زندگی کی راحت، تیرے چہرے کے دیدار کی لذت، تجھ سے ملنے کی چاہت کا طلبگار ہوں، میں گمراہ کن فتنے اور نقصان دہ پریشانی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کردے اور ہمیں راہ یافتہ اور رہنما بنا۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اقوال کے ذریعہ سے صرف اپنے اس خلق عظیم کو بیان ہی نہیں کرتے تھے، بلکہ آپﷺ اس کی اہمیت کو بیان کرتے، اس پر عنداللہ اجر عظیم اور ثواب جزیل کو واضح کرتے تاکہ اپنی امت کو اس پر آمادہ کریں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ قَالَ حِیْنَ یَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَ أَنَا أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّ بِمُحَمَّدٍ صلي الله عليه وسلم نَبِیًّا وَّ رَسُوْلًا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا غَفَرَلَہُ ذَنْبَہُ۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 386)

صفحہ 3 از 11