سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 11 از 11

آیت میں ان لوگوں کو جنہیں ناتواں بچوں کو چھوڑنے کا خوف ہوتا ہے تمام معاملات میں تقویٰ اختیار کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ ان کے بچے محفوظ ہو جائیں، اللہ کی حفاظت اور دیکھ ریکھ میں داخل ہو جائیں، اور اس بات کی دھمکی ہے کہ اگر وہ تقویٰ ترک کر دیں گے تو ان کے بچے ضائع ہو جائیں گے، نیز اس جانب اشارہ ہے کہ اصول کا تقویٰ فروع کی حفاظت کے لیے ضروری ہے، نیز یہ کہ نیک لوگوں کے بچوں کی حفاظت کی جاتی ہے، جیسا کہ اس آیت سے پتہ چلتا ہے:

وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا۞( سورۃ الكهف آیت 82)

ترجمہ: رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ 

چنانچہ دونوں بچوں کی جان اور مال اپنے باپ کی برکت سے محفوظ رہا۔

(محاسن التأویل للقاسمی: جلد 5 صفحہ 47)

10۔ تقویٰ ان اعمال کی قبولیت کا سبب ہے جن میں دنیا و آخرت کی نیک بختی ہے، فرمان الہٰی ہے:

 اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ المائدہ آیت 27)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔

11۔ تقویٰ دنیا کے عذاب سے نجات کا باعث ہے۔ فرمان الہٰی ہے:

وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰى عَلَى الۡهُدٰى فَاَخَذَتۡهُمۡ صٰعِقَةُ الۡعَذَابِ الۡهُوۡنِ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‌۞وَ نَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ۞ (سورۃ فصلت آیت 17، 18)

ترجمہ: رہے ثمود، تو ہم نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا تھا۔ لیکن انہوں نے سیدھا راستہ اختیار کرنے کے مقابلے میں اندھا رہنے کو زیادہ پسند کیا، چنانچہ انہوں نے جو کمائی کر رکھی تھی، اس کی وجہ سے ان کو ایسے عذاب کے کڑ کے نے آپکڑا جو سراپا ذلت تھا۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے تھے اور تقویٰ اختیار کیے ہوئے تھے ان کو ہم نے نجات دے دی۔

12۔ گناہوں کو مٹا دینا جو عذاب جہنم سے نجات کا باعث ہے، نیز زیادہ ثواب دینا جو جنت میں اعلیٰ مقام ملنے کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَنۡ يَّـتَّـقِ اللّٰهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا‏۞ (سورۃ الطلاق آیت 5)

ترجمہ: اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا، اور اس کو زبردست ثواب دے گا۔

13۔ جنت کی وراثت، چنانچہ متقی حضرات ہی جنت کے اہل اور اس کے زیادہ حقدار ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھی کے لیے جنت کو تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

تِلۡكَ الۡجَـنَّةُ الَّتِىۡ نُوۡرِثُ مِنۡ عِبَادِنَا مَنۡ كَانَ تَقِيًّا‏ ۞(سورۃ مريم آیت 63)

ترجمہ: یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو متقی ہو۔

وہی اللہ کی جنت کے قانونی وارث ہیں، وہ جنت تک پیدل چل کر نہیں جائیں گے، بلکہ انھیں سوار کرکے لے جایا جائے گا، ساتھ ہی ساتھ ان کی مشقت کو ختم کرنے اور ان کا استقبال کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ جنت کو ان سے قریب کردے گا۔ فرمان الہٰی ہے:

وَاُزۡلِفَتِ الۡجَـنَّةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ ۞ (سورۃ ق آیت 31)

ترجمہ: اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يَوۡمَ نَحۡشُرُ الۡمُتَّقِيۡنَ اِلَى الرَّحۡمٰنِ وَفۡدًا‌ ۞ (سورۃ مريم آیت 85)

ترجمہ: (اس دن کو نہ بھولو) جس دن ہم سارے متقی لوگوں کو مہمان بنا کر خدائے رحمٰن کے پاس جمع کریں گے۔

چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں، اس لیے کہ وہ اس بات کے حریص تھے کہ مسلمانوں کو دنیا و آخرت میں تقویٰ کے یہ مذکورہ فوائد حاصل ہوں، اسی لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا:

(فإن المومن یتزود و الکافر یتمتع و تلا ہذہ الآیۃ (وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ)

(الحسن بن علی: صفحہ 28، نور البصار: صفحہ 121)

’’مومن توشۂ آخرت جمع کرتا ہے، اور کافر دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پھر سیدنا حسنؓ نے اس آیت کی تلاوت کی (توشۂ آخرت جمع کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ کا ڈر ہے۔)‘‘




صفحہ 11 از 11