سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 10 از 11

(صحیح مسلم: کتاب البر و الصلۃ: حدیث نمبر 6937)

’’جب اللہ تعالیٰ بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام کو بتلاتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں(فرشتوں) میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر اس شخص کے لیے زمین میں بھی قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ (یعنی اہل زمین میں بھی وہ مقبول اور محبوب ہو جاتا ہے)‘‘

5۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید، یہی اس معیت کا مفہوم ہے جو اس آیت میں مذکور ہے:

وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 194)

ترجمہ: اور اچھی طرح سمجھ لو اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔ 

چنانچہ یہ معیت نصرت و تائید کی معیت ہے یہی انبیاء، اولیاء اور متقیوں کے ساتھ اللہ کی معیت ہے، اور وہ نصرت و تائید، مدد اور حفاظت کو مستلزم ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون علیہم السلام سے فرمایا:

قَالَ لَا تَخَافَآ‌ اِنَّنِىۡ مَعَكُمَاۤ اَسۡمَعُ وَاَرٰى ۞ (سورۃ طه آیت 46)

ترجمہ: اللہ نے فرمایا: ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، سن بھی رہا ہوں، اور دیکھ بھی رہا ہوں۔

معیت عامہ کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کیا ہے:

وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ‌ ۞ (سورۃ الحديد آیت 4)

ترجمہ: اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمھارے ساتھ ہے۔

يَّسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسۡتَخۡفُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ وَهُوَ مَعَهُمۡ اِذۡ يُبَيِّتُوۡنَ مَا لَا يَرۡضٰى مِنَ الۡقَوۡلِ۞  (سورۃ النساء آیت 108)

ترجمہ: یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں، اور اللہ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں۔ 

معیت عامہ بندے سے ڈر، خوف اور اللہ کے مراقبے کا مطالبہ کرتی ہے۔

6۔ آسمان و زمین کی برکتیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 96)

ترجمہ: اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ 

7۔ دنیاوی زندگی میں نیک خوابوں، لوگوں کی تعریف اور محبت کی بشارت، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞(سورۃ يونس آیت 62 تا 64)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقویٰ اختیار کیے رہے۔ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی زبردست کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں متعدد مقامات پر متقیوں کو بشارت دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:

اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ مِنَ اللّٰہِ

(صحیح البخاری: کتاب الرؤیا: حدیث نمبر 6989)

’’نیک خواب منجانب اللہ ہوتا ہے۔‘‘

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:

لَمْ یَبْقَ مِنَ النُّبُوَّۃِ إِلَّا الْمُبَشَّرَاتُ قَالُوْا: وَ مَا الْمُبَشَّرَاتُ؟ قَالَ: اَلرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6990

’’نبوت کے حصوں میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں، صحابہ کرامؓ نے پوچھا: مبشرات (خوشخبری دینے والے) سے کیا مراد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نیک خواب۔‘‘

وَعَنْ أَبِیْ ذَرٍّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم اَلرَّجُلُ یَعْمَلُ الْعَمَلَ لِلّٰہِ وَ یُحِبُّہُ النَّاسُ فَقَالَ: تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرٰی الْمُوْمِنِ

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 2034)

’’ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آدمی اللہ کے لیے نیک عمل کرتا ہے، اور لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا یہ مومن کے لیے پیشگی خوش خبری ہے۔‘‘

ہم نے بہت سارے اللہ والوں کو دیکھا ہے کہ لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔

8۔ دشمنوں کے مکر و فریب سے حفاظت، فرمان الہٰی ہے:

وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡــئًا اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 120)

ترجمہ: اگر تم صبر اور تقوی سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہنمائی کر رہا ہے کہ اللہ پر توکل، تقویٰ اور صبر اختیار کرکے فاجروں کے مکر و فریب اور دشمنوں کی برائی سے بچو۔ اللہ تعالیٰ دشمنوں کی ہر ہر حرکت سے واقف ہے، کسی شر سے بچنے اور کسی نیکی کو کرنے کی توفیق صرف اللہ کی ذات سے مل سکتی ہے، جو چاہا وہ ہوا، جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔

(تفسیر القرآن العظیم: جلد 1 صفحہ 329)

9۔ اللہ کی عنایت سے کمزور اہل و عیال کی حفاظت، فرمان الہٰی ہے:

وَلۡيَخۡشَ الَّذِيۡنَ لَوۡ تَرَكُوۡا مِنۡ خَلۡفِهِمۡ ذُرِّيَّةً ضِعٰفًا خَافُوۡا عَلَيۡهِمۡ فَلۡيَتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡيَقُوۡلُوا قَوۡلًا سَدِيۡدًا‏ ۞ (سورۃ النساء آیت 9)

ترجمہ: اور وہ لوگ (یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے) ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ کر جائیں تو ان کی طرف سے فکر مند رہیں گے۔ لہٰذا وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔

صفحہ 10 از 11