اعتراض شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 5

اس آیت میں ایک عظیم الشان پیشن گوئی ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ یہ پیشین گوئی کس زمانہ میں کس کے حق میں پوری ہوئی؟ خداوند علیم و خبیر خبر دیتا ہے کہ تورات (تورات میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیمؑ سے وعدہ کرتا ہے۔ "میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان کا سارا ملک (جس میں تو پردیسی ہے) دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لیے ملک ہو۔ پیدائش باب 17 آیت 8 اور زبور میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لیکن وہ جو حلیم ہیں۔ زمین کے وارث ہوں گے۔ 37، آیت۔ صادق زمین کے وارث ہونگے۔ 37 زبور آیت 29 ۔ جن پر اس کی برکت ہو۔ زمین کے وارث ہونگے اور جن پر لعنت ہو کٹ جائیں گے۔ زبور آیت 32) 

اور زبور میں پہلے ہی لکھا جا چکا ہے کہ "الۡاَرۡضَ" ارض مقدسہ (زمین كنعان) کے وارث میرے پاک بندے ہوں گے۔ اب بتائیے کہ یہ زمین کس کے ہاتھ پر فتح ہوئی؟ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر فتح ہوئی اور اس آیت کے رُو سے آپ عباد صالحون میں سے ہوئے۔ کیا منافق بھی عباد صالحون کہلا سکتے ہیں؟ سچ کہیے کہ اس سے زیادہ فخر کیا ہو سکتا ہے؟ کہ ایک عظیم الشان پیشن گوئی جس کی خبریں آسمانی کتابیں دے رہی ہیں وہ پیشن گوئی آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد آپ کے سچے خادم سیدنا فاروق اعظمؓ کے عہد میں پوری ہوئی ہے اور پھر طرفہ یہ کہ اس زمین کے وارث ہمیشہ اہل سنت والجماعت مسلمان ہی رہے ہیں۔ شیعہ پر ہماری حجت ہے کہ خدا کے نزدیک وہ "عباد صالحون" میں شمار نہیں ہیں اگر ہیں تو کیوں ارض مقدسہ کی وراثت ان کو نصیب نہیں؟

بعض مفسرین نے ارض (بعض محققین کا ارشاد ہے کہ اس آیہ میں الۡاَرۡضَ سے مراد ارض جنت ہے اور سیاق قرآنی سے یہ معنیٰ زیادہ مناسبت رکھتا ہے (مظہر حسین)

سے مراد حرمین شريفين کی زمین لی ہے۔ بہر حال "ارض" سے مراد زمین شام (بيت القدس) ہو یا مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی زمین، اس کی وراثت ہمیشہ سے اہل سنت و الجماعت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہی ہے اور تاقیامت رہے گی اور وہ بشارت الٰہی عباد صالحون ہیں۔

سوال: اس موقعہ پر مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ اس زمین پر ایک دفعہ یزید بھی حکومت کر چکا ہے اور تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ بوساطت شریف حسین نصاریٰ کا بھی عمل و دخل رہا ہے اور اب اس سر زمین پر وہابیوں کا قبضہ ہو گیا ہے۔ پھر آیت سے صداقت مذہب حق اہل سنت والجماعت كس طرح ہو سکتی ہے؟

جواب: یہ اعتراض آیت کے الفاظ پر غور نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئے۔

اگر مخالف کو قرآن میں تدبر کرنا نصیب ہو تو ہرگز ایسے بے ہودہ اعتراض کی اسے جرأت نہ ہو۔ آیت میں "يَرِثُ" کا لفظ موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس سر زمین پاک پر وارثانہ قبضہ صالح بندوں کا ہوگا، اگر کوئی فاسق فاجر یا بدمذہب شخص یا قوم تھوڑے دنوں کے لیے وہاں غاصبانہ قبضہ کرکے حکومت کرے اور کچھ دنوں کے بعد وہاں سے دھتکار کر نکال دیا جائے تو وہ "يَرِثُ" کا مصداق ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یزید کا غاصبانہ قبضہ گنتی کے دن رہا۔ پھر اس کا ایسا استیصال ہوا کہ دنیا میں لعنت کے سوا اس کا نصیب نہ رہا۔ شریف حسین نے اگر نصاریٰ کو دخیل رکھا تو اس کا بھی وہی حشر ہوا جو یزید کا ہوا تھا۔ وہابی پہلے بھی کچھ وہاں حکومت کر چکے ہیں پھر ان کا نام و نشان مٹ گیا اب جو وہاں انہوں نے دخل حاصل کیا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ بھی چند روزہ بات ہے وہاں سے یہ لوگ بھی اسی ذلت و خواری سے نکال دیے جائیں گے۔ وارثانہ اور مالکانہ قبضہ اس سر زمین پر ہمیشہ مسلمانان اہلسنت والجماعت کا رہا ہے اور رہے گا۔ کیونکہ قرآن سچا ہے اور خدا کے وعدوں میں ہرگز تخلف نہیں ہو سکتا۔ اس پاک زمین پر عرصہ دراز تک ترکوں کی حکومت رہی جو خالص سنی حنفی تھے۔ انہوں نے ارضِ پاک کا احترام رکھا اور حرمین شریفین کے خادم رہے۔ خدا نے چاہا تو پھر بھی اس پاک زمین کی خدمت انہی کے سپرد ہوگی۔


صفحہ 5 از 5