اعتراض شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 5

سب سے زیادہ تھی۔ جس کو اس پاک رسولﷺ نے اپنی زندگی کے آخیر وقت میں اپنے مصلے پر کھڑا کرنے اور امامت پر مامور کرنے کا امتیاز بخشا ہے۔ اس کو سب سے پہلے اس اعزاز سے حصہ ملے۔ ثم فثم. منطوق آیت صاف پکار رہا ہے کہ خلفاء اربعہؓ نے اپنے اختیار اور کوشش سے اور نہ کسی منصوبہ سے خلافت کی تحصیل کی بلکہ محض خدائے پاک کے ارادہ سے اس کے حتمی وعدہ کے بموجب ان کو اعزازات ملے اور اسی ترتیب سے ملے جیسا کہ خداوند کریم کی مرضی تھی ورنہ کس کی طاقت تھی کہ ارادہ ایزدی پر غالب آ سکتا؟ اس کے موعود اعزاز کو بلا استحقاق حاصل کر سکتا یا وقت سے پہلے اس اعزاز کا حصہ لے سکتا۔ تقدیر اور مشیت ایزدی پر کوئی انسانی تدبیر غالب نہیں آسکتی اور نہ ارادہ الٰہی کا مقابلہ انسانی منصوبہ سے ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کہنا سخت بے ایمانی ہے کہ وعدہ الٰہی تو على المرتضیٰؓ کے لیے تھا اور وہی سب سے زیادہ مستحق تھے لیکن ثلاثہؓ نے ذبردستی انکا حق چھین کر خود خلافت پہلے لے لی۔ بھلا کچھ تو عقل کیجیے۔ یہ تو مان بھی لیں کہ اسد اللہ الغالب پر ثلاثہؓ کی قوت غالب ہوجائے اور ان کے مقابلہ میں شیر خدا خیبر شکن بے بس ہو کر دم بخود رہ جائیں۔ لیکن یہ کب ہو سکتا تھا کہ ثلاثہؓ خدائے قدیر کی زبردست طاقت کا مقابلہ کر کے اسکی موعود اور دی ہوئی نعمت شیر خدا سے چھین لیں۔ نعوذ اللہ من ہذہ الخيالات.

نیز آیت سے ظاہر ہے کہ وعدہ خلافت ایک سے زیادہ اشخاص کے لیے تھا، نہ فرد واحد کے لیے۔ کیونکہ آیت میں موعود لہم جماعت مومنین ہے، نہ ایک شخص۔ "الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا" صیغہ ہائے جمع پر غور کرو اور جو نشان ان موعود لہم کا خدائے کریم نے بیان فرمائے ہے یعنی "اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" جو لوگ ان اوصاف میں جملہ صحابہؓ سے فائق تھے وہی مستحق ہو سکتے ہیں اور یہ امر مُسَلَّم ہے کہ خلفاء اربعہؓ جو دیگر صحابہ کرامؓ سے اوصاف میں فاضل تھے وہی اس امر جلیل کے مستحق تھے اور ان چاروں کو اس منصب

کا اعزاز ملنا مقدر تھا، اُدھر زمانہ خلافت بھی محدود کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ رسولﷺ برحق نے "الْخِلَافَةُ مِنْ بَعْدِی ثَلاثُونَ" فرما کر اس کی معیاد تیس سال بیان فرمادی تھی تو پھر فرمائیے کہ سوائے اس ترتیب کے جو سلسلہ خلافت میں وقوع میں آئی اور صورت ہی کون سی تھی؟ کہ یہ چاروں بزرگوار اس عطیہ الٰہی سے اس معیاد کے اندر بہرہ ور ہو سکتے۔ اگر سیدنا على المرتضیٰؓ کو سب سے پہلے خلافت ملتی تو باقی ہر سہ اصحابؓ اس نعمت موعودہ سے محروم رہ جاتے کیونکہ ان کا زمانہ زندگی پہلے ہی ختم ہو جانا تھا۔ ایسا ہی اس ترتیب میں اگر کچھ بھی تغیر ہوتا تو کوئی نہ کوئی صاحب ضرور اس عطیہ سے محروم رہ جاتا۔ "سبحان الله فعل الحكيم لا يخلوا عن الحكمة"

اس آیت کریم نے مسئلہ ایمان صحابہؓ کے ساتھ مسئلہ خلافت کا بھی قطعی فیصلہ فرما دیا اور یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ خلفاء جیسے کہ پہلے "اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" کے مصداق تھے۔ خلافت ملنے کے بعد بھی"يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌" کے پورے مصداق رہیں گے۔ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس قدر اقتدار عظیم ملنے پر بھی ان کی حالت میں ذرا سا تغیر پیدا ہو جائے۔ بلکہ جیسے کہ پہلے مسکنت اور فقر کی حالت میں میرے سچے مومن نیک اعمال تھے۔ اس اقتدار میں بھی میری عبادت میں مست اور میری توحید میں سرشار رہیں گے۔

صاحبان! غور کیجیے یہ آیت خلفاء ثلاثہؓ کے ابدی ایمان پر شاہد عدل ہے۔ نیز خداوند کریم نے ان کے ایمان ابدی کی شہادت دے کر پھر یہ بھی فرما دیا کہ اس میری شہادت کے بعد بھی اگر میرے ان پاک بندوں کے ایمان میں کوئی شخص کلام کرے گا اور ان کے احسان عام کا کفران کرے گا تو سمجھ لو وہ گمراہ بدبخت فاسق ہے۔ معنیٰ آیت "وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ" مفسرین نے یہ کیا ہے: أَمَّا مَنْ أَنْكَرَ عَنْ إِحْسَانِهِمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ

شیعہ صاحبان ذرا انصاف کی عینک لگا کر آیت کو پڑھیں، بتائیں تو سہی "وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌" كا مصداق کون سا زمانہ ہے؟ کیا وہ زمانہ جو عہدِ خلافت جناب علیؓ کا تھا؟ شیعہ صاحبان تو مانتے ہیں کہ وہ زمانہ تو سخت پر آشوب تھا۔ ہمارا ایک ہم عصر شیعہ اپنے رسالہ سجادیہ کے صفحہ 48 پر اس زمانہ کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔ 

رت امیر کی خلافت کا زمانہ بوجہ بغاوت بی بی عائشہ صدیقہؓ وغیرہ غایت درجہ پُرشور تھا اور عرب میں گویا 1857ء کا سا حال ہو رہا تھا۔"

پھر ایسا پر شور زمانہ تو اس پیشین گوئی "وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ" کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ فی الحقیقت یہ خلفاء ثلاثہؓ کا ہی زمانہ تھا کہ بعد اس خوف کے جو وفاتِ رسول مقبولﷺ کے بعد ارتداد کا فتنہ عظیم برپا ہو گیا تھا۔ مسیلمہ اور اسود عنسی جیسے جھوٹے نبیوں نے اندھیر مچا دیا تھا اور حضرت صدیق اکبرؓ نے توفیق ایزدی سے ان کذابوں کا خاتمہ کر کے تمام فتنہ فرو کر دیا تھا اور پھر ہمیشہ کے لیے امن قائم ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ ہر سہ خلفاء کے زمانہ میں وہ امن قائم رہا جس سے شیعہ بھی انکار نہیں کر سکتے کیا یہ سب الٰہی وعدے ان منافقوں کے حق میں پورے ہوئے؟

نَعُوذُ بِاللهِ مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ الۡخَـنَّاسِ آیت استخلاف کے متعلق بحث ہو چکی آئندہ ہم مسئلہ خلافت پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے جب کہ کتب شیعہ سے استدلال کیا جائے گا۔

28: وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ ۞

(سورۃالأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔

صفحہ 4 از 5