اعتراض شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 5

چودھویں رات کا چاند مدهم معلوم ہوتا۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہو گا کہ حسنِ یوسفؑ میں یہ کمال تھا کہ اندھیری رات میں مصر کی گلیوں میں پھرتے تو شمع کی ضرورت نہ ہوتی بلکہ چہرہ تاباں کی روشنی ہوتی۔ پھر اس ماہِ مدنی مکی کے چہرہ تاباں کے نور سے کیوں انکار ہے؟ کہ اس شمع انور کی موجودگی میں بھی حضرت ابوبکرؓ کو سوراخ نظر نہ آتے ہوں، پھر یہ بھی آپ کی کتابوں میں (جیسا کہ لکھا جا چکا ہے) درج ہے کہ اس شمع نور (ذاتِ احمدی) کا یہ اثر تھا کہ غار میں بیٹھے ہوئے دونوں دوست مدینہ میں بیٹھے ہوئے انصار کو گھروں میں بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے اور جعفر کی کشتی سمندر میں چکر کھاتی نظر آ رہی تھی پھر افسوس ہے کہ شیعہ کو رباطن کو اس بات پر تعجب ہے کہ اندھیری رات میں حضرت ابوبکرؓ کو غار کے سوراخ کس کس طرح نظر آگئے؟ اچھا یہ سب باتیں نہ سہی آخر اندھا بھی ٹوہ کر کے معلوم کر لیتا ہے۔ کیا ہاتھ سے ٹوہ کر بھی سوراخ غار معلوم نہ ہو سکتے تھے؟ اُمید ہے کہ اب معترض کی تسلی ہو گئی ہو گی اس لیے ہم اسی قدر پر اکتفاء کرتے ہیں۔ آیت "اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ" کے متعلق اعتراضاتِ شیعہ کا قلع قمع ہو چکا ہے، اب ہم استخلاف کے بحث شروع کرتے ہیں۔

27: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞

(سورۃالنور: آیت 55)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ 

اس آیت میں احکم الحاکمین نے ایک بڑے معرکے کے مسئلہ خلافت کا بھی فیصلہ فرما دیا۔ اگر کوئی دل نور ہدایت سے منور ہو تو اس کو مسئلہ معہودہ کی نسبت اس فیصلہ ربانی کے مان لینے میں تامل نہ ہوگا۔ دیکھو رب العباد نے فرما دیا ہے کہ ہم نے اس اخص الخواص جماعت مومنین کو حتمى وعدہ دے دیا ہے کہ ان کو خلافت کی مسند ضرور ضرور عطا کی جائے گی۔ جیسا کہ اس سے پہلے حضرت موسیٰؑ کے سچے پیروؤں کو ہم نے خلافت عطا فرمائی تھی۔ اس وقت دین مرضیہ کی خوب استقامت ہوگی اور خوف کا زمانہ امن سے بدل جائے گا، یہ جماعت ایسے مخلص عباد صالحون کی ہو گی کہ باوجود اس اقتدار (عہدہ خلافت) کے حاصل کرنے کے بھی میری توحید پر قائم رہیں گے۔

اب ہم شیعہ صاحبان سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ وعدہ الٰہی اصحابِ ثلاثہؓ کے حق میں پورا ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو کیا وہ "الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ" کے مصداق تھے یا نہ؟ اگر نہیں تھے تو کیوں اس انعام الٰہی (عطیہ خلافت معہودہ) سے مشرف ہو گئے؟ اس کے مستحق تو وہی لوگ تھے جو "اٰمَنُوۡا" کے مصداق تھے، کیا غیر مستحق لوگ بھی انعام پا جایا کرتے ہیں؟ خصوصاً جب انعام بخشنے والا عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‏ اور عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ہو۔ کیا یہ بھی ممکن ہے کہ ایک انعام کا اطلاع نامہ تو دوسرے لوگوں کے نام جاری ہو چکا ہے اور تقسیم انعام کے وقت وہ لوگ منہ دیکھتے رہ جائیں اور ایک دوسری جماعت جو بالکل غیر مستحق تھی، انعام پا جائے؟ ایسا کیوں ہوا کہ بوقت تقسیم انعام و انعام بخشنے والے کو مستحقین اور غیر مستحقین کے امتیاز میں دھوکا ہوا یا انعام والے نے اپنا پہلا حکم منسوخ کرکے دوسروں کو انعام دے دیا اور پہلوں سے وعدہ خلافی کر بیٹھا یا جماعت غیر مستحقین زبردست تھی، اول نے دوسری سے زبردستی چھین کر وہ انعام اُڑا لیا۔ یہ سب باتیں کفر ہیں۔ نہ اس ذات علیم و خبیر کے آگے اعزاز کے مستحقین اور غیر مستحقین مخفی رہ سکتے ہیں اور نہ وہ اپنے احکام نافذہ کو بلا وجہ توڑ کر تغیر و تبدل کرتا ہے اور نہ اس کے حتمی وعدوں میں تخلف ہو سکتا ہے اور نہ کوئی طاقت اس سے زبردست ہوسکتی ہے جو اس کے ارادہ پاک کی مزاحمت کر سکے اور اس کی دی ہوئی نعمت اُس کی مقبول جماعت کے ہاتھوں سے چھین سکے۔ وہ 

فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيۡدُ اور "وَيَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ" کی صفت سے موصوف ہے، وہ اپنے ارادوں کو پورا کیے بغیر نہیں چھوڑتا اسکی صفت لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ہے، اس کے وعدوں میں تخلف کا خیال کرنا کفر ہے۔ اس کے ارادہ و مشیت میں ہی یہی تھا کہ بعد وفات سرور کائناتﷺ آپ کی خلافت کا اعزاز ان کے چار برگزیده اصحاب کو عطا فرمایا جائے۔ یہ اعزاز چونکہ ان کی پاک خدمات کے صلہ میں تھا اس لیے ان کے عطا ہونے پر ان کی خدمات کا بھی پورا لحاظ ہوا جسکی خدمات اسلام میں سب سے زیادہ ہیں، جس نے خدا کی راہ میں بہت زیادہ دکھ اُٹھائے ہیں، جس نے ہادی اسلامﷺ کی دعوت سب سے پہلے بلا کسی امتحان لینے کے قبول کی اور سچے ہادی کی تائید میں سب سے پہلے اعداء دین سے مقابلہ کیا، جس نے اپنی وجاہت اور دنیوی اقتدار نظر انداز کر کے دینِ رسولﷺ کی سچی تابعداری سب سے اول اختیار کی ہے، جس نے عمر بھر میں اس اپنے پیارے آقاﷺ کا ساتھ پورا نبھایا ہے، جو اس کا نہایت ہولناک اور پرخطر موقعہ میں ہمدم اور یار غار رہا ہے، جس پر اس پاک رسولﷺ کی نظرِ شفقت بلحاظ اس کے کہ

قدیمانِ خود را بیفزاء قدر 

صفحہ 3 از 5