اعتراض شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 5

شيعو! کچھ غور کرو بہکی بہکی باتیں کیوں کرتے ہو؟ ساری دنیا اندھی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابوبکرؓ روئے نہ چلائے، البتہ گھبراہٹ اس لیے پیدا ہوگئی کہ محبوب دو جہاںﷺ خدا کے پیارے رسولﷺ کو کافر تکلیف نہ پہنچائیں۔

حُزْن اپنے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی دوسری چیز یا شخص کے لیے ہوا کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو ہجرِ یوسف علیہ السلام کا تھا جس کی خبر قرآن میں یوں دی گئی ہے وَابۡيَـضَّتۡ عَيۡنٰهُ مِنَ الۡحُـزۡنِ

ترجمہ: یعقوبؑ کی آنکھیں غمِ ہجرِ يوسفؑ سے سفید ہو گئیں۔ 

حضورﷺ نے اپنے لختِ جگر ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر فرمایا:

إِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا ابراهيم لَمَحْزُونُونَ 

"ہم اے ابراہیم تیرے فراق سے غم ناک ہیں۔" 

غرض جو اپنی ذات کے لیے گھبراہٹ ہو اس کو "خوف" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو دوسرے کے لیے ہو اس کو "حزن" کہتے ہیں۔

بلاشبہ پروانہ شمع محمدیﷺ کو اپنی جان کی ذرہ پرواہ نہ تھی بلکہ وہ نقد جان محبوب دو جہانﷺ پر نثار کر چکا تھا اور کہہ دیا تھا کہ آپﷺ کی محبت میں جس قدر تکالیف دیکھوں، میرے لیے عین راحت ہے۔

یک جان چہ مناعیست کہ سازیم فدایت 

اما چاتواں کرد کہ موجود ہمیں است 

بلکہ اس عاشق صادق کو غم تھا تو فقط اس بات کا کہ کفار نابکار کے ہاتھ سے سردار دو جہاںﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

اعتراض

اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ میں "عَلَيۡهِ" کی ضمير "رسول" کی طرف راجع ہے نہ کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف، جیسا کہ آیت "اِلَّا تَـنۡصُرُوۡهُ" میں باقی ضمائر کے مرجع بھی رسول کریمﷺ ہیں۔ پھر اس سے رحمت الٰہی کا مورد حضرت ابوبکرؓ کو سمجھنا درست نہیں ہے۔

جواب: جب شیعہ تسلیم کرتے ہیں کہ گھبراہٹ رسول پاکﷺ کو نہیں بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو تھی اور اسی لیے "لَا تَحۡزَنۡ" محض ان کی تسکین کے لیے فرمایا گیا، پھر سکینہ (جس کا معنیٰ ہی تسکین ہے) رسول پاکﷺ پر اتارنے کی کیا ضرورت تھی؟ جب آپ پہلے سے ہی مطمئن بیٹھے ہوئے تھے، بہرحال تسکین اتارنے کی ضرورت بھی اسی شخص پر تھی جس کا دل بے چین ہو رہا تھا اور یہ بات کہ اور ضمائر کا مرجع "رسول" ہیں اس لیے "عَلَيۡهِ" کا رجوع بھی ادھر ہی چاہیے۔ سو ایسی نظائر آیات میں بکثرت ملتی ہیں۔ جیسا کہ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ وَتُسَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا 

میں پہلی ضمیریں رسولﷺ کی طرف راجع ہوتی ہیں اور آخری کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسری مثال وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ‌ یہاں پہلی اور آخری ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں، لیکن درمیانی "يَجُرُّهٗۤ" کی ضمیر حضرت بارون علیہ السلام کی طرف راجع ہوتی ہے۔ 

اعتراض

حضرت ابوبکرؓ کا آنحضرتﷺ کو اپنے کندھے پر اُٹھانے کا قصہ غلط معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ بیت الحرام کے توڑنے کے وقت جب اسد اللہ الغالب (علیؓ) نے درخواست کی تھی کہ حضورﷺ میرے کندھے پر سوار ہوں تو آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ تم گرانبار نبوت کو کیسے برداشت کر سکتے ہو؟ پھر سیدنا ابوبکرؓ کو اتنی طاقت کہاں سے آ گئی کہ اس گرابنار کو اُٹھا لیا؟

جواب: یہ مشیت ایزدی ہے کہ ایک وقت ایک بڑے توانا شخص سے ایک کام نہ ہو سکے تو دوسرے وقت وہی کام ایک ضعیف اور نحيف آدمی سے لے سکے۔ جیسا کہ آیت اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَ حَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُ میں حق تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ گرانبار امانت کو برداشت کرنے کی طاقت آسمان و زمین کو باوجود اس عظمت و جسامت کے نہ ہو سکی لیکن اس کو ایک ضعیف مخلوق انسان نے قبول کر لیا۔ پھر وہی خدا اگر وہ کام جو اسداللہ نہ کر سکے، حضرت صدیق اکبرؓ کو اس کے کرنے کی توفیق بخش دے تو اس کو کون روک سکتا ہے؟ وہی خدا ہے جس نے ایک زمانہ میں ابابیل جیسے حقیر پرند کو ہے حساب فیل کے مقابلہ کی قدرت بخشی اور ان کی چونچ میں سے گرے ہوئے سنگریزہ کو گولہ بارود کی قوت عطا فرمائی تھی۔ امر اورا- وَيَفۡعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ پھر یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ حضورﷺ اونٹ پر سوار ہو کر مدینہ منورہ تک جا پہنچے اور اونٹ گرابنار نبوت کا حامل ہو گیا لیکن "شیر خدا" جن میں سینکڑوں شیروں کی طاقت تسلیم کی جاتی ہے اُس کے برداشت کی قوت نہ رکھ سکے۔

اعتراض

اندھیری رات اور تاریک غار میں حضرت ابوبکرؓ کو سوراخ کس طرح نظر آئے جن کو بند کرتا پھرا؟ یہ قصہ بھی غلط ہے۔

جواب: یہ ضروری نہیں کہ چندیں میلِ مسافت کے بعد غارثور تک پہنچنے کے وقت بھی تاریکی شب موجود تھی، بلکہ وہاں پہنچنے تک صبح کی روشنی کا وقت ضرور ہو گیا ہو گا، جیسے صاحب حملہ حیدری بھی نشانِ سحر کی نموداری کا قائل ہے۔ پھر روشنی صبح میں سوراخ کا نظر آجانا محال نہیں ہے، نیز اگر شیعہ معترض کو اس بات کا بھی اعتقاد ہو کہ چہرہ انور، رسول اقدسﷺ وہ سراج منیر تھا کہ اس کی نورانی شعاعوں کے سامنے آفتاب کی روشنی بھی ہیچ تھی، جیسا کہ حضرت انسؓ خادمِ رسولﷺ کی روایت ہے، کہ ایک دن چودھویں چاند رات میں حضور انورﷺ بیٹھے ہوئے تھے، میں چاند کی طرف بھی نظر دوڑاتا اور پھر چہره پرنور حضورﷺ کو دیکھتا تو مجھے حضورﷺ کے طلعت زیبا کے سامنے 

(ایسے واقعات بطور خرق عادت احیاناً پیش آتے تھے نہ کہ دواماً۔ مثلاً حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ تاریک رات ہوتی ہے، حضور اکرمﷺ کے روئے انور کی روشنی میں سوئی میں دھاگہ ڈال لیتی تھی اور ایک روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ رات کو میں اُٹھی تو حضور اکرمﷺ کو بستر مبارک پر نہ پایا، تاریکی میں میں نے ادھر اُدھر ہاتھوں سے تلاش کیا، حضورﷺ کے پاؤں مبارک سے میرا ہاتھ لگا اس وقت حضورﷺ سجدہ میں پڑے تھے۔ 13 (احقر مظہر حسین)

صفحہ 2 از 5