اعتراض شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض شیعہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 5

رسولﷺ کا ساتھی ہونا فضیلت کی بات نہیں، کیونکہ نوح و لوط علیہما السلام کی عورتیں رسول کی ہم صحبت ہونے کے باوجود کافر تھیں۔

جواب: اگر معترض کو کچھ عقل ہوتی تو ان عورتوں پر صدیق کو قیاس نہ کرتا۔ ہر امر میں مستثنیات ہوتے ہیں۔ باوجود یہ کہ حق تعالیٰ نے ”اَلۡخَبِيۡثٰتُ لِلۡخَبِيۡثِيۡنَ وَالۡخَبِيۡثُوۡنَ لِلۡخَبِيۡثٰتِ‌ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ‌“ کا کلمہ بیان فرما کر ظاہر فرمایا ہے کہ (پلید عورتیں پلید مردوں کے لیے اور پلید مرد پلید عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں) لیکن دو عورتوں کو اس حکم سے استثناء فرما کر قرآن میں ان کو ضرب المثل بنا دیا ہے۔ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا 

لیکن معاذ اللہ کیا سیدہ خدیجہ الکبریٰ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کو ان پر قیاس کیا جا سکتا ہے؟ کلا و حاشا۔ 

اسی طرح سیدنا صدیق اکبرؓ ایسے جانباز کی صحبتِ رسولﷺ کو امرأۃِ لوط و نوح پر قیاس کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے جب کہ ان کے کفر کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تصریح کر دی ہے اور ادھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو مسندِ خلافت عطا فرما کر ان کی پاک بازی کا ناطق فیصلہ فرما دیا ہے۔

اگر حضرت ابوبکرؓ معاذ اللہ نوح اور لوط کی عورتوں کی طرح کافر و منافق ہوتے تو ان کے کفر و نفاق کی قرآن میں تصریح کر دینے سے خدا کو کیا خوف تھا؟ غرض آیت کے جملہ الفاظ پر غور کرو پھر دیکھو کہ کس قدر تعریف حضرت ابوبکرؓ کی ثابت ہے۔

اعتراض

شیعہ کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ "لَا تَحۡزَنۡ" کا کلمہ تعریف کا موجب نہیں، یہ صیغہ نہی کا ہے اور جس بات سے خدا نے منع کیا ہو وہ داخلِ معصیت ہے۔ اگر یہ حزن کرنا نیکی ہوتی تو اس سے منع کیوں کیا جاتا؟ اور یہ صیغہ نہی کیوں مذکور ہوتا؟

جواب: شیعہ ایسے اعتراض کرتے وقت اگر قرآن کی باقی آیات پر بھی نظر ڈال لیا کریں تو ایسی خرافات لکھنے کی ضرورت نہ رہے کیا شیعہ معترض کو معلوم نہیں ہے کہ اس قسم کے کلمات پیغمبروں کی نسبت بھی مذکور ہیں۔

1: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بنا تو آپ بمقتضائے بشریت ڈر کر بھاگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَا تَخَفۡ اِنِّىۡ لَا يَخَافُ لَدَىَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ  

(سورۃالنمل: آیت 10)

ترجمہ: اے موسیٰ! مت ڈر میرے حضور میں، پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔

2: جب ساحروں نے اپنی رسیاں جادو سے سانپ بنا کر دوڑائیں اس وقت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام خائف ہوئے الٰہ العالمین نے فرمایا: لَا تَخَفۡ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡاَعۡلٰى‏ 

(سورۃ طه: آیت 68)

ترجمہ: ڈر نہیں تو ہی غالب ہو گا۔

3: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھا تو ڈر گئے، پھر جب بھنا ہوا گوشت ان کے روبرو رکھا اور فرشتوں نے نہ کھایا از بس خائف ہوئے۔ فرشتوں نے تسلی دی قَالُوۡا لَا تَخَفۡ اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمِ لُوۡطٍ 

(سورۃ هود: آیت 70)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا ڈر مت ہم تو قوم لوط کو عذاب دینے آئے ہیں۔

4: لوط علیہ السلام کے پاس جب فرشتے آئے وہ ڈر گئے، فرشتوں نے تسلی دی قَالُوۡا لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ‌ اِنَّا مُنَجُّوۡكَ وَاَهۡلَكَ اِلَّا امۡرَاَتَكَ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ 

(سورۃالعنكبوت: آیت 33)

ترجمہ: فرشتوں نے کہا خوف اور غم مت کیجیے ہم تجھے اور تیرے عیال کو بچائیں گے۔ سوائے تیری عورت کے جو قومِ کفار میں شامل ہے۔

5: رسولِ پاکﷺ کو خطاب کر کے حق تعالیٰ نے فرمایا:لَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ‏ ۞

(سورۃالنحل: آیت 127)

ترجمہ: آپ کچھ غم نہ کیجیے اور کفار کے مکر کی پرواہ نہ کریں۔

6: مومنین سے خطاب ہے اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞

(سورۃ فصلت: آیت 30)

ترجمہ: خوف اور غم مت کرو اور بہشتِ موعودہ کی بشارت لو۔

اب شیعہ بتلائیں یہ سب نہی کے صیغے ہیں جو اولوالعزم کے مرسلین خطاب میں ہیں اور بالخصوص ہمارے رسول اکرمﷺ اور مومنین کے خطاب میں وہی کلمہ ”لَا تَحۡزَنۡ“ استعمال ہوا ہے۔ کیا پیغمبروں کے اس خوف و حزن کو جو بمقتضائے بشریت ان پر طاری ہوا، داخلِ معصیت سمجھو گئ؟ اور لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ‌ کے خطاب کو اُن کی عظمتِ شان اور شفقتِ الٰہی پر محمول کرو گے یا ان کی توہین و ہتک قرار دو گے؟ پھر اس کلمہ لَا تَحۡزَنۡ کا استعمال جب حضرت ابوبکرؓ کی تسکینِ خاطر کے لیے استعمال ہوا اس کے متعلق شیعہ کا اعتراض کہاں تک بجا ہو سکتا ہے؟

اعتراض: 

شیعہ کہتے ہیں جب کفار آئے، حضرت ابوبکرؓ رونے لگے تا کہ ان کو اطلاع ہو جائے کہ پیغمبر علیہ السلام غار میں چھپے ہوئے ہیں، حقیقت میں کفار سے ملے ہوئے تھے۔

جواب: اس سے بڑھ کر بیہودہ اعتراض اور کیا ہو سکتا ہے کہ علیم و خبیر کو بھی خبر نہ تھی کہ رسول اللہﷺ کو مسودہ مصاحبتِ ابوبکرؓ دیا گیا اور رسول اللہﷺ بھی اس بات سے نا آشنا تھے کہ ابوبکر اندر سے ان سے دشمنی رکھتا ہے اور پھر جب رسول اللہﷺ نے اس کو پہلے سے سفرِ ہجرت کی اطلاع دی ہوئی تھی اور وہ رات بھر منتظر بیٹھا رہا۔ اس وقت کفار کو کیوں نہ بتا دیا کہ تم لوگ گھات لگا کر راستہ میں بیٹھو میں ابھی تمہارے دشمن کو تمہارے پاس لے آتا ہوں اور پھر جس وقت حضورﷺ کو اپنے شانہ پر اُٹھا لیا تو بجائے اس کے غار ثور کی طرف لے جاتا، ابو جہل کے گھر کو سیدھا کیوں نہ چل پڑا اور پھر جب کفار غار پر آگئے، رو کر سنانے کی بجائے ان کو پکار کر کیوں نہ کہہ دیا کہ آؤ یہ تمہارا دشمن بیٹھا ہے۔ جب بزعم شیعہ اپنی جماعت (کفار) کے لوگ پہنچ گئے تو اس کے لیے دشمن (رسول پاکﷺ) کا کیا خطرہ تھا؟ اور یہ اگر سچ ہے کہ اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے رونا چلانا شروع کر دیا تھا تو کافر آواز سن کر اندر داخل کیوں نہ ہو گئے؟

صفحہ 1 از 5