حدیث ولایت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث ولایت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 3

اس کی مزید تصدیق اس سے بھی ہو جاتی ہے کہ حضورﷺ کی وفات پر انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں ایک بڑا اجتماع کیا کہ خلیفہ کا انتخاب انصار میں سے کیا جائے بظاہر یہ صورتحال مہاجرین کے خلاف تھی۔ اس سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ غدیر خم کے مقام پر حضرت علیؓ خلافت کا کوئی اعلان نہ ہوا تھا ورنہ یہ صورتحال کبھی واقع نہ ہو پاتی۔ اس سے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ حدیث ولایت کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شیعہ غدیر خم کے اس خطبے سے جو حدیثِ ولایت میں ہے اس قدر خوش ہیں کہ اس خوشی میں عید مناتے ہیں اور اس کا نام یہ بتایا جاتا ہے عید غدیر خم، اس کے لیے انہوں نے دن بھی کونسا چنا؟ 18 ذو الحجہ اور ہماری عوام یہ نہیں جانتے کہ یہ خلیفہ راشد امام مظلوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔

اب اس تاریخ پر دو چیزیں جمع ہوگئیں

  1. سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت کا غم
  2.  اور عید غدیر خم کی خوشی

اب یہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خوشی اور حضرت علیؓ کے بمقام غدیر خم خلیفہ مقرر ہونے کی خبر ایک ہی دن یعنی 18 ذو الحجہ کی دو تاریخی یادیں ہیں۔ یہ وہ تاریخی تضاد ہے جس نے آج تک اہل سنت اور شیعہ کو کبھی متحد نہیں ہونے دیا آج بھی اگر اثناء عشری یہ بات مان لیں کہ 18 ذو الحجہ کو غدیر خم عید کی خوشی منانا دراصل سیدنا عثمان غنیؓ سے ان کی اپنی اعتقادی برأت کا اظہار ہے۔ یہ سیدنا علیؓ کی خلافت کی نامزدگی نہیں۔ تو اہل سنت اور شیعہ آج بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکتے ہیں لیکن کیا کریں اثناء عشری اب تک اپنے اس عقائد سے یہ بات نکالنے کو تیار نہیں کہ پہلے تین خلفائے راشدینؓ سے بغض رکھنا ان کے ہاں واجبات ایمان میں سے ہے۔

حدیث ولایت کے بارے میں یہ آخری بات تھی جو ہم نے ہدیہ قارئین کر دی ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے جاہل مسلمانوں میں بائیس رجب کو حلوہ پوری کے کنڈے نکالنے کی ایک چھپی رسم جاری کر دی گئی اور پھر تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یومِ وفات تھا جس کی خوشی کا اظہار اس چھپے انداز میں جاہل مسلمانوں میں لایا جاتا ہے۔


صفحہ 3 از 3