مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 7
2: حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کے منتخب و برگزیدہ ہیں، جماعتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ جن و بشر کا کوئی بھی فرد ان کے مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
3: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت محبتِ رسولﷺ‏ کی علامت اور ان سے بغض و عناد رسول اللہﷺ‏ سے بغض و عناد کی نشانی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایذا پہنچانا خود نبی پاکﷺ‏ کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔
4: حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تنقید و تنقیص کا ہدف بنانا ناجائز و حرام ہے۔
5: امت کا سارا شرف و مجد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ وابستگی پر موقوف ہے اور ان کا قول و عمل امت کے لیے حجت ہے۔
آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبویﷺ‏ کے نصوص سے ثابت شدہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی امتیازی مقام و مرتبہ کو ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ ساری امت ہمیشہ سے مانتی چلی آ رہی ہے، ان کے حق میں طعن و تشنیع، سبِّ وشتم اور اس کی عیب جوئی اور اہانت کو اکبر کبائر میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
چنانچہ امام نوویؒ لکھتے ہیں:
1: واعلم ان سب الصحابۃ حرام من فواحش المحرمات سواء لابس الفتنۃ منہم او غیرہ 
(شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 310)
ترجمہ: اچھی طرح سمجھ لو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نازیبا الفاظ سے ذکر کرنا حرام ہے اور بڑے حراموں میں سے خواہ وہ صحابی باہمی جنگ کے فتنہ میں مبتلا ہوئے ہوں یا اس سے بری ہوں۔ 
امام مالکؒ کا قول مشہور شارح حدیث ملا علی قاریؒ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
2: من شتم احدا من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابابکر او عمر او عثمان او علیا او معاویۃ او عمرو بن العاص فان قال شاتمھم کانوا علی ضلال او کفر قتل وان شتم بغیر ھذا نکل نکالا شدیدا 
(شرح الشفاء: جلد، 2 صفحہ، 755)
ترجمہ: جس نے اصحابِ رسول اللہﷺ‏ میں سے کسی کو، مثلاً سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ کو گالی دی اگر انھیں گالی دینے والا یہ کہتا ہے کہ وہ کفر و ضلالت پر تھے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے تو اسے سخت عبرت ناک سزا دی جائے گی۔
عظیم المرتبت محدث امام ابوزرعہ الرازیؒ فرماتے ہیں:
3: اذا رأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاعلم انہ زندیق وذٰلک ان الرسول حق، والقرآن حق وما جاء بہ حق وانما روی الینا ذٰلک کلہ الصحابۃ وہؤلاء یریدون ان یجرحوا شہودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ والجروح بہم اولیٰ وہم زنادقۃ 
(الاصابۃ: جلد، 1 صفحہ، 11)
ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ یہ زندیق ہے اور یہ اس لیے ہے کہ رسول اکرمﷺ‏ حق ہیں، قرآن حق ہے، قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے حق ہے اور ان سب کو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں تو یہ عیب جویاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں اور واسطہ کو مجروح کر دیں تاکہ وہ کتاب و سنت کو باطل اور بے اصل ٹھہرا دیں، لہٰذا یہی بدگو مجروح ہونے کے زیادہ مستحق ہیں یہ لوگ تو زندیق ہیں۔
امام ذہبیؒ اپنی مشہور کتاب الکبائر میں لکھتے ہیں:
4: من ذم اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بشیء وتتبع عثراتہم وذکر عیبا واضافہ الیہم کان منافقا الخ (صفحہ، 239)
ترجمہ: جس نے آنحضرتﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کسی نوع کی مذمت کی اور ان کی عیب جوئی اور لغزشوں کی تلاش کے پیچھے لگا رہا یا کسی عیب کا ذکر کر کے اس کی نسبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانب کر دی تو وہ منافق ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کا قول ان کے تلمیذ المیمونی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔
5: سمعت احمد یقول ما لھم ولمعاویۃ نسأل اللّٰہ العافیۃ وقال لی یا ابا الحسن اذا رأیت احدا یذکر اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بسوء فاتھمہ علی الاسلام (مقام صحابہ: صفحہ، 77)
ترجمہ: میں نے امام احمد رحمۃ اللہ سے فرماتے ہوئے سنا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی برائی کرتے ہیں ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر برائی سے کر رہا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔
حضرات ائمہ و محدثین کے ان اقوال کا حاصل یہی ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہانت، برائی اور ان کے اوپر طعن و تشنیع عظیم تر گناہ کبیرہ ہے، کسی مخلص سچے مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ رسولِ خداﷺ‏ کے مخلص و جاں نثار ساتھیوں کو ہدفِ ملامت اور نشانہ مذمت بنائے ایسی شنیع جسارت کوئی زندیق، منافق اور مشکوک الاسلام ہی کر سکتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ)
محقق ابنِ ہمامؒ اسلامی عقائد پر اپنی جامع کتاب مسایرہ میں لکھتے ہیں:
واعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ وجوبا باثبات العدالۃ لکل منہم والکف عن الطعن منہم والثناء علیہم (مقام صحابہ: صفحہ، 132)
ترجمہ: اور اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے لیے عدالت ثابت کرتے ہوئے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ کیا جائے، ان پر طعن سے باز رہا جائے اور ان کی تعریف کی جائے۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اس عقیدہ کی تصریح ان الفاظ میں کی ہے:
عن اصول اہل السنۃ سلامۃ قلوبہم والسنتہم لاصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (مقام صحابہ: صفحہ، 403)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کے اصول عقائد میں سے ہے کہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔
عقائد کی معروف کتاب شرح مواقف میں سید شریف جرجانی رقم طراز ہیں:
المقصد السابع انہ یجب تعظیم الصحابۃ کلہم والکف عن القدح فیہم لان اللّٰہ عظیم واثنیٰ علیہم فی غیر موضع فی کتابہم 
(عقیدہ سے متعلق یہ تینوں حوالے مقام صحابہ از مفتی محمد شفیعؒ سے ماخوذ ہیں)
صفحہ 6 از 7