مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 7
ترجمہ: سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر ان کا جو اس سے متصل ہیں، پھر ان کا جو اس سے متصل ہیں، راویِ حدیث کہتے ہیں مجھے یاد نہیں رہا کہ ثم الذین یلونہم آنحضرتﷺ‏ نے دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔
اس حدیث پاک سے متعین طور پر معلوم ہو گیا کہ عہدِ نبوی کے بعد سب سے بہتر زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ 
اصابہ کے مقدمہ میں مشہور شارحِ حدیث حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:
وتواتر عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم الخ  
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک متواتر ہے جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔
2: عن جابر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ اختار اصحابی علی الثقلین سوی النبیین والمرسلین، رواہ البزار بسند رجالہ موثقون
ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے میرے اصحاب کو انبیاء و مرسلین کے علاوہ تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔
یہ حدیث پاک اس بات پر نص ہے کہ تمام حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے منتخب و برگزیدہ ہیں، جماعتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد گروہ جن و انس میں سے کوئی بھی ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پا سکتا، شرفِ صحابیت ایک ایسا شرف ہے جس کے مقابلے میں ساری فضیلتیں ہیچ در ہیچ ہیں، اسی لیے حضرت سعید بن زید (یکے از عشرۂ مبشرہ) قسم کھا کر فرماتے ہیں:
واللّٰہ لشہد رجل منہم مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغبر فیہ وجہہ خیر من عمل احدکم ولو عمّر عمر نوح 
(جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 202)
ترجمہ: خدا کی قسم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی رسول اللہﷺ‏ کے ہمراہ کسی جہاد میں شرکت جس سے اس کا (صرف) چہرہ غبار آلود ہو جائے غیر صحابی میں سے ہر فرد کی عمر بھر کی عبادت و عملِ صالح سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر حضرت نوح علیہ السلام مل جائے۔
صحابی رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ‏ نے فرمایا:
3: اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ فیوشک ان یاخذہ 
(للترمذی جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201)
ترجمہ:  اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں میرے بعد ان کو (طعن و تشنیع) کا نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی اور جو اللہ کو ایذا پہنچانا چاہے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں پکڑ لے۔
آیت کریمہ فِىۡ بُيُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ۞ الخ (سورۃ النور: آیت 36) کی تفسیر میں امام قرطبیؒ نے آنحضرتﷺ‏ کی درج ذیل حدیث ذکر کی ہے جس سے حدیث بالا کی تائید ہوتی ہے۔
4: من احب اللّٰہ عزوجل فلیحبنی ومن احبنی فلیحب اصحابی ومن أحب أصحابی فلیحب القرآن ومن احب القرآن فلیحب المساجد الخ 
(الجامع لاحکام القرآن: جلد، 21 صفحہ، 266)
ترجمہ: جو اللہ سے محبت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ مجھ سے محبت رکھے اور جو مجھ سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ قرآن سے محبت رکھے اور جو قرآن سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ مساجد سے محبت رکھے۔
کوئی انتہا ہے حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رفعت مقام کا کہ سید المرسلین، محبوب رب العالمین، خلاصہ کائنات، فخرِ موجودات محمد رسول اللہﷺ‏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کو اپنی محبت بتا رہے ہیں اور ان سے بغض و عناد کو اپنے ساتھ بغض و عناد قرار دیتے ہیں، جس کے دل میں نبی کریمﷺ‏ کی ادنیٰ درجہ کی محبت بھی ہو گی وہ اصحابِ رسولﷺ‏ کی شان میں لب کشائی کی جرأت کر سکتا ہے؟ اور جب کہ آپﷺ‏ نے صاف فرما دیا ہو کہ دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور انھیں اپنے اعتراضات کا ہدف نہ بنانا۔
ایک حدیث میں آپﷺ‏ کا ارشاد ہے:  
لا تسبوا اصحابی فمن سبہم فعلیہ لعنۃ اللّٰہ والملائکۃ والناس اجمعین لا تقبل اللّٰہ منہ صرفا ولا عدلا 
(شرح الشفاء للملا علی قاری: جلد، 2 صفحہ، 755)
ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں:  
اذا رائیتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللّٰہ علی شرکم 
(الترمذی جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201)
ان حادیث پاک پر بطورِ خاص ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو مؤرخین کی گری پڑی روایتوں اور ان کے طبع زاد مفروضوں کو بنیاد بنا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاق و اعمال کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے یا اپنے بڑے بوڑھوں کے بارے میں قطعاً گوارہ نہیں کر سکتے تو کیا (نعوذ باللہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فروتر اور پست تھے؟ (العیاذ باللہ)
5: عن انس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مثل اصحابی فی امتی کالملح فی الطعام لا یصلح الطعام الا بالملح 
(مشکوٰۃ شریف بحوالہ شرح السنۃ: صفحہ، 554)
ترجمہ: حضور اکرمﷺ‏ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میرے اصحاب کی وہی حیثیت ہے جو نمک کی کھانے میں ہے کہ بغیر نمک کا کھانا پسندیدہ نہیں ہوتا۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح عمدہ سے عمدہ تر کھانا بے نمک کے پھیکا اور بے مزہ ہوتا ہے بعینہٖ یہی حال امت کا ہے کہ اس کی ساری صلاح و فلاح اور اس کا تمام تر شرف و مجد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت کا مرہون احسان ہے اگر اس جماعت کو درمیان سے الگ کر دیا جائے تو امت کے سارے محاسن و فضائل بے حیثیت اور غیر معتبر ہو جائیں گے۔
الحاصل اس حدیث میں واضح اشارہ ہے کہ امت مسلمہ کے دین کی صحت و درستگی کے لیے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال و اعمال حجت و سند اور معیار کا درجہ رکھتے ہیں۔
ان حادیث سے معلوم ہوا کہ
1: عہدِ نبویﷺ‏ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور سارے زمانہ سے بہتر ہے۔
صفحہ 5 از 7