مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 7
ترجمہ: جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر مفسر دہلویؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں، یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے (وغیرہ) ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں، ان کو (جنت و رضوانِ الہٰی) ملتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان یہی تھی کہ اللہ و رسولﷺ‏ کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی۔ الحاصل حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی آیت پاک کے مصداق اولین ہیں، چنانچہ امام قرطبیؒ، زمخشریؒ، حافظ ابنِ کثیرؒ وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس آیت کے تحت حضرت ابوعبیدہ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کے بے لوث مخلصانہ واقعات بیان کیے ہیں۔
اب اس قرآنی اطلاع کے برعکس تاریخ کی روایتیں یہ خبر دیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خدا اور رسولِ خداﷺ‏ کے مقابلے میں اپنے بیٹے عزیز و اقارب اور قبیلے و گھرانے کو اولیت دیتے تھے تو یہ روایتیں ساقط الاعتبار ہوں گی انھیں کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
5: وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت 7، 8)
ترجمہ: لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پُرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
یہ آیت ناطق ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر، گناہ اور نافرمانی سے نفرت و کراہیت من جانب اللہ راسخ کر دی گئی تھی اور الیکم میں حرف اِلیٰ سے مستفاد ہوتا کہ یہ ایمان کی محبت اور کفر و فسق سے نفرت انتہا درجے کو پہنچی ہوئی تھی، کیونکہ اِلیٰ عربی میں انتہا و غایت کے معنی بیان کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، نیز آیت پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو لغزشیں صادر ہوتی ہیں اس کی بنیاد ضعفِ ایمان اور فسق و عصین کا (نعوذ باللہ) استحسان نہیں، بلکہ بہ تقاضائے بشریت ان کا صدور ہو گیا ہے، جس سے ان کے رشد پر کوئی حرف نہیں آ سکتا، اس لیے ان کی معدودے چند لغزشوں کی بناء پر انھیں تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، چنانچہ علامہ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
ما ذکر عن الصحابۃ من السیئات کثیر منہ کذب و کثیر منہ کانوا مجتہدین فیہ لکن لا یعرف کثیر من الناس وجہ اجتہادہم ما قدر انہ کان فیہ ذنب من الذنوب لہم فہو مغفور لہم، امام بتوبۃ واما بحسنات ماحیۃ، و اما بمصائب مکفرۃ واما بغیر ذلک، فانہ قد قام الدلیل الذی یجب القول بموجبہ انہم من اہل الجنۃ، فامتنع ان یفعلوا ما یوجب النار لا محالۃ وإذا لم یمت احدہم علی موجب النار لم یقدح ذلک فی استحقاقہم للجنۃ 
(المنتقیٰ: صفحہ، 219، 220)
ترجمہ: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف جو برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر خود ساختہ ہیں اور ان میں بہت سی ایسی ہیں جن کو انھوں نے اپنے اجتہاد (سے حکمِ شرعی سمجھ کر) کیا، مگر لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ معلوم نہ ہو سکی اور جن کو گناہ ہی مان لیا جائے تو ان کا وہ گناہ معاف ہو گیا، یہ عفو و مغفرت یا تو توبہ کی بناء پر ہے یا ان کی (کثرت) حسنات نے ان گناہوں کو مٹا دیا، یا دنیاوی مصائب ان کے لیے کفارہ بن گئیں، علاوہ ازیں دیگر اسبابِ مغفرت بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ قرآن و سنت سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہو چکا ہے، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامہ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے، تو جب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی ایسی حالت میں وفات نہیں پائے گا جو دخولِ جہنم کا ذریعہ ہے تو اب کوئی چیز ان کے استحقاقِ جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و اخلاص، دیانت و عدالت پر اس قرآنی شہادت کے بعد کسی تاریخی مفروضہ کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسلام کو استسلام سے تعبیر کرنا ایمان بالقرآن سے میل کھاتا ہے؟ پرستارانِ تاریخ و دلدادگان سید قطب و طہٰ حسین کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس سے رشتہ توڑ رہے ہیں اور کس سے ناطہ جوڑ رہے ہیں۔
بقول دشمن پیمانِ دوست بشکستی
ببیں از کہ بریدی و باکہ پیوستی
قرآن مقدس کی مندرجہ بالا آیات بصراحت ناطق ہیں کہ
1: بغیر کسی استثناء کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں۔
2: سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے۔
3: جملہ اصحابِ رسولﷺ‏ آپس میں برادرانہ الفت و اخوت رکھتے تھے۔
4: سبھی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ و رسولﷺ‏ کے معاملے میں نسبی و قبائلی عصبیت سے بالکل پاک تھے۔
5: ہر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا دل ایمان و اخلاص کی محبت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانیوں سے متنفر تھا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام حدیث کی نظر میں:
کتابِ الہٰی کی ان واضح تصریحات کے ساتھ رسولِ خداﷺ‏ کے ارشادات بھی پیشِ نظر رکھیں تاکہ بات بالکل منقح ہو جائے اور کسی تاویلِ باطل سے آپ شکوک و شبہات میں گرفتار نہ ہوں۔
آنحضرتﷺ‏ کا پاک ارشاد ہے:
1: خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم، فلا ادری ذکر قرنین او ثلاثۃ الخ۔ 
(السنۃ الامالکا جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201 طبع الہند)
صفحہ 4 از 7