مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 7
جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے جب اس کے علم میں یہ بات آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو دوامی طور پر جنتی فرمایا ہے تو اب ان کے حق میں جتنے بھی اعتراضات ہیں سب ساقط ہو گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ فلاں بندہ سے فلاں وقت میں نیکی اور فلاں وقت میں گناہ صادر ہو گا اس کے باوجود جب وہ اطلاع دے رہے ہیں کہ میں نے اسے جنتی بنا دیا تو اسی کے ضمن میں اس بات کا اشارہ ہو گیا کہ اس کی تمام لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں، لہٰذا اب کسی کا ان مغفور بندوں کے حق میں لعن و طعن اور برا بھلا کہنا حق تعالیٰ پر اعتراض کے مرادف ہو گا، اس لیے کہ ان پر اعتراض اور زبانِ طعن دراز کرنے والا گویا یہ کہہ رہا ہے کہ پھر اللہ نے اسے جنتی کیسے بنا دیا۔ الخ 
(فضائل صحابہ و اہلِ بیت، مجموعہ رسائل: صفحہ، 206 مطبوعہ انجمن حمایت الاسلام لاہور، 1967ء)
اور علامہ ابنِ تیمیہ نے الصارم المسلول میں قاضی ابو یعلیٰ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفتِ قدیمہ ہے کہ وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھیں کے لیے فرماتا ہے جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات موجباتِ رضا پر ہو گی۔ 
(معارف القرآن: جلد، 8 صفحہ، 106) 
لہٰذا اگر کوئی تاریخی روایت اس نصِ قطعی کے خلاف ہو گی تو وہ لائقِ اعتناء نہ ہو گی۔
هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 62، 63)
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔ اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کر دی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال کا جو بازار گرم تھا اس سے کون ناواقف ہے، ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائلِ عرب باہم ٹکراتے رہتے تھے اور بسا اوقات ان کی قبائلی جنگوں کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا، باہمی عداوت اور شقاق و عناد کے اس دور میں رحمۃ للعالمین توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالم گیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے کیا دنیا کی کوئی طاقت تھی جو ان درندہ صفت، جہالت پسند لوگوں میں معرفتِ الہٰی اور حبِ نبویﷺ‏ کی روح پھونک کر سب کو ایک دم باہمی اخوت و الفت کی زنجیر میں جکڑ دیتی، بلاشبہ روئے زمین کے سارے خزانے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، یہ خدائی طاقت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ کل تک جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت و آبرو کے بھوکے تھے ان کے درمیان اس طرح سے برادرانہ اتحاد و اتفاق پیدا کر دیا کہ حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک دوسرے سے محبت و الفت کرنے لگے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس باہمی الفت و محبت کا ذکر سورۃ آل عمران میں اس طرح کیا گیا ہے:
وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ۞(سورۃ آل عمران: آیت 103)
ترجمہ: اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔
آیت مبارکہ میں: 
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌۞
(سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ 
بھی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی رحمت و الفت کی خبر دے رہی ہے۔
امام قرطبی اور عامۂ مفسرین لکھتے ہیں وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ میں بلا تخصیص تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داخل ہیں، اس آیت پاک میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپس میں رحیم اور مہربان اور فضلِ خداوندی کا طالب بتایا گیا ہے۔
ان نصوصِ قطعیہ کے برخلاف اگر تاریخی روایتیں یہ شہادت دیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں ذاتی پرخاش اور بغض و عناد رکھتے تھے تو یہ شہادتِ زور ہو گی جو کسی عدالت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے، رہا معاملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات اور آپسی لڑائیوں کا تو اس کا منشاء بغض و عداوت اور شقاق و عناد قطعی نہیں تھا، بلکہ اس میں ہر فریق اپنے نقطہ نظر اور اجتہاد کے مطابق مسلمانوں کی مصالح اور راہِ حق و رضائے الہٰی کے حصول میں کوشاں تھا، یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اپنے اجتہاد میں چوک گیا جس پر وہ قابلِ گرفت نہیں، بلکہ مستحقِ اجر ہے، چنانچہ علامہ سفارینی لکھتے ہیں:
التخاصم والنزاع والتقاتل والدفاع الذی جری بینہم کان عن اجتہاد قد صدر من کل واحد من رؤس الفریقین و مقصد سائغ لکل فرقۃ من الطَّائفتین وان کان المصیب فی ذلک للصواب واحدہما غیر ان للمخطی فی الاجتہاد اجرًا و ثوابًا (مقام صحابہ، صفحہ، 104)
ترجمہ: جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بناء پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا اگرچہ اس اجتہاد میں ایک ہی فریق صواب پر ہے۔ مگر اپنے اجتہاد میں خطا کر جانے والے کے لیے بھی اجر و ثواب ہے۔
4: لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ۞
(سورۃ المجادلة: آیت 22)
صفحہ 3 از 7