مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - دفاعِ اہلِ سنت |…

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 7
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں جو آیات وارد ہیں وہ قطعی ہیں، جو احادیث صحیحہ ان کے متعلق وارد ہیں وہ اگرچہ ظنی ہیں، مگر ان کی اسانید اس قدر قوی ہیں کہ تواریخ کی روایات ان کے سامنے ہیچ ہیں، اس لیے اگر کسی تاریخی روایت میں اور آیات و احادیث صحیحہ میں تعارض واقع ہو گا تو تواریخ کو غلط کہنا ضروری ہو گا۔ 
(مکتوبات شیخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 242 مکتوب، 88)
حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ تقدس و امتیاز کسی انسانی شخصیت و جماعت کا عطاء کردہ نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ رتبہ بلند خود مالکِ کائنات و خالقِ دوجہاں کے دربار سے مرحمت ہوا ہے، ذیل میں چند آیات ملاحظہ فرمائیں آپ پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکارا ہو جائے گی:
1: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 110)
ترجمہ: (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو انتم فرماتے اس وقت خطاب کی وسعت میں پوری امت مرحومہ براہِ راست داخل ہو جاتی، مگر اللہ تعالیٰ نے کنتم فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تخصیص فرما دی، اب رہے امت کے باقی لوگ تو وہ جیسے اعمال کریں گے وہ بھی ان کے تابع ہو کر اس خیریت و افضلیت کے مصداق ہو جائیں گے۔ 
(اخرجہ ابنِ جریر و ابوحاتم عن السدّی)
حضرت فاروق اعظمؓ نے آیت پاک کا مصداقِ اولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرار دیا ہے اور امت کے دیگر وہ افراد جو آیت پاک میں مذکورہ صفات کے حامل ہوں گے انھیں ثانوی درجہ میں شامل کیا ہے اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے یہ بات اس طرح سمجھائی ہے کہ أنتم خیر أمۃ جملہ اسمیہ ہے جو ثبوتِ نسبت کو بتاتا ہے، تو أنتم سے خطاب عام ہو گا جس کے عموم و وسعت میں موجود و غیر موجود سب داخل ہو جائیں گے، لیکن جب ضمیر أنتم پر کان فعل ماضی داخل کر دیا جائے تو وقوع و حدوث کا معنیٰ پیدا ہو جائے گا، اس صورت میں کنتم کے مخاطب صرف موجودین ہوں گے، یعنی نزولِ آیت کے وقت جو امت موجود ہے وہی اس کی مصداقِ اولین ہو گی، یہ آیت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ اصحابِ رسول اللہﷺ‏ بلا تخصیص جماعتِ انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں، علامہ سفارینی نے شرح عقیدۃ الدرۃ المضیئہ میں اسے جمہور امت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین افضل الخلائق ہیں، ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت امیر ِ معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز میں کون افضل ہے تو انھوں نے فرمایا: 
لا نعدل بأصحابہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم أحدًا 
(الروضۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ ابنِ تیمیہ: صفحہ، 405)
امام ابنِ حزم اپنی مشہور کتاب الفصل میں لکھتے ہیں:  
ولا سبیل الیٰ أن یلحق أقلہ درجۃ أحد من أہلِ الأرض  
ترجمہ: کوئی شکل نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کم رتبہ کے درجہ کو بھی کوئی (غیر صحابی) فرد بشر پہنچ سکے۔
اب اگر کسی تاریخی روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص لازم آتی ہو تو وہ اس نصِ قطعی کے معارض ہونے کی بناء پر لازمی طور پر مردود ہو گی۔
1: لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ ۞
(سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔ 
سورۃ الأنبياء میں الحسنیٰ کے متعلق ارشاد ہے: 
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓىۙ اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞
(سورۃ الأنبياء: آیت 101)
ترجمہ: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
اس آیت پاک سے معلوم ہوا کہ فرق مراتب کے باوجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں یہی بات سورۃ توبہ میں ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے۔
2: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞(سورۃ التوبہ: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دو طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک اولین سابقین کا اور دوسرا ان کے بعد والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ ان سب سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور ان کے لیے جنت کا مقامِ دوام ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: 
صفحہ 2 از 7