دراصل ایسے لوگوں کو غلط فہمی یہاں سے ہوتی ہے کہ وہ تقویٰ و عدمِ تقویٰ کے سلسلہ میں کتاب و سنت کے عام اصول کو تاریخی روایات کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ:
1: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت اور تقویٰ و طہارت خود کتاب وسنت ہی کی نصوص اور قطعی دلائل سے ثابت اور طے شدہ ہے جب کہ تاریخی روایات بہرحال اس درجہ معتبر اور قابلِ اعتماد نہیں ہو سکتیں۔
2: جیسے بعض قرآنی آیات اور شرعی نصوص متشابہات میں سے قرار دی گئی ہیں اسی طرح بعض تکوینی نظام بھی متشابہات ہی کا حصہ ہوتے ہیں جزی عقل اور ظاہری تحقیق و مطالعہ کے دائرے میں نہیں آ سکتے ایسے امور کو اللہ کے حوالے کر دینے اور اللہ أعلم کہہ دینے کا حکم ہے اور جو لوگ نا اہلی کے باوجود ایسے موضوعات کے درپے ہوتے ہیں قرآنِ کریم نے ان کے قلوب میں زیغ یعنی کھوٹ ہونے کی خبر دی ہے اور ان کو فتنہ یا فتنہ پرور قرار دیا ہے:
فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَةِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِيۡلِهٖ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِى الۡعِلۡمِ يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا الخ۔ (سورۃ آلِ عمران: آیت 7)
ترجمہ: تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنے کی تلاش اور اس کی تاویل کی غرض سے متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی اصل تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔
3: یہ افراد اور طبقات ایک غلط بلکہ باطل اصول پر چلتے ہیں وہ یہ کہ ان کے نزدیک تنقید سے بالا تر کوئی نہیں کچھ لوگ کہتے ہیں جب ایسا ہے تو کہا جائے گا کچھ لوگ اس کو آزادی اظہار رائے کا حصہ مانتے ہیں۔
حالانکہ اہلِ حق کے نزدیک یہ سب اصول اہلِ باطل کے ہیں جن کو موجودہ ہیومنزم (انسانیت جدت پسندی نیچریت) سے مزید کمک مل گئی ہے یہ باطل اصول اجتہادی غلطی کا حصہ نہیں بلکہ کھلی ہوئی گمراہی اور جادہ حق سے انحراف کے دائرے میں آتے ہیں جس میں شعائر اللہ کی بے حرمتی ہوتی ہے جس میں غیبت بہتان اور الزام تراشی پائی جاتی ہے جس میں بڑوں اور بزرگوں کی بے ادبی اور بے احترامی لازم آتی ہے اپنی شرعی اور عرفی حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔
اہلِ حق کے نزدیک شعائر اللہ کی تعظیم واجبات دین میں سے ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شعائر دین کا اہم ترین حصہ اور اللہ و رسول کے بعد سب سے مقدس ترین افراد ہیں۔
اہلِ حق کے نزدیک یہ اصول تو ضرور ہے کہ اللہ کے رسولوں اور پیغمبروں کے علاوہ کوئی ایسا بشر نہیں ہے جس کی کسی بات سے شرعی اصول کی روشنی میں اختلاف کرنے کی گنجائش نہ ہو اور جس سے خطاء اور لغزش کا امکان نہ ہو مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہرکس و ناکس کو علمی فکری اور دینی مسائل میں دخل دے کر اظہار رائے کی آزادی دے دی جائے یا کسی فروعی اور جزوی غلطی کی وجہ سے اکابر امت اور ائمہ دین کی شان میں بد تمیزی اور گستاخی جائز کر دی جائے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ سے ثابت شدہ اور جمہور امت کے نزدیک طے شدہ اصولوں کو تسلیم کرنا پھر ان کو حالات و افراد پر منطبق کرنا یہ اہلِ حق کا طریقہ ہے مطلوبہ صلاحیت اخلاص تقویٰ اور علم و فہم کے ہوتے ہوئے اس کوشش میں اتفاقی غلطی کا پیش آ جانا اجتہادی خطا کہلاتا ہے۔
اس کے برعکس جمہور امت کے نزدیک مسلمہ اصولوں کو ہی تسلیم نہ کرنا اور اپنی عقل یا کسی اور قوم کے افکار کے زیرِ اثر دین میں رائے دینا یہ تحریف اور دینی انحراف کہلاتا ہے اور اگر یہ مرعوبیت جدید مغربی افکار اور سائنسی اصولوں سے پائی جائے تو یہی جدیدیت یا جدت پسندی کہلاتی ہے۔