اشکال اور اس کا جواب - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اشکال اور اس کا جواب

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو، یا کوئی شیعہ اپنے اوپر سے اس الزام کو رد کرتے ہوئے یوں کہے: کہ شیعہ حضرات تو اس موجودہ قرآن کو پڑھتے پڑھاتے اور اسی کو قرآن کہتے ہیں۔

جیسا کہ پروفیسر غلام صابر صاحب نے بھی اپنے طبقہ سے سوال کیا ہے: کیا ہمارے بچے قرآنِ مجید اور ابتدائی دینی معلومات مکتبِ تشیع سے حاصل کر رہے ہیں یا غیروں سے؟ (صفحہ، 6)

جب شیعہ حضرات اسی قرآن کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ قرآن ان کے نزدیک اصلی نہیں ہے؟

اس اشکال کا حل بھی خود ان کے علماء نے کر دیا ہے کہ جب تک اصلی قرآن نہیں آتا، اس وقت تک یہی موجودہ قرآن ہی پڑھتے پڑھاتے رہیں۔ چنانچہ ان کے عالم مولوی مقبول احمد دہلوی اپنے ترجمہ قرآن میں لکھتے ہیں: ہم اپنے امام کے حکم سے مجبور ہیں کہ جو تغیر یہ لوگ کر دیں تو اس کو اسی حال پر رہنے دو، اور تغیر کرنے والے کا عذاب کم نہ کرو۔ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو اصل حال سے مطلع کر دو۔ قرآنِ مجید کو اس کی اصلی حالت پر لانا جنابِ صاحب العصر علیہ السلام کا حق ہے، اور انہی کے وقت میں وہ حسبِ تنزیلِ خدائے تعالیٰ پڑھا جائے گا۔  

(حاشیہ ترجمہ مقبول: صفحہ479) اور شیعہ حضرات کی اصولی کتاب اصولِ کافی میں ہے:  

قَرَأَ رجل عَلَىٰ أَبِی عَبدِاللّٰهِ عَلَيهِ السَّلَامُ وَأَنَا أَستَمِعُ حُرُوفًا مِنَ القُرآنِ لَيسَت عَلَىٰ مَا يَقرَؤُهَا النَّاسُ، فَقَالَ أَبُو عَبدِاللّٰهِ عَلَيهِ السَّلَامُ: كُفَّ عَن هَذِهِ القِرَاءَةِ، وَاقرَأ كَمَا يَقرَأُ النَّاسُ، حَتَّىٰ يَقُومَ القَائِمُ، فَإِذَا قَامَ القَائِمُ قَرَأَ كِتَابَ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ عَلَىٰ حَدِّهِ  

(اصولِ کافی: جلد2 صفحہ633 مطبوعہ تہران)

ترجمہ: ایک شخص نے ابو عبداللہ، یعنی سیدنا جعفر صادقؒ کے سامنے قرآنِ کریم پڑھا جس کے الفاظ ایسے تھے جو اس قرآن میں نہیں جسے لوگ پڑھتے ہیں۔ تو ابو عبداللہ نے فرمایا: اس قرأت سے رک جاؤ اور اس طرح پڑھو جیسے لوگ پڑھتے ہیں، یہاں تک کہ القائم (امام مہدی) کا ظہور ہو جائے۔ پس جب ان کا ظہور ہو گا تو وہ اللہ کی کتاب کو اس کے صحیح طریقے کے مطابق پڑھیں گے۔

پروفیسر صاحب یا ان کے طبقہ کا جو نظریہ ہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہم تو ان سنی مسلمانوں سے درخواست کرتے ہیں جو پروفیسر صاحب کی کتاب پڑھ کر وضو سے متعلق مسائل میں کسی غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں، یا وہ اپنے شیعہ دوستوں کی بعض باتوں سے متاثر ہو گئے ہیں، کہ وہ غور کریں کہ پروفیسر صاحب کس طرح اپنے طبقہ کو امام مہدی کے استقبال کی تیاری کی ترغیب دے کر اپنے مذہب کا پرچار کر رہے ہیں۔