امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں شیعہ حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ امام مہدی وہ ہیں جو 255 یا 256 ہجری میں پیدا ہوئے۔ جن کا نام محمد اور والد کا نام امام حسن عسکری ہے۔ اور وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ وہ حاکمِ وقت معتمد بن متوکل عباسی کی طرف سے قتل کیے جانے کے خوف سے عراق میں ایک غار سر مَن رَأى میں چھپ گئے۔ ابتدا میں تقریباً 75 سال تک ان کے بارے میں بعض حضرات کو علم تھا۔ اس دور کو غیبتِ صغریٰ کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد غیبتِ کبریٰ کا زمانہ شروع ہوا۔ یعنی اس وقت ان کے ٹھکانے کا کسی کو علم نہیں ہے۔ اور قیامت کے قریب ان کا ظہور ہو گا۔ شیعہ حضرات نے اپنے امام مہدی کے ظہور کے بعد ان کے ہاتھوں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امہات المؤمنینؓ کی شان میں گستاخی کے جن اعمال کا ذکر کیا ہے، اس سے سنی مسلمانوں کے جذبات کا بھڑکنا عین غیرتِ ایمانی ہے۔ اس لیے ان اعمال کو یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور شیعہ حضرات کے نزدیک امام مہدی غار میں چھپتے وقت اپنے ساتھ قرآن بھی لے گئے تھے، جسے شیعہ حضرات اصلی قرآن کہتے ہیں۔ اور شیعہ حضرات کے نزدیک جب دنیا میں اصحابِ بدر کی گنتی کے مطابق 313 مخلص مؤمن اور ساتھی جمع ہو جائیں گے تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان کا معاملہ ظاہر کرے گا۔
تفصیل کے لیے دیکھیں:
(الاحتجاج طبرسی: صفحہ 230 طبع ایران)
شیعہ عالم نوری طبرسی قرآن کے متعلق بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَهُوَ عِندَ الحُجَّةِ عَجَّلَ اللّٰهُ فَرَجَهُ، يُظهِرُهُ لِلنَّاسِ بَعدَ ظُهُورِهِ وَيَأمُرُهُم بِقِرَاءَتِهِ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِهَذَا القُرآنِ المَوجودِ
(فصل الخطاب: صفحہ121 دلیل 4)
ترجمہ: اور وہ قرآن الحجۃ (امام مہدی) کے پاس ہے اللہ تعالیٰ اس کی مشکل جلدی آسان کرے وہ اس قرآن کو لوگوں کے سامنے اپنے ظہور کے بعد ظاہر کریں گے اور اس کی تلاوت کا حکم دیں گے اور وہ اس موجودہ قرآن کے خلاف ہے۔ اور شیعہ حضرات کی اصولِ اربعہ میں سے مرکزی کتاب اصولِ کافی میں ہے:
وَاللّٰهِ مَا فِيهِ مِن قُرآنِكُم حَرفٌ وَاحِدٌ
(اصولِ کافی: جلد1 صفحہ239 طبع ایران)
ترجمہ: اللہ کی قسم! اس (امام مہدی کے پاس جو قرآن ہے) میں تمہارے اس قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔
شیعہ حضرات کے نزدیک اصل قرآن وہ ہے جو ان کے بقول امام مہدی کے پاس ہے، اور موجودہ قرآن ان کے نزدیک اصلی نہیں ہے۔