پروفیسر غلام صابر صاحب لکھتے ہیں کہ شیعہ حضرات چہرے اور ہاتھوں کو وضو میں اوپر سے نیچے دھوتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت نیچے سے اوپر کو دھوتے ہیں۔ (صفحہ11)
اس پر پروفیسر صاحب آگے لکھتے ہیں: کہ احتیاطِ واجب کی بناء پر چہرے اور ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہیے۔ اگر نیچے سے اوپر دھویا جائے تو وضو باطل ہے۔ (صفحہ13)
پروفیسر صاحب نے شیعہ حضرات کا نظریہ یہ بتلایا کہ ان کے نزدیک چہرے کو نیچے سے اوپر کی جانب دھونے سے وضو باطل ہو جاتا ہے، مگر انہوں نے اس طریقہ سے وضو کے باطل ہونے کی کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی۔ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک چہرے کو اوپر سے نیچے دھونا مستحب ہے۔ جیسا کہ خود پروفیسر صاحب نے امام نووی رحمۃ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے:
چہرہ دھوتے وقت اوپر سے نیچے دھونا مستحب ہے، اس لیے کہ یہ حصہ اشرف ہے اور استیعاب کے زیادہ قریب ہے۔ یعنی چہرے کو دھونے میں مکمل طور پر گھیر لینے کے زیادہ قریب ہے۔
(نووی، شرح مسلم: جلد1 صفحہ123)
غلط ترجمہ: امام نوویؒ کا یہ حوالہ دے کر ترجمہ کرتے ہوئے جناب پروفیسر صاحب سے یا تو کوئی غلطی ہوئی ہے، یا انہوں نے جان بوجھ کر غلط ترجمہ کر کے مطلب برآری کی کوشش کی ہے۔ اس لیے کہ امام نوویؒ کی اس عبارت میں الفاظ ہیں:
وَلِأَنَّهُ أَقرَبُ إِلَى الاستِيعَابِ
جس کا معنیٰ ہے: اور اس لیے کہ یہ طریقہ استیعاب کے زیادہ قریب ہے۔ مگر پروفیسر صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے: اور فطرت کے موافق ہے۔ (صفحہ، 28) حالانکہ وَلِأَنَّهُ أَقرَبُ إِلَى الاستِيعَابِ کا ترجمہ فطرت کے موافق ہے کرنا بالکل غلط ہے۔
اہلِ سنت کے نزدیک چہرہ دھوتے وقت اوپر سے نیچے دھونا مستحب ہے۔ اگر کسی نے نیچے سے اوپر کی جانب دھویا تو استحباب کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے اس کے ثواب میں تو کمی ہو گی، مگر وضو باطل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس حالت میں وضو کے باطلان پر کوئی صریح اور واضح دلیل موجود نہیں ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ حدیث میں آتا ہے کہ وضو کرتے وقت پانی کے نیچے گرنے کے ساتھ اس عضو کے گناہ جھڑ جاتے ہیں جسے دھویا جاتا ہے، تو چہرے کو اوپر سے نیچے کو دھویا جائے یا نیچے سے اوپر کو دھویا جائے تو ہر حالت میں پانی کے قطرات نیچے ہی گرتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ اوپر سے نیچے دھویا جائے تو پانی کے قطرات نیچے گرتے ہیں، اور اگر نیچے سے اوپر دھویا جائے تو نہیں گرتے۔ یہ بات تو معمولی عقل والا بھی جان سکتا ہے۔ اس لیے اہلِ سنت کے نظریے اور عمل کو اس حدیث کے مخالف قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ان کا عمل اس حدیث کے مطابق ہی ہے۔