خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

رہا دیہاتیوں اور عجم کے قرآن پڑھنے کا معاملہ، تو نمایاں شکل میں اسلامی معاشرہ میں لوگوں کا ایک طبقہ وجود میں آیا، جنھوں نے ثواب کی رغبت سے قرآن کو نہیں سیکھا تھا بلکہ خلیفہ کی طرف سے جو مال ترغیب و تشجیع کے طور پر قرآن پڑھنے والوں پر خرچ ہوتا تھا اس کو سمیٹنے کے لیے قرآن پڑھا۔

(الوثائق السیاسیۃ فی العہد النبوی و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 392)

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تغیر اور تبدیلی خلافت اسلامی کے دیگر اطراف میں بھی شروع ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ دارالخلافہ مدینہ طیبہ میں پہنچنے لگی، جس کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ نے لوگوں کو اس سے متنبہ کرنے کے لیے خطاب کیا۔ آپ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے تمھیں دنیا اس لیے دی ہے کہ تم اس سے آخرت طلب کرو، اس لیے نہیں عطا کی ہے کہ تم اسی کے ہو کر رہ جاؤ، یقیناً دنیا فنا ہو جائے گی اور آخرت باقی رہے گی۔ یہ فانی دنیا تمھیں کبر و غرور میں مبتلا نہ کرے، اور تمھیں باقی رہنے والی آخرت سے غافل نہ کرے اللہ کی نعمت سے ڈرو اور اپنی جماعت کو لازم پکڑو اور گروہ بندی کا شکار ہو کر مختلف ٹولیوں میں بٹنے سے بچو۔‘‘

(احداث واحادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 567) 

پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَاكَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞ (سورۃ آل عمران آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔

ان حالات میں جب کہ مال و دولت کی ریل پیل ہوئی، دنیا مسلمانوں کے قدموں میں آ گئی، لوگ فتوحات سے فارغ ہوئے اور اطمینان کی سانس لینے لگے، تو اپنے خلیفہ کو ناپسند کرنے لگے، اور اسی پر ہی اعتراضات شروع کر دیے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 362)

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فتنہ کی تحریک میں خوش حالی کا کس قدر اثر رہا، اور اس سے حضرت عثمان غنیؓ کی اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے جو انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے کہی تھی جب وہ باب (باب آذربیجان کی سمت میں ایک علاقہ کا نام ہے جس کو در بند کہا جاتا ہے۔ معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 303) میں تھے: 

’’یقیناً رعایا میں بہت سے لوگوں کو شکم سیری نے ناشکرا بنا دیا ہے، لہٰذا انہیں روکے رکھو، مسلمانوں کو لے کر آگے نہ بڑھو، مجھے ڈر ہے وہ آزمائش سے دوچار نہ ہو جائیں۔‘‘

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 361)

دنیا کی فراوانی کے بعد مسلمانوں کو وعظ کرتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے آخری خطاب میں فرمایا تھا: تمھیں فنا ہونے والی دنیا کبر و غرور میں مبتلا نہ کر دے اور تمھیں باقی رہنے والی آخرت سے غافل نہ کر دے زمانہ کے بدلے ہوئے حالات سے ہوشیار رہو، جماعت کو لازم پکڑو، مختلف ٹولیوں اور فرقوں میں تقسیم نہ ہو۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 362) 


صفحہ 2 از 2