خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنگ دستی اور فقر و فاقہ دیکھتے تو انہیں صبر دلاتے اور بتلاتے کہ یہ صورت حال طول نہیں پکڑے گی، دنیا کے خزانے ان پر کھلیں گے ساتھ ہی ساتھ عمل صالح اور جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ کر اس دنیا میں مشغول ہو جانے سے منع فرماتے، تاکہ یہ انہیں دنیا اور اس کے متاع زائل کی خاطر قتال و خونریزی تک نہ پہنچائے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 559)

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس نبوی انتباہ کو صحیح طور سے سمجھا تھا، اسی لیے آپ کی سیاست تھی کہ مسلمانوں کو مال و زخارف دنیا کے فتنہ سے محفوظ رکھا جائے اس لیے آپ نے مسلمانوں کو بلاد عجم میں توسع سے منع فرمایا، اگر اس توسع میں دیگر مصالح راجحہ ظاہر نہ ہوتے تو یہ ممانعت قائم رہتی، لیکن پھر بھی آپ نے اکابرین صحابہؓ، مہاجرین و انصار جو مدینہ میں تھے انہیں اجازت نہ دی بلکہ ان کے حق میں ممانعت باقی رہی۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 565)

 اور بلاشبہ حضرت عمر فاروقؓ نے جو کچھ کیا وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کو اس بات کا شدید احساس اور خوف تھا کہ مسلمان اگر بلادعجم میں پھیلے، جو مال و متاع سے پر ہے تو ان کے دلوں پر دنیا کا قبضہ ہو جائے گا اور یہ ان کی آخرت کو برباد کر دے گا۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 565)

پھر جب حضرت عثمان غنیؓ کا دورِ خلافت آیا، تو مشرق و مغرب میں فتوحات کا اضافہ ہوا، مال غنیمت وغیرہ کی بیت المال پر بارش ہونے لگی، اور لوگوں کے ہاتھ مال و دولت سے بھر گئے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 566)

یہاں اشارہ کی چنداں ضرورت نہیں کہ اس مال و دولت اور فتوحات کی آمدنی کا معاشرہ پر کیا اثر مرتب ہو گا، خوشحالی ہو گی لوگ دنیا میں مشغول ہوں گے اس کا فتنہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ خاص کر دیہات کے اجڈ بدو، فتوحات میں اسلام لانے والے، خوشحال اقوام کی اولاد جنھوں نے دنیا کی رنگینیوں میں ایک طویل عرصہ گزارا تھا اور اس کو مقصدِ حیات تصور کرتے تھے، ایمان نے ابھی ان کے نفوس کو صیقل نہیں کیا تھا، اور تقویٰ صحیح معنیٰ میں ان کے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا تھا، اور ابھی ان کی مکمل تربیت بھی نہ ہو سکی تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس صورت حال کا اندازہ لگا لیا تھا، اسی لیے رعایا کے نام اپنے پیغام میں تغیر و تبدل کے ان خطرات سے آپ نے لوگوں کو آگاہ کیا تھا:

’’جب تین چیزیں تمہارے اندر جمع ہو جائیں تو پھر امت بدعت کی طرف بڑھے گی:

1: نعمتوں کی فراوانی

2: جنگی لونڈیوں کی بلوغت

3: دیہاتیوں اور عجم کا قرآن پڑھنا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 245)

نعمتوں کی فراوانی سے متعلق حضرت حسن بصری رحمۃاللہ بیان کرتے ہیں کہ معاشرہ کی حالت، مال و دولت کی فراوانی اور لوگوں کے کبر و غرور اور عدم شکر کے عینی شاہد ہیں: میں نے حضرت عثمان غنیؓ کا دور پایا، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں ان میں مال تقسیم نہ ہو، اعلان کیا جاتا مسلمانو! آؤ اپنے عطیات لے جاؤ، پھر اعلان ہوتا آؤ گھی اور شہد لے جاؤ، عطیات جاری تھے، روزینہ فراوانی سے ملتا تھا، دشمنی و عداوت نہ تھی آپس میں تعلقات استوار تھے، خیر کثیر تھا اور دوسری بات یہ کہ تلواریں مسلمانوں کے سلسلہ میں میان بند تھیں، پھر لوگوں نے اپنوں کے خلاف تلواریں کھینچ لیں جو آج تک کھنچی ہوئی ہیں، اور اللہ کی قسم میرا خیال ہے قیامت تک اب کھنچی رہیں گی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 224)

اور رہی بات جنگی لونڈیوں سے مسلمانوں کی اولاد کی بلوغت کی، تو اس کا اندازہ اس صورت حال سے ہوتا ہے جو ان کی فراخی و خوش حالی کو پہنچ چکی تھی۔ مدینہ میں جب دنیا کے مال و متاع کی بہتات ہوئی تو سب سے پہلی برائی جو ظاہر ہوئی وہ کبوتر بازی اور غلیل بازی تھی۔عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے آٹھویں سال بنو لیث کے ایک شخص کو اس برائی کو مٹانے کے لیے عامل مقرر فرمایا، جو لوگوں کو اس سے روکتا، اور ان کی غلیلیں توڑ دیتا تھا۔ 

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 415)

اور نبیذ نوشی سے نشہ پھیلنا شروع ہوا، حضرت عثمان غنیؓ نے ایک شخص کو مقرر فرمایا جو عصا لے کر گھومتا تھا، اور لوگوں کو اس سے روکتا تھا، اور جب یہ زیادہ ہوا تو حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے یہ قضیہ رکھا، پھر انہوں نے بالاجماع یہ طے کیا کہ جو نبیذ پیے اس کو کوڑے لگائے جائیں۔ لہٰذا جو پکڑے جاتے ان کو کوڑے لگائے جاتے پھر حضرت عثمان غنیؓ جو بھی برائی میں پکڑا جائے یا ہتھیار نکالے اس کو مدینہ سے جلاوطن کر دینے لگے، اس کی وجہ سے ان کے والدین چیخ اٹھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 416)

حضرت عثمان غنیؓ نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: لوگوں کی کوتاہیوں اور غلطیوں کی رپورٹ مجھ کو پہنچتی ہے، میں فتنہ کا دروازہ کھولنے والا نہیں ہوں میں نے اپنے نفس کو نکیل دے رکھی ہے اور اس کو لگام سے کس دیا ہے، میں اس کو اسی نکیل کے ساتھ چلاتا ہوں اور اسی لگام سے روکتا ہوں میری طرف سے تمہارے لیے رسی کا ایک سرا ہے لہٰذا جو میرے پیچھے چلے گا اس کو میں معروف پر چلاؤں گا اور جو میرے پیچھے نہ چلے وہ اس معروف سے ہٹ جائے گا اور خود اپنا ذمہ دار ہو گا۔ خبردار! ہر نفس کے لیے قیامت کے دن ایک ہنکانے والا اور ایک گواہ ہو گا، ہنکانے والا اس کو اللہ کے حکم پر لے کر چلے گا اور شاہد اس کے اوپر اس کے عمل کی گواہی دے گا، تو جو اللہ کا طلبگار ہے وہ خوش ہو جائے اور جو دنیا کا طلبگار ہے وہ ناکام و نامراد ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 361)

اس طرح خلیفہ راشد اور تقویٰ و طہارت کے پیکر حضرت عثمان غنیؓ نے جب اپنی ذمہ داری اور فرائض کو ادا کیا، اور آپ کی یہ کارروائیاں اغنیاء کی اولادوں کے خلاف تعزیری ٹھہریں جو اخلاقی بگاڑ و فساد کا شکار ہو رہے تھے تو یہ منحرفین ان شور و غل کرنے والے گھٹیا لوگوں کے ساتھ معترضین میں شامل ہو گئے۔

صفحہ 1 از 2