قولِ فیصل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

قولِ فیصل

  محمد ظفر اقبال

آخر میں حضرت مجدد الفِ ثانیؒ کا ایک قول بطورِ قولِ فیصل نقل کر رہا ہوں جس میں حضرت مجددؒ نے وضاحت کر دی ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک خطائے اجتہادی مُسلّم ہے:  

وَ كتُب الْقَوْمِ مَشْحُونَةٌ بِالْخَطَاءِ الْاجْتِهَادِی كَمَا صَرَّحَ بِهِ الْإِمَامُ الْغَزَالِی وَالْقَاضِی أَبُو بَكْرٍ وَغَيْرُهُمَا پس تفْسیق و تضلیل در حق محاربان حضرت امیر جائز نباشد 

(مکتوباتِ امام ربانی: دفتر اول مکتوب 251)

ترجمہ: اور قوم (یعنی علمائے اہلِ سُنت) کی کتابیں خطائے اجتہادی کے اقوال سے بھری ہوئی ہیں، جیسا کہ امام غزالیؒ اور قاضی ابوبکر باقلانیؒ کی تصریحات سے واضح ہے پس سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کو فاسق یا گمراہ قرار دینا جائز نہیں ہے۔

اب اس کے بعد کچھ مزید لکھنے کی گنجائش نہیں، ہاں مصنف کو انہی کی نصیحت سنانا چاہتا ہوں:  

جب کسی بات کو معقول انسانوں کی بڑی جماعت تسلیم کر لے یا اسے صحیح کہہ دے، تو دو چار کم فہموں کا اختلاف کسی تصنیف و تالیف کے مرتبہ و مقام پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

(نام و نسب: صفحہ457)